مذہبی منافرت کے خاتمہ کے لیے نئی پالیسی کی تیاری

ایک اخباری اطلاع کے مطابق ہرطرح کی منافرت کے خاتمے کے لیے پالیسی برائے انسداداِنتہاپسندی(اینٹی ایکسٹریم اِزم)مرتب کرنے کا فیصلہ کرلیاگیاہے۔اس سلسلہ میں وفاقی وزارت داخلہ نے نیشنل ایکشن پلان کے چارنکات سے ہٹ کرنیکٹاکو خصوصی ٹاسک دیاہے۔جس نے وفاقی وزارت قانون وانصاف سے مل کرایک مسودہ تیارکیاہے،جس کی کاپی صوبوں کو اَرسال کرتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے محکمہ انصاف سے مشاورت کرکے سفارشات نومبرکے وسط تک وفاقی وزارت داخلہ کو اَرسال کریں۔مذکورہ پالیسی کے نفاذکے لیے فروری 2018کا ہدف مقررکیاگیاہے۔اس پالیسی کے مندرجات کے مطابق مذہبی ہم آہنگی کے لیے جو خصوصی اقدامات کیے جائیں گے،اُن میں دینی وسرکاری تعلیمی مدارس کے نصاب میں تبدیلی ،مدارس کی رجسٹریشن اورریگولیشن کے لیے مؤثراِقدامات،سوشل،پرنٹ اوراَلیکٹرانک میڈیاکے لیے ضابطہ اخلاق کی تیاری اورمتنازع امورکو زیربحث لانے پر پابندی،پرنٹنگ پریس کی کسی بھی مذہبی لٹریچرکی اشاعت سے قبل سرکاری منظوری کی شرط،شامل ہیں۔جبکہ اس پالیسی کی خلاف ورزی پر سزائیں بھی تجویزکی گئی ہیں۔
جب سے پاکستان وجودمیں آیاہے۔ملک بیرونی سازشوں کی آماجگاہ بنا چلاآرہاہے۔جن کی بدولت مذہبی،سیاسی،علاقائی اورلسانی تنازعات سراُٹھاتے رہے ہیں۔مذہبی اختلافات تو شروع ہی سے موجودہیں اوراُن کا وَجودہمیشہ رہے گا۔اِسی لیے تعمیری اختلاف کو رحمت کہا گیاہے۔تشویش کا اصل باعث مذہبی منافرت اورتفرقہ ہے،جس سے مذہبی تعصبات جنم لیتے ہیں اوربات قتل وغارت گری تک جاپہنچتی ہے۔یہ انتہائی گھناؤنافعل ہے کہ جس نے ملک میں صرف انتشارواِفتراق ہی پیدانہیں کیا،بلکہ نسلیں ہی بربادکردی ہیں۔جب تک مذہبی منافرت کے دیرینہ اسباب ختم نہیں کیے جائیں گے،مذہبی منافرت خودرَوپودوں کی طرح پھلتی پُھولتی رہے گی۔بیرونی فنڈنگ،نزاعی واِختلافی امورکو ہوادینا،قابل احترام شخصیات کی توہین کرنا،معمولی اختلافات پر فتویٰ بازی اورایک دوسرے کو گردن زدنی قراردیناجیسے منافرت کے بنیادی اسباب کا خاتمہ ہی ملک میں فتنہ وفسادکا قلع قمع کرسکتاہے۔علاوہ ازیں تفرقہ ومنافرت میں پس پردہ کردارکی حامل ایجنسیوں کے کردارکی بھی نشان دہی اوراُن کے دائرہ کارکو محدودکرنے کے لیے بھی پالیسی وقانون سازی لمحۂ موجودکا ناگزیرتقاضاہے،کیونکہ ہمیشہ یہی مخفی کردارحالات کو مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایسے اقدامات بروئے کارلاتے رہے ہیں کہ جن کی وجہ سے قوم وملک انتشارواِفتراق کی دلدل میں دھنستا جارہے ہیں۔
کسی بھی عملی قدم اٹھانے سے پہلے فرقہ واریت کی غیرمتنازع تعریف متعین کرنی ضروری ہے،کیونکہ دہشت گردی کی طرح فرقہ واریت کے نام پر جس طرح بندے اٹھائے جاتے ہیں اورپھر مرضی کے بیانات دلواکرسزائیں دلائی جاتی ہیں،اس کانتیجہ یہ نکلتاہے کہ بے گناہ تعزیروں کا نشانہ بنتے ہیں اورحقیقی فرقہ پرست اوراَصل دہشت گردملک وقو م کو تباہی سے دوچارکرتے ہیں۔جب تک فرقہ واریت کی تعریف کا تعین نہیں ہوگا ،فرقہ واریت کی حدودمتعین نہیں کی جائیں گی اوراِس معاملے میں تمام ابہامات کو دُورنہیں کیاجائے گا،سرکاری مشینری پہلے کی طرح اپنی صوابدید اورپسندوناپسندکی بنیادپرجسے چاہے گی،فرقہ واریت میں ملوث قراردیتی رہے گی اورنفرت وتعصبات کا عفریت سرعام تماشالگائے رکھے گا۔
مذہبی منافرت کے خاتمہ کے لیے نصاب تعلیم میں تبدیلی کا عندیہ بھی دیاگیاہے۔نصاب تعلیم دینی ہویاسرکاری ،دونوں کے جائزے کی ضرورت ہے،بالخصوص پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں رائج نصاب پر کڑی نگرانی کی ضرورت ہے ،کیونکہ بعض پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بیرونی ممالک کے ایسے نصابات بھی پڑھائے جارہے ہیں جو پاکستان کے اسلامی تشخص اورملکی دستورسے ہم آہنگ نہیں ہیں۔دینی مدارس کے نصابات بنیادی معاملات میں کافی حدتک مشترک ہیں اورصرف چندکلامی وفقہی مسائل کے سواباقی معاملات میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔یہاں مذہبی منافرت پر مبنی موادنہیں پڑھایاجاتا،ہاں اپنے عقیدہ وفقہ کی مثبت اندازمیں تدریس ہر مسلک کا حق ہے۔اس لیے یہاں بنیادی مسئلہ نصاب کا نہیں ، بلکہ باہم رویوں اورطرزتدریس کاہے۔جسے دُورکرنے کے لیے سرکاری احکامات کی سختی کی نہیں،بلکہ مختلف مسالک کے رہنماؤں کے آپس میں مل بیٹھنے کے مواقع عام کرنے کی ہے۔ تاکہ برداشت اورمکالمہ کی فضاء پیداہواَورغلط فہمیوں کا ازالہ ہوجائے ۔جس کے لیے دینی مدارس کے مدرسین کے لیے ورکشاپوں کے انعقادکی ضرورت ہے۔جس کے ذریعے ایک دوسرے کا مؤقف جاننے اورمسائل کے حل کے لیے تجاویزمرتب کرنے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔اس حوالے سے مختلف تنظیمات کے سیمیناروں اوراجلاسات میں کافی حدتک ہوم ورک کیاجاچکاہے۔اس لیے نئے سرے سے جائزہ لینے کی بجائے اب تک ہونے والے کام کو پالیسی سازی میں رہنمائی کے لیے استعمال کیاجاسکتاہے۔
دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق حکومت اورمدارس کے ذمہ داران کے بیسیوں اجلاس ہوچکے ہیں اوربیشتر معاملات پر اتفاق رائے سے عمل بھی ہورہاہے،مگر حکومتی اہلکاروں کی طرف سے نت نئے مطالبات اورعملاً مدارس کو بے دست وپاکردینے کی پالیسی نے اہل مدارس کو شدیدتحفظات میں جکڑ رکھاہے،اس کے باوجودمدارس نے ہمیشہ حکومت کے ساتھ تعاون کو مقدم رکھاہے۔دینی مدارس کے ساتھ نئی کشمکش پیداکرنے کی بجائے طے شدہ معاملات کومدنظررکھ کر نئی پالیسی ترتیب دینا ہی مستحسن قدم ہے۔
مذہبی لٹریچرکی اشاعت کے لیے پرنٹنگ پریس کو حکومت کی منظوری کے احکامات پہلے سے موجودہیں۔پریس اینڈپبلی کیشن کے قوانین رائج ہیں۔جبکہ قابل اعتراض کتب کی اشاعت کی روک تھام کے لیے تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں پرمشتمل علمابورڈزقائم ہیں۔پہلے سے موجودقوانین وضوابط کو بہتر بنانے اوراُن پر مؤثرعمل درآمدکراناحکومت کی ذمہ داری ہے۔اِس بابت ازسرنو پالیسی بنانادراَصل پریس کا گلاگھونٹنے کے مترادف ہے۔
پالیسی بنانے اوراُسے نافذکرنے کے لیے جس عجلت سے کام لیاجارہاہے۔اِس سے حکومتی نیت واِرادہ کااندازہ لگانامشکل نہیں ہے۔زمینی ومعروضی حالات وحقائق
کو مدنظررکھنے کی بجائے غیرملکی اداروں کی رپورٹوں اورسفارشات پر عمل کرنے کا رُجحان خطرناک عمل ہے۔علاوہ ازیں متعلقہ فریقین سے مشاورت اوراُنہیں اعتمادمیں لیے بغیرایسی کسی بھی پالیسی کا نفع بخش اورنتیجہ خیز ثابت ہوناممکن نہیں ہے،بلکہ ایسا کرناکارِعبث ہے جو مذہبی قوتوں کو بلاوجہ مشتعل کرنے کا باعث بن سکتاہے اورپاکستان اب مزیدکسی انتشاراَوراَفراتفری کا متحمل نہیں ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔