سیاسی گھبر سنگھ اور ہم سب

”ارے او سامبا! کتنے آدمی تھے؟“ یہ ڈائیلاگ ہندی فلم شعلے کا معروف ڈائیلاگ ہے جو امجد خان  نے بطورگبھر سنگھ  ڈاکو   بولااور یہ جملہ ضرب المثل بن گیا ہ ۔گھبرسنگھ حقیقت میں ڈاکو تھا،اب توشاید ایسے ڈاکو  پہاڑوں اورجنگلوں کی کمین گاہوں میں نہیں ملتے ہوں گے لیکن سیاست کی پناہ گاہوں میں گھبر سنگھ  بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ جو اپنے دشمن کی طاقت کا اندازہ لگانے کے لئے یہ ڈائیلاگ مارتے رہتے ہیں۔ہمارے ہاں بھی مختلف قسم کے گبھر پائے جاتے ہیں جو کہ لوگوں کے ناک تو نہیں کاٹتے مگر لوگوں کو ناکوں چنے ضرور چبواتے ہیں اور ہر گبھر کومخالفین کی تعداد   زیادہ ہونے کی فکررہتی ہے حال ہی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ریلی نا اہل ہونے کے بعد بذریعہ گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) لاہور کی جانب رواں دواں تھا اور اس ریلی میں سب سے زیادہ جو چیز دیکھنے میں مل رہی  تھی وہ ہے لوگوں کی تعداد، ریلی کا مقصد جو بھی ہو مخالفین کا سارا زور آدمی گننے پر رہا اور اس گنتی میں ہمارا میڈیا بھرپور ساتھ دیتا رہا،سن لیں جو میڈیا حکومت کے ساتھ ہے وہ بڑھا چڑھا کر تعداد بتا رہا ہے اور جو اپوزیشن کا میڈیا ہے وہ تعداد کم بتا کر اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کر رہا ہے۔ مختصر یہ کہ جس کا بھاﺅ زیادہ اُس کی جے جے کال!
اس تمام بھیڑ چال میں عوام برابر کی حصہ دار ہے ہماری عوام بھی بکی ہوئی ہے ہمارے لیڈر بھی بکے ہوئے ہیں۔ ہماری صحافی برادری بھی بکی ہوئی ہے۔ آپ نواز کی ریلی دیکھ رہے ہیں ،آپ نے عمران کی ریلی بھی دیکھی ہے، آپ نے طاہر القادری کی بھی ریلی دیکھی ہو گی ،آپ بلاول کے بھی جلسے میں شریک ہوئے ہونگے ،آپ جماعت اسلامی والوں کو بھی جانتے ہوں گے، آپ الطاف حسین کی فون کال پر بھی جاتے ہونگے اور آپ فضل الرحمان کے دربار میں بھی حاضری دیتے ہوں گے ۔یعنی کہ ”مالِ مفت دلِ بے رحم “ کے مصداق عوام ہر جگہ پہنچ جاتی ہے چاہے اُس کا جلسے یا ریلی سے کوئی سروکار ہو یا نا ہو۔ جیسے بیچ چوراہے میں مداری اپنی ڈگڈگی لے کر بجاتا ہے اور ساتھ میں ایک آواز دیتا ہے کہ بچہ جمورا تماشہ دیکھے گا تو لوگ رُک رُک کر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں پھر آناًَ فاناًَ جگمگٹھا لگ جاتا ہے۔ اسی جگمگٹھے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ اپنا تیل بیچتا ہے اور پھر یہ جا وہ جااور بچہ جمورا اپنا وقت و پیسہ ضائع کر کے چمتکاری تیل کا چمتکار دیکھنے کا انتظار کرنے لگ جاتا ہے مگر یہ بھول کر کہ ہتھیلی پہ سرسوں نہیں جمتا۔
کسی جماعت کا جلسہ ہو یا کسی مداری کا تماشہ لوگ اکٹھے ہو ہی جاتے ہیں چنانچے لوگوں کے ہجوم سے اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ اُن کے ذہن میں کیا ہے۔ وہ اپنے لیڈر کی حمایت میں اکٹھے ہوئے ہیں یا مداری کا تماشہ دیکھنے ۔بعض دوستوں سے پوچھا گیا کہ تم لوگ عمران کے جلسے میں بھی جاتے ہو اور نواز کی ریلی میں بھی آخر یہ ماجرہ کیا ہے تو جواب موصول ہوا کہ عمران کے جلسے میں انٹرٹینمنٹ بہت ہوتی ہے ۔ناچ گانا ہوتا ہے اور کچھ پل کے لئے آنکھیں بھی ٹھنڈی کر لیتے ہیں ۔اسی طرح نواز کی ریلی میں ناچ گانے کے ساتھ پیسے بھی مل جاتے ہیں جس کی تازہ مثال گوجرانوالہ میں دیکھنے کو ملی کہ لوگوں کو جمع رکھنے کے لئے نوٹ نچھاور کئے گئے ۔
آپ خود اندازہ کریں کہ ہماری عوام کا حال کیا ہے کسی کے پاس کوئی خاص وجوہ نہیں ہے جو وہ بیان کر سکے کہ وہ جلسے جلوسوں میں کیونکر جاتا ہے ؟وقت گزاری کے لئے، کھانے کے لئے یا بارات سے نوٹ لُوٹنے کے لئے، اس عوام کو اس بات سے قطعاًََ کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ جس جلسے میں وہ گئے ہیں وہ جلسہ ہو کس مقصد کے لئے رہاہے ؟کیا وہ نا اہل وزیر اعظم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ہے یا جمہوری حکومت کو ڈی ریل کرنے کے لئے جلسہ کیا جا رہا ہے یا کسی کی ٹانگ کھینچنے کے لئے لوگوں کو سڑکوں پر بلایا جا رہا ہے یا پھر کسی غیر ملکی قوتوں کی آشیر باد حاصل کرنے کے لئے ملک میں بد امنی پیدا کی جا رہی ہے ، ابا جی کہتے ہیں کہ:
” گُل گئے گُلشن گئے گُل کتیرے رہ گئے
آدمی تھے جو وہ چل بسے باقی اُلو کے پٹھے رہ گئے“
ابا جی کی بات واقعی قابل غور ہے کہ اب سیاست صرف پیسے اور جی حضوری تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔جو پائے کے سیاستدان تھے لیڈر تھے جن کا منشور عوامی مسائل کا حل تھا وہ اب نہیں رہے اب صرف اُلو کے پٹھے ہی باقی بچے ہیں جن کو عوامی مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کسی ماں کا بچہ ریلی میں حادثے کا شکار ہو جائے یا کسی کی ماں کو منہ میں گولی مار دی جائے، کسی کو سٹیج سے کارکن کے گرنے کی خبر ملے اور وہ ٹس سے مس نہ ہو یا پھر پروٹوکول کے دوران کوئی معصوم ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ جائے، کسی سیاسی لیڈر یا وزیر کو عام انسان کی پرواہ نہیں کیونکہ یہ عام انسان ہے ہی جوتیاں کھانے کے لائق، اس عام انسان کو عادت ہو گئی ہے ہر جگہ سر گھسانے کی ۔ سچ پوچھئے تو میں اور آپ انہیں عوام میں سے ہیں ۔انہیں تماشہ گیر میں سے ہیں جو اپنی منزل چھوڑ کر راہ چلتے تماشہ دیکھنے رُک جاتے ہیں جس کا فائدہ صرف اور صرف مداری کو ہوتا ہے اس لئے کوشش کریں کہ صرف وہاں جمع ہوں جہاں اپنے یا اپنے کسی بھائی کے فائدے کا کوئی کام ہو۔ وگرنہ اپنے کام میں مگن رہیں یہ مداری خود بخود غائب ہو جائیں گے اور کسی بھی طرح سے ان سیاسی گبھر سنگھوں سے ڈرنے کی ضرور ت نہیں، کیونکہ یہ ڈائیلاگ بھی ڈاکو گبھر سنگھ کا ہے کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا ،اس طرح کسی سیاسی گبھر سنگھ کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ:
ارے او سامبا! کتنے آدمی تھے؟

....

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔