وسطی ایشیا کی کھڑکی ہی بن جاؤ

بلاگ
محمد عباس خاں

ازبکستان کے اوّل صدر بابائے قوم مرحوم اسلام کریموف نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں سنگھائی تنظیم میں شرکت کے لئے پاکستان کی انتہائی حد تک مدد فرمائی تھی۔ انہیں اس کردار پر فخر تھا۔ مجھے یاد ہے ایک ایسے وقت جب وہ ایک ہی مرحلے میں تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس، پھر اسلامی کانفرنس کا اجلاس اور پھر چینی صدر کا تین روزہ دورہ منعقد کروا رہے تھے وہ جسمانی طور پر کس طرح اپنی تھکن چھپاتے ہوئے ہم صحافیوں کے سامنے اس پر فخر کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کیلئے اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وسطی ایشیا کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اہم ہیں لیکن ان پر افغانستان و امریکی مفادات کا سایہ پڑتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اگر چہ پچھلے پچیس سالوں سے یہ اعلان کرتے آرہے ہیں کہ ہم وسطی ایشیاء کا گیٹ وے ہیں لیکن عمل میں ہم وسطی ایشیا کیلئے ایک دروازہ تو کیا ایک کھڑکی بھی نہیں بن سکے۔ دراصل اپنی ترجیحات طے ہی نہیں کرسکے۔ راقم پچھلے پچیس سالوں سے وسطی ایشیا کے بارے میں دو نکات پر زور دیتا رہا ہے۔ اوّل تو چین والے راستے کو استعمال کرتے ہوئے کرغزستان اور قزاخستان پہنچا جائے۔ وہاں سے آپ کا مال خود اپنا راستہ تلاش کرے گا اور روس کی منڈیوں تک پہنچ جائے گا۔ دوسرے افغانستان کے مسئلے کے حل ہیں امریکا یا بھارت آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا ۔ انہیں یہ چاہے کہ وہاں امن نہ ہو اور ایک تو ان کا وہاں رہنے کا جواز مہیا رہے گا۔ دوسرے وہ اس اسلامی علاقائی تعاون یعنی وسطیٰ ایشیا ء پاکستان ایران ترکی پر یہاں رہ کر منفی انداز میں اثرانداز ہو سکتے ہیں، وہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو ہم سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہر حربہ استعمال کریں گے۔ اس لئے یہ تاپی اور کاسا ایک ہزار وغیرہ یہ سب پروگرام لٹکے رہیں گے۔ البتہ بیورو کریسی کے دورے ہوتے رہیں گے اور ہمارے سیاستدان یا راہنما بیان دیتے رہیں گے۔ اوّل تو ایسے کسی پروگرام نے کامیاب ہی نہیں ہونا جس میں بھارت آپ کے ساتھ شامل ہے۔ دوسرے جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا وہاں سے کوئی پائپ لائن جاہی نہیں سکتی۔ اگر آپ بچھا بھی لیں گے تو روزانہ بارودی حملوں کا نشانہ بنتی رہے گی۔ وسطی ایشیا کے ساتھ آپ کے وہ پروجیکٹ کامیاب ہو سکتے ہیں جو کہ آپ اپنے بل بوتے پر یا پھر چین و روس کی شمولیت سے مکمل کریں گے ۔ باقی امریکی امداد یا بھارتی شمولیت سے کچھ بھی نہیں ہو گا۔ ربع صدی ضائع کر دی ہے اور آگے بھی آپ لٹکے رہیں گے۔ چونکہ بنیادی طور پر افغانستان میں پاکستان کے مفادات امریکی و بھارتی مفادات سے ٹکراتے ہیں۔ ہم وہاں امن چاہتے ہیں جبکہ وہ وہاں بدامنی اور ان کی افواج کی موجودگی کا بہانہ چاہتے ہیں ، اور پھر یہ کہ وہاں موجود رہ کر وہ عملی طور پر روس چین پاکستان کو نہ صرف زیر نظر رکھتے ہیں بلکہ آسانی سے نشانہ بھی بنا سکتے ہیں۔ لہذا پاکستان کو اپنی ترقی عزیز ہے تو اسے اپنے مفادات بھی عزیز رکھنے ہوں گے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔