ہر آگ کو پہلو  میں چھپا لیتے ہیں ساغر

ستم گر کی آنکھیں بدلی ہوئی ہیں اور کچھ مجھے بھی اپنا خیال نہیں  رہایا شاید زمانے کی آگ سے اتنا پیار ہے مجھے کہ ہر آگ پہلو میں چھپائے  بے خوف پھرتا ہوں-

میرے شانوں پہ  نہ  عہدہ برآء ہونے کو کوئی ذمہ داری    ہے اور نہ ہی اپنے اچھے مستقبل کی فکر مجھے ستاتی ہے-  ویسے بھی جو آتا ہے بس ایک اودھم مچاتا ہے اور چلا جاتا ہے – نہ آنے والے کو کوئی فکر نہ لانے والے کوکوئی غم- ہماری آستینوں میں چھپے سانپ جن کو ہم  نے دودھ پلا کر اس نہج پہ پہنچایا  آج جب ہمیں ڈستے ہیں تو ہم پھر بھی کوئی شور کوئی واویلا نہیں کرتے – امریکہ کے ٹرمپ ہوں یا  برکس کانفرنس کے سربراہان سب ہمیں ہی موردِ الزام کیوں ٹھہراتے ہیں- نہ ہم اپنا  گریبان ٹٹول سکے اور نہ ہم نے کوئی ایسا لیڈر ہی پیدا کیا  ہےجو ہماری بات بھی کرے-

ایک ملک جو چار سال بغیر وزیرِ خارجہ کے چلا  اب  آج وہ  دنیا کی عدالت میں کیا اپنا موقف پیش کرے- جہاں لڑائی جھگڑے سے فرصت نہیں وہ کیسے اپنے آپ کو امن  کا داعی بتائے-پسند نا پسند جہاں ترقی کا میرٹ ہو وہاں قابل لوگ کیسے آگے آئیں- آپ کے من پسند لوگ تو ریٹائر ہو کے بھی ریٹائر نہیں ہوتے تو اس ملک کی بھاگ ڈور کیسے نئی نسل یا کچھ مختلف سوچنے والے  کے ہاتھ آئے جو ڈوبتی کشتی کو کنارے لگائے- جدت کی راہ دکھائے  اور سب کے لئے برابری کی سطح پہ ایک میرٹ بنائے  ورنہ بے یقینی اور مایوسی کا شکار نوجوان تو انصارالشریعہ کا ہی آلہ کار بنے گا-

 پڑھے لکھے نوجوان جب تباہی کا رستہ چنتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ شاید اسے بتانے والا کوئی نہیں – اسے سمجھانے والا کوئی نہیں اور اسے سیدھی راہ دکھانے والا کوئی نہیں- پھر سوچتا ہوں اس کو بتانے والے بھی بہت اور اس کو بھٹکانے والے بھی بہت لیکن شاید وہ اصل راہنما اور اپنے  رہبر سے کبھی ملا ہی نہیں – ایک مومن کی راہبری کے لئے تو قرآن  کریم ہی بہت تھا جو صدیوں پہلے تکمیل کو پہنچااور مکمل ضابطہء حیات بنا پھر کیوں  فرقے بنے ان کے اپنے اپنے منشور بنے اور  اپنے اپنے قتال کے دستور بنے-    کی صلح جوئی – رحم خوئی اور امن پسندی  کی راہ کوئی نہیں دکھاتا- مدرسوں مسجدوں میں منبر سنبھالنے والا اپنے اپنے فرقے کا مائیک سنبھالتا ہے اور سارا دن  کفر کے فتوے اور قتال کے اعلان کرتا ہے – کیوں حکومت ایک ہی میانہ روی کا نصاب پڑھا کر پڑھے لکھے عالم کو  ان عہدوں پہ نہیں لگاتی – جب تک ایسا نہیں ہوگا اس امن کے مذہب کے نام پر امن نہیں آئے گا- اخلاقی مبلغین جب حاکم ِ وقت اور طاقتور کے لئے بچاؤ  کے رستے نکالیں گے  تو منفی طاقتوں کے آلہء کار بنیں گے خواہ وہ خود کتنے ہی شفاف اور انصاف پسند ہوں-         

عنانِ حکومت سنبھالنے کے لئے ذہن کو سازشی ہونا چاہئے- کرسی سے گرانے اور  انتخابات کو جیتنے کا گر ہونا چاہئے- دلوں پہ حکمرانی کون کرتا ہے –  اپنے اپنے مفادات کی نگہبانی پہ کون کون سے اتحاد بنتے ہیں اب کس سے کیا چھپا ہوا ہے- جمہوریت سے مارشل لاء اور سیاست سےاسٹیبلشمنٹ کا سفر،چوہے بلی اور آنکھ مچولی کےکھیل  کےمنظر  ،ہم کب تک دیکھیں گے- یہ کشمکش نوے کی دہائی سے کچھ ایسی پروان چڑھائی گئی کہ باریاں ہی لگ گئیں- اپنی باری کے لئے اسٹیبلشمنٹ  کا کاندھا ،کچھ ساز باز ، کچھ سازش  اور کچھ منفی پراپیگنڈہ ہوتا رہا-   پچھاڑتے رہے – گراتے رہے اور اخلاقیات دفن کرتے رہے- وقت نے کروٹ لی -دونوں جماعتوں نے اس حقیقت کو سمجھا   اور ایک چارٹر آف ڈیموکریسی بنایا- ایک عہد کیا کہ ایک دوسرے کے خلاف اب کسی  سازش میں حصہ داری نہ ہوگی- پھر کیوں کسی نے  عدلیہ کی بحالی پہ یہ کہہ کر جان چھڑوا لی کہ  سیاسی معاہدے کوئی حدیث یا آسمانی صحیفے نہیں ہوتے جن کی پابندی اتنی ضروری ہو- کیوں اس  بات پہ معاہدے گئے- باہمی  برداشت گئی  اور در گزر کرنے کی  جہت  بھی گئی- پہن لیا اس معاہدے نے  سازش کا کالا کوٹ اور  کر لیا سپریم کورٹ کا  رکھ -میمو  گیٹ کے مسئلہ کودی ہوا اور  یہ  سب سے بڑا مسئلہ کسی کی ملک سے غداری کے زمرے میں آیا۔  ایک منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجنے کافیصلہ کردیا- کسی کو جب توہینِ عدالت پہ سزا ہوئی تو خوب شادیانے بجائے  گئے ، مبارک بادیں وصول کی گئیں  اور سیاست کے میدان کے بڑے جغادری ہونے کا اعزاز اپنے نام سجایا- حالات بدلے ،وقت بدلا – پانامہ کا ہنگامہ آیا تو بھر یہی چارٹر آف ڈیموکریسی یاد آیا- نا اہل ہو کر گھر پہنچے تو سازشیں یاد آئیں – گذرے واقعات یاد آئے  اور اپنے پاؤں پہ کلہاڑی چلانے پہ صاحب خوب تلملائے اور جلسے جلوسوں کی باتیں ہوئیں- نظام بدلنے کی باتیں ہوئیں- گندے کپڑے پارلیمنٹ میں دھونے کے مشورے ہوئے اور ایوان ِ بالا کی بڑائی  اپنے مفادات کے لئے مقدم ہوگئی – بل پاس کروانے کے لئے جوڑ توڑ شروع ہوئے- جب کچھ نہ بنا تو عوام کی عدالت لگانے کا عندیہ دیا کہ جیسے عوام آپ کے لئے ہمیشہ سے ہی  آپ کی اول ترجیح تھی – اگر عوام ہی  پہلی   محبت تھی تو ملک میں لوٹ مار کیوں- چور بازاری کیوں- مہنگائی کیوں – ادویات کی گرانی کیوں- بے روزگاری کیوں  اور پڑھے لکھوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی- اب میلے پھر سڑکوں پہ لگیں گے- وہی  الزام تراشی – وہی دشنام طرازی اور وہی  چور ڈاکو  و لٹیرے کہتے جلاؤ گھراؤ کے مظاہرے- ہر آگ پہلو میں چھپائے ہم پھر لنکا ڈھانے کو تلے ہوئے ہیں- لوٹ مار تو اس ملک میں انتہا کی ہوئی ہے ورنہ ملک اتنا بانجھ نہ تھا کہ  دنیا کے ہر چوک چوراہے پہ  ہمارا  ہی گریبان چاک ہوتا- جس کا  کچھ بس نہیں چلتا  اس کا بس صرف ہم پہ ہی چلتا- ڈو مور کے مطالبے اگر ستر ہزار جانوں کے نذرانے کے بعد بھی ہوں تو تصور کر لیجئے کہ  آپ قربانی کے وہ بکرے ہیں جو بغیر تکبیر کے ہر جگہ ذبح بھی ہوئے اور سنت بھی پوری نہ ہوئی- قومی لوٹ مار پہ کہیں سے تو شروعات ہونا چاہئیں -  ملک میں کئی دفعہ وزیر اعظموں کا احتساب ہوا ہے  پرشفافیت لانے والے ادارے مضبوط نہیں ہوئے-  ہر کسی کا  قومی دولت کے حصول میں حصہ تو بڑھا  لیکن کوئی پابند ، سلاسل نہ ہوا کہیں گواہ بھاگ گئے کہیں ثبوت جل گئے- کسی کی کمر درد اتنی شدید تھی کہ بیرون ِ ملک ناچ گانے کی لوچ  سے بہتر ہوئی اس پس منظر میں ہر کسی کے دامن میں آگ ہی چھپی ہوئی ہے – جب تک ایک کڑے اور منصفانہ احتساب سے اسے بجھایا نہ جائے گا  اس کی چنگاریاں ملکی مفاد کو جلاتی رہیں گی- سوچئے اور فیصلہ کیجئے کہ زندگی اب ہمیں بھی  کچھ عزت و احترام سے  بسر کرنی ہے  اور اس عزت کے حصول کے لئے نفرتوں کی آگ بجھا دیجئے – قرآن اور ایمان کو اپنا  راہنما بنائیے اور سچے پاکستانی کا  آج سےسفر شروع کیجئے-

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔