مشرق وسطیٰ میں بڑی تبدیلی ،بڑا خطرہ

بلاگ
غلام نبی مدنی

رواں ہفتے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی سامنے آئی۔پہلےسعودی نژاد لبنان کے وزیراعظم سعدالحریری سعودی عرب کے دارالحکومت  میں4نومبر کو وزرات عظمیٰ کے منصب سے یہ کہتے ہوئے مستعفی ہوگئے کہ ان کی جان کو حزب اللہ اور ایران سے خطرہ ہے اوریہ دونوں لبنان سمیت مشرق وسطیٰ میں بدامنی کے خواہاں ہیں۔اسی روز سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی، جس میں امیرترین شہزادوں کو گرفتار کرلیاگیا۔

4نومبر ہی کے دن یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے ریاض  کے ائیرپورٹ پر ناکام میزائل حملہ کیا گیا۔سعودی انتظامیہ نے اس کا ذمہ دار براہ راست ایران کوٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران کو عنقریب اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ایران حکومت نے میزائل حملے کو محض الزام قراردیتے ہوئے سعودی عرب عمرہ کے لیے جانے والے ایرانی زائرین کو روک دیا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ریاض ائیرپورٹ پر میزائل حملے کا ذمہ دار ایران کو قراردیتے ہوئے ایران کے خلاف عالمی سطح پر ایکشن لینے کا عندیا دیا۔اس کے ساتھ انہوں نے سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں گرفتاریوں پر بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت جو کچھ کررہی ہے بہت اچھا کررہی ہے۔سعد الحریری  کے استعفی ٰ پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی وزیراعظم کا استعفیٰ دنیا کے لیےواضح پیغام ہے کہ ایران اور حزب اللہ دنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ان واقعات  سےایک دن پہلے امریکا کی طرف سے القاعدہ کے رہنمااسامہ بن لادن کی نئی دستاویزات جاری کی گئیں ،جس میں القاعدہ اور ایران کے گٹھ جوڑ کے بارے حیران کن انکشافات سامنے آئے۔

4نومبر کو ہونے والے ان واقعات کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔عرب تجزیہ نگاروں سے لے کر مغربی دانشوروں تک ہر کوئی ان واقعات پر اپنے اپنے خیالات اورتجزیات پیش کررہاہے۔بعض دانشور سعودی عرب میں کرپشن کے نتیجے میں گرفتاریوں کو سیاسی احتساب کا نام دے رہے ہیں توکچھ دانشور لبنانی وزیراعظم کے استعفے اور ریاض ائیرپورٹ  پر میزائل حملے کومشرق وسطیٰ میں نئی خانہ جنگی کے پیش خیمے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

قطع نظر دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے تجزیات کے، حقیقت یہ ہے کہ  ان واقعات سے مشرق وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔جس کا براہ راست  فائدہ اسرائیل ، امریکااور دیگر استعماری طاقتوں کو ہوگا۔اس کا اندازہ نائن الیون کے بعد مشرق وسطیٰ میں سیاسی بالادستی کے لیے برپاہونے والی علاقائی اور عالمی  کشمکش  سے بخوبی لگایاجاسکتاہے۔جس میں  پہلے عراق کو برباد کیا گیا،پھر شام اور یمن میں خانہ جنگی کی آگ بڑھکائی گئی اور اب سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہاہے۔اس گھیراؤ میں ایران  کو سب سے زیادہ استعمال کیا جارہاہے۔استعمال کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ پر قبضے کے لیے شیعہ سنی تنازع کامیاب ہے۔کیوں کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہے،جس کا مطلب ہے کہ یہاں کی بدامنی سے پورا مشرق وسطیٰ بدامنی سے دوچارہوجائے گا۔حالیہ واقعات   کو2006میں شائع ہونے والی  بلڈبارڈرز نامی  متنازع رپورٹ کی روشنی میں دیکھاجائے تو حقیقت مزید کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ عالمی ایجنڈا "گریٹر اسرائیل" کس طرح کامیابی سے آگے بڑھ رہاہے۔خدشہ  یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کے دو اہم ممالک کو خانہ جنگی کی آگ میں دھونکا جائے گا، جس سے گریٹر اسرائیل کے اگلے مرحلے کا آغاز ہوگا۔یہاں اسرائیل اور امریکا کے مشرق وسطیٰ کے ایک اہم ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی پینگوں  پر بجائے خوش ہونے کے سوچنے کی ضرور ت ہے۔ کیوں کہ اسرائیل اور امریکا کی ہمیشہ سے  یہ عادت رہی ہے کہ جس ملک کو یہ تباہ کرنا چاہتے ہیں،پہلے اس  کے ساتھ پینگیں بڑھاتے ہیں،پھر اس کی اینٹ سے اینٹ بجاتے ہیں۔عراق،لیبیا  اور شام اس کی واضح مثالیں ہیں کہ کیسے ان دونوں نے  مل کر  ان ممالک کو برباد کیا۔

        اس منظرنامے میں مشرق وسطیٰ کو تباہی سے بچانے  کے لیے اسلامی دنیابالخصوص پاکستان کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔مشرق وسطیٰ کے دونوں اہم ممالک ایران اور سعودی عرب کے  درمیان تنازعے کے حل کے لیے بھی پاکستان ہی کو جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔خصوصا ایران کو سمجھانے کے لیے پاکستان کو سفارتی سطح پر بھرپور کوشش کرنی چاہئے،نہ یہ کہ پاکستان یک طرفہ جھکاؤ ایران یا سعودی عرب کے پلڑے میں ڈالے۔کیوں کہ مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی کے پیچھے اصل کردار ایران ہی کا ہے ،جس کا اظہار خود ایرانی حکومت اور بین الاقوامی دنیا کئی بار کر چکی ہے کہ عراق سے لے کر شام تک ،لبنان سے لے کر یمن تک ایران ہی عملاً ان ممالک کی سیاست میں شریک ہے۔مشرق وسطیٰ کی سیاست کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو سعودی عرب سے زیادہ ایران  ہی واحد ایسا ملک ہے جو پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں  دخیل ہے۔یہ کام اب تک استعماری ممالک کرتے آرہے تھے،لیکن اب بدقسمتی سے یہ مرض علاقائی ممالک کو بھی لگ چکا ہے۔یمن میں حوثیوں کی پشت پناہی، شام میں بشار کی عملا مدد اور عراق میں شیعہ حکومت کے ساتھ شراکت داری اس کی واضح مثالیں ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کانتیجہ خانہ جنگی  کی صورت نکلتاہے،جس کا خمیازہ صرف او رصرف عوام کو بھگتنا پڑتاہے۔اس لیے مشرق وسطیٰ کو پرامن بنانے کے لیے خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی سے بازآنا ہوگا،بالخصوص ایران  اور دیگر خلیجی ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔اسلامی دنیا کو مل کر مشرق وسطیٰ کے حریف ممالک کو بٹھاکر سمجھانا ہوگا کہ مفادات اور اقتدار کی کشمش سے نقصان اسلام اور مسلمانوں کا ہوگا اور فائد استعماری طاقتوں کا۔پاکستان کا فرض بنتاہے کہ وہ  مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو بات چیت کے ذریعے سمجھائے ۔کیوں کہ مشرق وسطیٰ  کے امن سے پوری اسلامی دنیا کا امن جڑا  ہواہے،خدانخواستہ اگریہاں مزید کسی خانہ جنگی کی ابتدا ہوتی ہے تو اس سے پوری اسلامی دنیا متاثر ہوگی۔ایک اور بات جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ امریکا ،اسرائیل اور دیگر استعماری طاقتوں پر بھروسہ کرنا اور ان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں اسلامی ممالک کو قربان کرنا ہے۔بدقسمتی سے خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد وجود میں آنے والے مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک نےاسی روش کو اپنایا اورتاحال اسی پر قائم ہیں۔حالاں کہ یہود ونصاری کی بدمعاشیوں کے بارے خدا نے خود بتایا کہ؛"اے ایمان والو ! تم یہود ونصاری کو دوست نہ بناؤ ،یہ توآپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوستی کرے گا وہ بلاشبہ انہیں میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالی ہرگز راہت راست نہیں دکھاتا "(سورۃ المائدہ : 51 ) ۔تاریخ بھی گواہ ہے کہ یہود ونصاری نے ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی کی اور ان پر ظلم ڈھائے ۔ان حقائق کی روشنی میں اسلامی ممالک کا ان ممالک پر کلی انحصار کرنا اور ایک دوسرے کو نیچادکھانے کے لیے ان سے بڑے بڑے مالی اور دفاعی معاہدے کرنا  افسوسناک  ہی نہیں شرمناک ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ پوری اسلامی دنیا مل کر مضبوط بلاک بنائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعلقات استوار کریں ،مگر افسوس کرسی اور اقتدار کی خاطر اسلامی اخوت اور بھائی چارگی کو قربان کیا جارہاہے۔کاش اسلامی دنیا کے بسنے والے مسلمان اپنے حکمرانوں سے اس بارے باز پرس کریں!!!

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔