فاٹا کے مسائل کیسے حل ہوسکتے ہیں؟

بلاگ

تحریر۔احسان اللہ ٹیپومحسود

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ پچھلے سولہ سال سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ نائن الیون کے بعد جس طرح اس خطے کو اپنے لپیٹ میں لیاگیا آج بھی اس سے نکلنے کی تگ و دو ہو رہی ہے۔ فطری حسن، قدرتی وسائل اور زرعی پیداوار سے مالامال اس جنت عرضی کی پہچان دہشت گردی، خودکش حملے، ڈرون، القاعدہ اور طالبان بن گئے۔ صدیوں سے یہاں پہ مقیم مقامی قبائل غیر ملکی شرپسند عناصر کے ہاتھوں یرغمال بن گئے۔ سیکڑوں کی تعداد میں قبائلی عمائدین کو قتل کیا گیا۔ مقامی اور غیرملکی دہشت گردوں کا ایسا گٹھ جوڑ بنا کہ اس سے نہ صرف ملکی بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ فاٹا کس طرح ان دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ان میں 9/11 کے فوراً بعد کے حالات کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی پس منظر بھی ہے۔
پاکستان بننے سے لے کر آج تک قبائلی علاقے کو ریاست نے نظر انداز کیا جو تھوڑی بہت توجہ ملی وہ بھی اس کی مخصوص تزویراتی اہمیت اور حیثیت کی بنا پہ ملی۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ پورا خطہ بنیادی ترقی سے محروم ہو کر صرف عسکری مقاصد تک محدود رہ گیا۔ ایک مخصوص عسکری ذہنیت کو پروان چڑھایا گیا۔ جس کا نتیجہ پورے فاٹا میں طالبانائیزیشن کی صورت میں نکلا جو کچھ تھوڑی بہت ترقی ہوئی تھی نہ صرف وہ تباہ ہوئی بلکہ بنیادی قبائلی معاشرتی اقدار بھی درہم برہم ہوئیں۔ فاٹا کی تقریباً 80فیصدآبادی نقل مقانی پر مجبور ہوئی۔
اسی اثنا میں جہاں پاکستانی فوج ایک طرف فاٹا میں مقامی اور دنیا بھر سے آئے ہوئے عسکریت پسندوں سے نبرد آزما تھی تو دوسری طرف پوری قبائلی پٹی میں انتہائی جامع ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جس میں سڑکیں، تعلیمی ادارے، ہسپتال، بجلی اور آب پاشی کے منصوبے اور کھیل کے میدانوں کی تعمیر شامل تھی۔ ان منصوبوں میں بیشتر یا تو مکمل ہو چکے ہیں یا تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ علاقے کی سکیورٹی کی صورت حال میں بھی کافی حد تک بہتری آچکی ہے۔ ویران گاﺅں، تعلیمی ادارے، کھیل کے میدان پھر سے آباد ہونے لگے۔ لیکن ان تمام اقدامات کو تقویت اس وقت ملے گی جب فاٹا کے عوام کو بھی باقی پاکستانیوں کی طرح ملکی آئین کے تابع کر دیا جائے گا۔ ان کے بھی بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس محرومی کی سب سے سنگین مثال تقریباً ایک صدی سے لاگو فرنٹیئر کرائم ریگولیشنز ہے۔
پاکستانی آئین سے الگ ، فاٹا کا نظم و نسق ایف سی آر سے چلایا جا رہا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی علاقے میں کسی کو قتل کرے تواس کو جرم نہیں ماناجاتا لیکن اگر کسی نے سرکار کے خلاف اپنے جائز حقوق کے لئے بھی احتجاج کرنے کی کوشش کی تو اسے سنگین جرم سمجھا جاتاہے۔ فاٹا میں عوام کے مجرم کو نہیں، سرکار کے مجرم کو سزا ملتی ہے۔ کسی ایک فرد کے جرم کی سزا صرف اس کے پورے خاندان کو ہی نہیں بلکہ پورے قبیلے کو دی جاتی ہے۔ جس میں قبیلے کے کسی بھی بالغ مرد کو غیرمعینہ مدت کے لئے پابند سلاسل کرنا، اس کی جائداد اور کاروبار کو ضبط کرنا وغیرہ شامل ہے۔
دوسری طرف فاٹا میں مقیم قبائلیوں کو پاکستانی عدالتوں تک رسائی کا حق نہیں ہے۔ فاٹا کے عوام وکیل، دلیل اور اپیل کے بنیادی انسانی حق سے بھی محروم ہیں۔ سرکار کسی کو جرم بتائے بغیر گرفتار کر سکتی ہے۔کئی سالوں تک جیل میں ڈال سکتی ہے، اور سرکار کے اس فیصلے کو مدعی کسی بھی عدالت میں چیلینج نہیں کر سکتا۔ ایف سی آر جیسے جاہلانہ اور غیر انسانی قانون کی پوری دنیا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔
فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ باقی ماندہ پاکستان کے لئے تو ایوان میں قانون سازی کرسکتے ہیں لیکن فاٹا کے لئے نہیں۔ یعنی جتنے بھی بنیادی انسانی حقوق ہیں اور جن کے حصول کو یقینی بنانا ایک جدید تہذیب یافتہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے فاٹا کو پچھلی سات دہائیوں سے ان سے محروم رکھا گیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل ایف سی آر کی کچھ شقوں کو تبدیل کیا گیا، لیکن یہ تبدیلی صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہی۔ گراونڈ پر ایف سی آر جوں کا توں موجود ہے۔ پچھلے دو تین سالوں سے قبائلیوں میں اس چیز کا شعور آگیا ہے کہ مکمل پاکستانی بننے کے لئے وہ کسی محنت سے دریغ نہیں کریں گے۔ سیاسی رہنما، قبائلی مشران، علمائے کرام، سول سوسائٹی، طلبائ، ریٹارڈ سول اور عسکری سرکاری ملازمین وغیرہ تقریباً ہر آئینی، سیاسی اور صحافتی فورم پہ پرامن طریقے سے اپنی آواز پہنچانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے بھی ایک اعلیٰ سطحی فاٹا ریفامرز کمیٹی نومبر 2015 میں قائم کی۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات اگست 2016 میں پیش کیں۔ جس میں فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ لیکن کچھ قبائلی عمائدین ، جن کی اب بھی قبائلی علاقے کی معاشرتی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حوالوں سے حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے، کی طرف سے شدید مخالفت سامنے آئی۔
فاٹا میں عوام کی طرف سے اس وقت تین طرح کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم ہونا۔
فاٹا کو ایک الگ صوبے کی حیثیت دینا۔
موجودہ حیثیت کو قائم رکھتے ہوئے صرف آئینی اصلاحات کرنا۔
جو لوگ فاٹا کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کے حق میں ہیں ان کے کئی دلائل ہیں جس میں سرفہرست یہ کہ فاٹا کا سرکاری انتظامی ڈھانچہ پہلے ہی سے خیبرپختونخوا میں قائم ہے جن میں گورنر ہاﺅس ، فاٹا سیکریٹریٹ، مختلف ایجنسیوں کے متعلقہ پولیٹیکل ایجنٹس کے صدر دفاتر وغیرہ شامل ہیں۔
دوسرا یہ کہ قبائلیوں کی اکثریت پہلے ہی سے فاٹا سے منسلک خیبر پختونخوا کے بندوبستی اضلاع میں مقیم ہے ، قبائل سے مراعات لے رہے ہیں اور قبائلیوں کی یہ کثیر تعداد غیر ارادی طور پر خود کو فاٹا سے زیادہ خیبرپختونخوا کا حصہ سمجھتے ہیں۔
فاٹا الگ صوبے بننے کی صورت میں اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ خود اپنا ریونیو جنریٹ کر سکے اور بجٹ بنا سکے۔ اپنے پاﺅں پہ کھڑا ہونے کے لئے اس کو کافی وقت لگے گا اور معاشی معاملات کے لئے پھر سے اسے وفاق پہ انحصار کرنا پڑے گا۔
اکثریتی قبائلی عمائدین جو کہ الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں ان دلائل کو جوابی دلائل سے رد کرتے ہیں۔
الگ صوبہ بننے کی صورت میں فاٹا کے سینٹ میں ممبران سات سے بڑھ کر تئیس ہو جائیں گے اور انضمام کی صورت میں یہی سات رہیں گے وہ بھی اکثریتی خیبر پختونخوا کی سیٹوں میں گم ہو جائیں گے۔کیونکہ سینٹ میں ہر صوبے کو برابر سیٹیں ملتی ہیں۔
الگ صوبے کی حیثیت سے فاٹا صوبہ کو NFC ایوارڈ سے تقریباً 120 ارب سالانہ ملیں گے انضمام کی صورت میں یہ رقم 70 ارب تک محدود ہو گی۔
الگ صوبے کی صورت میں فاٹا کے اندر بیشتر ملازمتیں مقامی لوگوں کو ملیں گی اپنا گورنر ہو گا اور وزیراعلیٰ بھی۔ انضمام کی صورت میں غیر قبائلی علاقے کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔ اس سے مزید محرومیاں پیدا ہوں گی۔
اب وہ لوگ جو سٹیٹسں کو قائم رکھنے کے حق میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ صرف آئینی اصلاحات اور علاقے کی ترقی پہ توجہ دی جائے اس مطالبے کی اکثریت روائتی قبائلی رسم و رواج پہ سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی۔ ان کا یہ بھی اعتراض ہے کہ ہمیں اس عدالتی نظام میں جکڑا جا رہا ہے جہاں پر ایک عام مقدمے کو حل ہو نے میں دہائیاں لگتی ہے۔ جبکہ موجودہ جرگہ سسٹم سے بڑی بڑی لڑائیاں بھی مہینوں میں حل ہو جاتی ہیں۔پٹوار سسٹم کے ذریعے قبائلی علاقے میں زمین کی تقسیم اگر شروع ہوئی تو قبیلوں کے مابین شدید لڑائیوں کا خدشہ ہے۔
میری نظر میں ان تمام مطالبات میں فوقیت اس کو ملنی چاہئے جس کی تائید اکثریتی قبائلی عوام کریں نہ کہ ماضی کی طرح اس پہ باہر سے کوئی مرضی مسلط کریں۔ طالبان نے بھی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی تھی جس کا نتیجہ تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلا۔ موجودہ حالات میں قبائلی علاقے میں جن اقدامات کی اشد ضرورت ہے ان میں آئینی اصلاحات سمیت امن و امان کو برقرار رکھنا، معاشی استحکام لانا اور متاثرین کی بہترین آبادکاری کے لئے اقدامات کرنا ہیں۔
(بلاگر سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہےihsantipu@yahoo.com)

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں