فیر دشمن نال صلح ای کرلو

بلاگ
عثمان غنی

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف صاحب سپریم کورٹ کا فیصلے آنے کے بعد وزیراعظم عہدے سے معزول ہو گئے-انہوں نے خود کو عوامی عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ۔عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کےلئے اسلام آباد سے لاہور جانے کے لئے جی ٹی روڈ کاانتخاب کیا گیا -اگرچہ ناقدین کی طرف سے مسلم لیگ کو جی ٹی روڈ سیاست کا طعنہ سننے کو ملتا رہتا ہے۔ اسلام آباد سے لاہور جانے کیلئے یا تو جی ٹی روڈ کا راستہ ہے یا پھر موٹروے -مہنگائی کے اس دور میں براستہ موٹروے جانے کے ا خراجات کا ہم تمام دوستوں کو با خوبی علم ہے -مجھ نا چیز کو تو ویسے بھی جی ٹی روڈ اپنی قدرتی خوبصورتی اور تاریخی حوالے سے کافی پسند ہے یہ تو اللہ بھلا کرے شیر شاہ سوری کا جس نے کلکتہ سے افغانستان آمدورفت کےلئے اس روڈ کی بنیاد رکھی تھی اور تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان کے حصے میں میں آنے والے جی ٹی روڈ میں لاہور ٹو اسلام نے سیاسی ٹاک شوز میں شہرت حا صل کی ۔جس کی شایدو جہ مسلم لیگ ن کی اس خطے میں مضبوط سیاست ہے - اب چونکہ سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے تو میاں صاحب نے بھی اپنی اسلام آباد سے لاہور واپسی کے لیے عوامی ریلی کا فیصلہ کیا ۔جسکا آغاز اسلام آبا وسے بدھ کی صبح دس بجے ہوا اور رات کو میاں صاحب نے پنجاب ہاو¿س روالپنڈی میں قیام کیا ۔دس اگست کی صبح میا ں صاحب اپنے لیگی رہنما اور کارکنوں کے ہمراہ لاہور کی طرف نکل پڑے جہاں ان کی صاحبزادی مریم نواز اپنے د یگر فیملی ممبران کے ساتھ استقبال کریں گی۔اس ریلی پر متضاد ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔کسی کے خیال میں چند سو گاڑیوں اور چند ہزار ورکرز کے ساتھ ریلی کی شکل میں آنے کی کیا ضرورت تھی۔اور کوئی میاں صاحب کو ماضی کی یاد دلاتے نظر آئے،کہ کاش وہ پارلیمنٹ کی طاقت کے انکاری نہ ہوتے تو آج انہیں یہ دن د یکھنے کو نہ ملتا۔ دوسری طرف نواز لیگ اپنی ریلی کو ایک کامیاب ریلی قرار دے رہی ہے اوران کا کہنا ہے کہ مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اسطرح کے بیانات دے رہے ہیں۔
اگرچہ شاہد خاقان عباسی وزارت عظمی کا قلمدان تھام چکے ہیں،۴۹وزرا ءپر مشتمل وفاقی کابینہ بھی فعال ہو چکی ہے اور جمہوری و سیاسی نظا م متوقع مارچ الیکشن کی طرف چل پڑا ہے -چنانچہ تمام پارٹیوں نے سیاسی سرگرمیوں کو تیز کیردیا ہے -عائشہ گلالئی کی الزامات سے بھری پریس کانفرنس کے بعد عائشہ احد کا حمزہ شہباز اور شہباز شریف صاحب پر الزامات لگانا آپ تمام دوستو ں کی نظر سے گزرا ہو گا، ہمارے ایک دوست ان الزامات کو ایک لطیفے کی صورت دیکھ رہے ہیں جو اپنے قارئین کی نظر پیش خدمت ہے -براہ مہربانی اس کو تحقیر کے زمرے میں نہ لیا جائے -ایک مزاح ہے اور اس کو ایک مزاح سمجھا جائے۔
جنگ عظیم دوم میں ایک مراثی کو زبردستی فوج میں بھرتی کرلیا گیا۔مراثی کی ماں روتی ہوئی انگریز افسر کے پاس آئی اور کہا ''پتر اے مراثیاں دا بال کتھے لے چلاں ایں؟''
انگریز افسر نے کہا کہ شہنشاہِ برطانیہ کو جنگ میں آپ کے بیٹے کی ضرورت پڑگئی ہے ،کیا آپ اُسے بھیج کر فخر نہیں محسوس کر رہیں؟. “
مراثی کی ماں نے کہا '' پتر لے جا پر شہنشاہ نوں آکھیں کہ جے نوبت ایتھوں تک آگئی اے تے فیر دشمن نال صلح ای کرلو“

...

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔