سب سے پہلے انصاف

بلاگ
رانا اعجاز حسین

عدل و انصاف کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’میری امت اس وقت تک سر سبز رہے گی جب تک اس میں تین خصلتیں باقی رہیں گی، ایک یہ کہ جب وہ بات کریں تو وہ سچ بولیں گے، دوسرا یہ کہ جب فیصلہ کریں گے تو انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دیں گے، تیسرا یہ کہ جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو کمزور پر رحم کریں گے‘‘۔ اسلام کی روشن تعلیمات کے باوجود آج کا معاشرہ عدل و انصاف کا دامن چھوڑ کر جائز ناجائز خواہشات کی تکمیل میں کوشاں ہے اوریہ صورتحال معاشرے کے زوال کا باعث بن رہی ہے، مظلوم لوگ انصاف کے لئے در بدر پھر رہے ہیں ، جبکہ عدالتوں میں مقدمات کے انبار ہیں۔ اس گھمبیر صورتحال میں معاشرے کی پہلی ضرورت سستے اور فوری انصاف کی فراہمی ہے ، کیونکہ انصاف کی فراہمی میں سستی یا تاخیر کی وجہ سے ہی مسائل جنم لیتے ہیں اور افراد عدل کے ایوانوں سے مایوس ہوکر جدل کا راستہ اختیار کرتے ہیں جوکہ ریاست کے لئے کسی طور بھی موزوں نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب کا جوڈیشل سسٹم جو کہ تقریباً نصف پاکستان کا احاطہ کئے ہوئے ہے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں ہمہ وقت عدالتی اصلاحات اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لئے خلوص دل اور مضبوط اداروں کے ساتھ ہمہ وقت کوشاں ہے۔
گزشتہ روزجوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی کے عشائیے میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ پنجاب کی عدلیہ کو مثالی جوڈیشری بنا رہے ہیں، آپس میں رابطوں کو موثر اور فعال کیا جا رہا ہے، ضلعی سطح پر عدلیہ کو مستحکم کرکے پر اعتماد بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ بلا خوف و خطر قانون و انصاف کے مطابق فیصلے کرکے حق و انصاف کا بول بالا کریں۔ جج صاحبان اسی وقت اپنا کام اطمینان اور سکون سے کر سکتے ہیں جب وہ مطمئن اور آسودہ ہوں، جج صاحبان اپنے اہل خانہ کو بھی مناسب وقت دیں اور اپنے طرز عمل ، کردار اور شخصیت سے یہ ثابت کریں کہ جج معاشرے کا باوقار طبقہ ہیں، اور وہ اپنے طرز معاشرت میں بھی ایسا معیار قائم کر سکتے ہیں جو دوسروں کے لئے ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے لطیف پیرائے میں جج صاحبان کے اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری فٹ نہیں، بیگمات جج صاحبان کی ڈائٹ کا خیال رکھیں ، انہیں سپورٹس کیلئے جانے پر مجبور کریں تاکہ ان کے چہروں پر مسکراہٹ رہے اور وہ ہشاش بشاش رہ کر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دے سکیں۔ جبکہ ہم جسٹس سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارا کا م ہے کہ ہم انصاف کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عدالتوں کے ساتھ اپنی فیملی معاملات میں بھی انصاف کریں تاکہ چائلڈ لیبر یا کسی بھی حوالے سے لوگ ہم پر انگلی نہ اٹھا سکیں، ہم جس علاقے محلے میں رہتے ہیں وہ ہماری پہچان ہونی چاہیے۔ صرف عدالت میں ہی نہیں بلکہ ہمارے اپنے گھروں میں بھی فیصلے انصاف کے مطابق ہونے چاہیے‘‘۔
بلاشبہ عادل جج کو بڑامقام حاصل ہے ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’انصاف کرنے والوں کو قرب الٰہی میں نوری ممبر عطا ہوں گے‘‘ (صحیح مسلم)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور ہائی کورٹ کے 45ویں چیف جسٹس مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی اورجوڈیشل افسران کی کارکردگی میں بہتری، اور عدالتی سسٹم کو جدید خطوط پر استور کرنے کے لئے سنجیدہ کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں سائلین کوایس ایم ایس کے ذریعے مقدمات کی معلومات فراہم کرنے کیلئے سہولت سنٹر کا قیام، ضلعی عدالتوں میں کال سنٹرز، ویڈیو لنک کورٹس اور مقدمات کی آٹومیشن کرنے کا فیصلہ، زیر التواء اور زیر سماعت مقدمات کو بروقت نمٹانے کیلئے کیس مینجمنٹ پلان ترتیب دینے کے فیصلے سمیت ان کے دیگر کئی اہم اور تاریخ ساز فیصلے عدالتی تاریخ میں مثال نہیں رکھتے۔ انہوں نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں لاہور ہائی کورٹ کے تمام سٹاف سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا تمام سٹاف میرے بچوں کی مانند ہے وہ باپ کی طرح تمام سٹاف کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں گے مگر جو بچہ غلط کام کرے گا اسے کان سے پکڑ کر ادارے سے نکال باہر کریں گے۔ ‘‘ یہی وجہ ہے کہ آج پنجاب بھر کے جوڈیشل ادارے صحیح سمت میں گامزن ہیں ، اور انصاف کی فراہمی میں بہتری کی بدولت عدلیہ کا وقار پہلے سے زیادہ بلند ہوا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور وکلاء تنظیمیں بھی کسی مہم جوئی کا حصہ بننے کی بجائے عدلیہ کے شانہ بشانہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کے لئے ان کوششوں میں معاونت کریں۔
.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔