میرے دیس میں گنگا الٹی بہتی ہے

بلاگ
ظفر سجاد


ریاست کی مضبوطی کا تمام تر دارومدار عوام کی خوشحالی پر منحصر ہوتا ہے۔ جس ریاست میں عوام کی خوشحالی اور آسودگی کی جانب توجہ نہیں دی جاتی وہ ریاستیں کسی نہ کسی وقت اپنا وجود ہی کھو بیٹھتی ہیں۔ عوام کی اقتصادی و معاشی حالت بہتر نہ ہو تو وہ بد دلی کا شکار ہو جاتی ہے۔ عوام کی بددلی ریاست کے وجود کے لئے ہی خطرہ بن جاتی ہے۔ نظریہ کتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو منزل کتنی ہی دلفریب کیوں نہ نظر آرہی ہو۔ مفلوک الحال عوام ریاست کے لئے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار نہیں ہوتی، عوامی سطح پر فکر کے سوتے خشک ہو جاتے ہیں اور یہ روّیہ اور رجحان بھی انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
روز اوّل سے لے کر آج تک ہر بیدار مغز حکمران کو اس حقیقت کا ادراک بھی تھا اور انہوں نے عوام کی خوشحالی کے لئے عملی کوششیں اور انتھک اقدامات بھی کئے۔ ان حکمرانوں نے اپنی سپاہ کو بھی عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے استعمال کیا۔ دوسرے ملکوں پر لشکر کشی کی۔ مفتوحہ ریاستوں سے مال و زر لوٹ کر اپنی عوام کی ترقی و خوشحالی پر خرچ کیا۔ اپنی عوام کو معیار زندگی بلند کیا۔ اپنی ریاست میں ایسے منصوبے شروع کئے کہ عوام کو روزگار کے مواقع میسر آتے رہے۔ ان حکمرانوں نے عالیشان باغات، قلعے، محل، سڑکیں اور دوسری عمارات تعمیر کروائیں کہ عوام کو روزگار میسر آئے۔ عدل و انصاف کی بنیاد پر ان حکمرانوں نے مضبوط ریاستوں کی بنیاد رکھی۔ ملکی ترقی کے عمل میں عوام کی بے لوث خدمات اور دلی تعاون حاصل کیا۔
یہ حکمران اپنی عوام کی خوشحالی کے لئے دور رس پالیسیاں بناتے تھے۔ دوسرے ملکوں پر لشکر کشی اور فتوحات کے ذریعے جہاں مال و زر حاصل کرکے عوام پر خرچ کرتے تھے وہاں ان ممالک سے ہنر مندا ور علماءکرام بھی اپنی ریاست میں لاتے تھے یہ کہ ان کی ریاست کو ترقی حاصل ہو۔
ماضی کی تمام کامیاب ریاستوں کی کامیابی میں صرف یہی پہلو ہی یکساں نظر آتا ہے۔ موجودہ دور میں امریکہ اور کئی یورپین ممالک ایسی پالیسی پر عملدرآمد کر رہے ہیں ۔ آج امریکہ نے پوری دنیا پر یلغار کی ہوئی ہے۔ مڈل ایسٹ میں امریکی سازشوں کے تانے بانے اس حد تک مضبوط ہو چکے ہیں کہ ان ممالک کی اپنی فکر یا سوچ ہی باقی نہیں رہی۔ بظاہر یہ ریاستیں آزاد ہیں مگر وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان ریاستوں کا سرمایہ امریکی بنکوں میں جمع ہے۔ اس سرمائے سے امریکہ کی ترقی کے لئے کام ہو رہا ہے۔ عوام کی خوشحالی کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے۔ امریکہ دنیا کی سب سے مضبوط معیشت ہے۔ سرمائے کی فراوانی کی وجہ سے دنیا بھر کے ہنر مند، سائنس دان، ڈاکٹر ، انجینئر اور ذہین انسان امریکہ کا رخ کر رہے ہیں۔ ان ذہین افراد سے ان کی صلاحیتیں خریدنے کے عوض بہترین معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ وہ ہنسی خوشی پوری یکسوئی سے اپنی صلاحیتوں کا فائدہ امریکہ کو پہنچا رہے ہیں۔ آج امریکہ خاصی مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے۔ دوسرے ترقی یافتہ ممالک نے بھی اسی پالیسی کو اپنایا ہوا ہے۔ اپنی عوام کی تمام تر حب الوطنی ، وفاداری تو یہ حکومتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتی ہیں مگر اچنبھے کی بات یہ ہے کہ باہر سے آنے والے افراد بھی ان ریاستوں کے ساتھ اپنی بے لوث وفاداری کا ثبوت دیتے ہیں۔ ان ممالک نے یہ پالیسی بنائی ہوئی ہے کہ ان کی ریاست میں آنے والے ہر فرد کو وہ عزت و احترام اور سہولیات میسر ہوں گی کہ جو ان کی اپنی عوام کو میسر ہوتی ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ان کی وفاداری غیر متزلزل اور پائیدار ہونی چاہئے۔ امریکہ اور یورپ کے تمام دانشور اس نقطے پر متفق رہے ہیں کہ ریاست کو حکمران نہیں عوام مضبوط بناتے ہیں۔ حکمرانوں کا کام صرف ایسی پالیسیاں ترتیب دینا ہوتا ہے کہ جو عوامی مفادات میں ہوں اور عوامی مفادات کا پہلا زینہ عوام کی اقتصادی و معاشی ترقی ہے۔ عوام کو ذریعہ معاش اور روزگار کی جانب سے مطمئن کرنا ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس کے بعد عوام کو تمام سہولیات میسر کرنا ریاست کی دوسری بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عوام کو انصاف اور تحفظ فراہم کرنا ریاست کی تیسری ذمہ داری ہے۔ بیرونی قوتوں سے محفوظ رکھنا چوتھی ذمہ داری ہے۔ عوام کے شعور اور فہم کو ترقی دینا پانچویں ذمہ داری ہے۔
جن ریاستوں کے حکمران ریاست اور عوام سے مخلص ہوتے ہیں وہ اپنی عوام کے شعور، فکر اور فہم کو ترقی دینے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک اپنے مفادات کا تحفط نہیں بلکہ ریاست کا مفاد اولین ترجیح ہوتا ہے۔ وہ اس نقطے کو سمجھتے ہیں کہ ریاست کے مفادات کا تحفظ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ریاست سنبھالنے کے لئے اگلی ٹیم تیار ہو بلکہ یہ کام تسلسل میں ہو رہا ہو۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ عوام کی فکر اور فہم میں ہر لمحہ وسعت بھی پیدا ہو رہی ہو اور ترقی بھی ہو رہی ہو ۔ ایسے حکمران فنون لطیفہ کی نہ صرف حوصلہ افزائی اور قدر کرتے ہیں بلکہ فنون لطیفہ کی ترقی میں اپنا کردار بھی سرانجام دیتے ہیں۔
جبکہ ایسے حکمران جنہیں ریاست یا عوام کی بجائے صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں فکر و فہم کو دبانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں انہیں احساس ہوتا ہے کہ عوامی شعور کی بیداری سے وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ یہ رجحان ریاست کو اندرونی طور پر مکمل کھوکھلا کر دیتا ہے۔ بیدار مغز حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے لشکروں کو بیرونی جارحیت سے بچانے کے لئے یا بیرونی یلغار کے لئے استعمال کیا۔ اندرون ملک نظم و نسق دوسرے اداروں کے ذریعے قائم رکھا۔ چنانچہ ان ریاستوں نے بہت ترقی کی ۔
دنیا کی تاریخ میں مخلص حکمرانوں نے دوسری ریاستوں پر لشکر کشی کرکے خزانے لوٹے اور اپنی ریاست اور عوام پر خرچ کئے اپنی عوام کا معیار زندگی بلند تر کیا جبکہ پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ یہاں کے بااثر افراد اور حکمرانوں نے375ارب ڈالر (تقریبا 400 کھرب روپے) پاکستان سے لوٹ کر بیرون ممالک کے بنکوں میں جمع کروا رکھے ہیں۔ اتنی ہی رقم ملک میں رہ کر بھی خرچ کر چکے ہیں۔ ان کے بیرونی دورے، رہن سہن، جائیدادیں، پلازے، محل اور بچوں کی اندرون و بیرون ممالک تعلیم کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔سب کچھ سب کے سامنے ہے مگر حیرت کا مقام ہے کہ تبدیلی کے لئے کوئی بڑا کام نہیں کیا جارہا ۔

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں