انٹری ٹیسٹ اپنا جواز کھوچکا ہے

برصغیر پاک و ہند میں پروفیشنل تعلیم خاص طور پرمیڈیکل کی تعلیم کو ایک گو ناں گو اہمیت حاصل ہے۔ عام طور پر متوسط طبقے کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اور بچیاں ڈاکٹر بن کر باعزت روزگار حاصل کریں اور غریب لوگوں کی خدمت کریں۔ یہی وجہ ہے کہ لائق طالب علم میڈیکل ایجوکیشن کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اسکے نتیجہ میں عرصہ دراز سے سب سے زیادہ میرٹ اب میڈیکل کالجز میں داخلے کا ہوتاہے۔ میڈیکل کی تعلیم اتنی اہم ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنا جائز سمجھ لیا گیا ہے ۔
ماضی میں بوٹی مافیا کی اصطلاح عام تھی۔ یہ وہ مافیا تھا جو ایف ایس سی میں امتحانی سنٹرز کی خرید و فروخت کرتا، جو بچے ان سے رابطہ کرتے ان کو مخصوص سنٹرز میں امتحان دلوایا جاتا جہاں نقل کی سہولت موجود ہوتی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ طلبا جو اہل نہیں ہوتے تھے وہ رشوت اور سفارش کے زور پر میڈیکل کالجز تک پہنچ جاتے جبکہ اہل طالبعلم منہ دیکھتے رہ جاتے۔
1997ء میں حکومت نے اس کا حل سوچا کہ وہ طلبا وطالبات جو میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہش مند ہوں ان کا ایک ٹیسٹ لیا جائے۔ اس ٹیسٹ میں ایف ایس سی کے سائنس کے مضامین اور انگریزی کو شامل کیا گیا۔ شروع شروع میں اس امتحان کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے۔ بوٹی مافیا کی حوصلہ شکنی ہوئی کیونکہ اگر ناجائز طریقوں سے نمبر حاصل کر بھی لئے جاتے تو طلبہ انٹری ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے تھے اس طرح ایک بہتر صورتحال سامنے آنے لگی۔ لیکن کرپٹ مافیا نے اس کا بہت جلد توڑ نکال لیا ۔انٹری ٹیسٹ نے اکیڈمیز انڈسٹری کو پروان چڑھا دیا اور کرپٹ مافیا کو اس کے ذریعہ لوٹ مارنے کا محفوظ راستہ مل گیا ۔
اکیڈمیز میں آہستہ آہستہ غیر صحت مندانہ مقابلہ شروع ہوگیا اور وہ غیر قانونی ذرائع پر توجہ دیکر پیپرز آؤٹ کروانے لگیں۔ یہ اکیڈمیاں ایک طرف تو طلبہ سے فیس کی مد میں لاکھوں روپے سمیٹ رہی تھیں۔ دوسری طرف وہ بھاری رقم لے کر طلبا کو پرچہ فروخت کرتیں۔ یہ گھناؤنا کاروبار نہ جانے کب سے جاری تھا مگر اس سال میڈیکل بورڈ اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے حوالے سے بہت بڑا سکینڈل منظر عام پر آگیا۔ انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہونے کا اعتراف خود حکومت کے اعلیٰ سرکاری عہدیداران بھی ایک پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں۔
یہ بات کس قدر باعث شرم اور افسوسناک ہے کہ (یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز) کے سابق وائس چانسلر نے 200 طلبا سے بھاری رشوت وصول کرکے انہیں پرچہ تھمادیا، یہ 200 طلبہ صاحب حیثیت ہوں گے۔ ضروری ہے کہ جو ہزاروں سٹوڈنٹس قرض لے کر نجی اکیڈمیوں میں انٹریٹ ٹیسٹ کی تیاریاں کرتے رہے ان کا قصور اور جرم بتایا جائے ،طلبا پریشان ہیں کہ جب وائس چانسلریا ان کے سٹاف کا اکیڈمیز سے رابطہ تھا اور موصوف 20 لاکھ روپے فی سٹوڈنٹ لیتے رہے ہیں، اب 200 طلبہ کو 20 لاکھ سے ضرب دیں تو تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یو ایچ ایس کے مقدس پلیٹ فارم پر بیٹھ کر وہ سوداگری کرتے رہے ہیں۔
میرے خیال میں اس اسکینڈل کے بعد انٹری ٹیسٹ اپنی اخلاقی حیثیت کھوچکا ہے لہذا اس کو بند کیا جائے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں انٹری ٹیسٹ کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے۔ اگر ہمارا امتحانی نظام شفاف ہو تو انٹری ٹیسٹ کی ضرورت ہی نہ پڑے۔اس کے علاوہ اگر ٹیسٹ لینا ضروری بھی ہو تو صرف بچے کی نفسیات کا ٹیسٹ لیا جائے کہ یہ بچہ میڈیکل جیسے پیشے میں جانے کے لئے ذہنی طور پر مناسب بھی ہے کہ نہیں۔ بار بار ایک ہی کتاب کا امتحان لینا وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔
میری خادم اعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ یہ انٹری ٹیسٹ اب ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ آپ ایک اچھے اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھیں اور جن لوگوں نے پیسے لے کر پرچہ لیک کیا ہے ان کو الٹا لٹکا دیں۔میاں صاحب ان تمام وائس چانسلرز صاحبان اور UHS کے عملے نے لاکھوں روپے بدنیتی سے کمائے ہیں، ان سے وصول کرکے سرعام سزا دی جائے۔ آپ الٹا لٹکانے والے نعرے کو عملی جامہ بھی پہنادیں۔خادم اعلیٰ صاحب یہ انٹری ٹیسٹ پاکستان کی لائق فائق اور محنتی نوجوان نسل کو کھاجائے گا ۔اسے فوری طور پر بند کریں اورمزید طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے عزائم کو روک دیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔