گناہ اور اختلافات

بلاگ
ابویحییٰ

گنا ہوں کی طرف لے جانے والا ایک بہت اہم عامل یہ ہے کہ انسان اپنے اندر انانیت کا ایک پہلو رکھتا ہے ۔ وہ چیزوں کو اپنے زاویے اور ذہن کے لحاظ سے دیکھتا ہے ۔ جب کسی معاملے میں ایک دفعہ اس کی رائے قائم ہوجائے تو پھر وہ دوسروں کو یہ حق دینے کے لیے بارہا تیار نہیں ہوتا کہ وہ اس سے اختلاف کریں ۔ اور اگر کوئی شخص اختلاف کرنے کی جرأت کر لے تو پھر انسان غصہ و نفرت کا شکار ہوجاتا ہے ۔

اس حالت تک پہنچے کے بعد انسان کی انا اسے اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ اختلاف کو عناد تک پہنچادے ۔ وہ اختلاف کرنے والے کو دشمن سمجھے ۔ اس کو بدنام کرے ۔ اس پر الزام لگائے ۔ اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کرے جو اس نے نہیں کہیں ۔ اس کو دوسروں کی نظر میں گرانے کی کوشش کرے ۔ یہ رویہ سر تا سر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا رویہ ہے ۔ اور غور کیا جائے تو یہ سب سے بڑ ھ کر شیطان کا رویہ تھا۔ اسے جب حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدے کا حکم ملا تو اس کی انانیت جاگ اٹھی۔ وہ تکبر کا شکار ہو گیا۔ اور آخرکار وہ اللہ تعالیٰ کے خلاف سرکشی اور بغاوت پر آمادہ ہو گیا۔
شیطان یہی کام اب انسانوں کے درمیان کرتا رہتا ہے ۔ وہ انسانوں کی اس کمزوری سے واقف ہے کہ انسان جب ساتھ رہتے ہیں تو بہرحال ان میں اختلاف ہوجاتا ہے ۔ وہ اس اختلاف کو ہوا دے کر غصے اور انتقام میں بدل دیتا ہے ۔ جس کے بعد انسان اللہ کی ہر حد پامال کر کے سرکشی اور فساد کا باعث بن جاتا ہے ۔
اس اختلاف کی ایک نمایاں مثال ساس بہو کا وہ جھگڑ ا ہے جو ہمارے ہاں اکثر گھروں میں معمول بن گیا ہے ۔ خاندانی نظام میں ایک لڑ کی جب کسی مرد سے بیاہی جاتی ہے تو وہ بالعموم علیحدہ رہائش اختیار نہیں کرتی بلکہ سسرال میں آ کر رہتی ہے ۔ ایک مختلف ماحول سے آنے والی اس لڑ کی کا سامنا ایک نئے ماحول سے ہوتا ہے ۔ ایک دوسرے کی عادات اور رویوں کے بارے میں پوری معلومات نہیں ہوتی۔ پھر ہر شخص کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ۔ اپنی خواہشات ہوتی ہیں ۔ یوں اختلاف کی بنا پڑ جاتی ہے ۔
یہ اختلاف فطری ہے ۔ اس کو حل کرنے کا ایک طریقہ صبر اور برداشت ہے ۔ ایڈجسٹمنٹ اور عفو و درگزر کا راستہ ہے ۔ مگر لوگ اس حل کی طرف آنے کے بجائے فوراً اپنی مرضی کے مطابق معاملات کا رخ پھیرنا چاہتے ہیں ۔ بدگمانی شروع ہوجاتی ہے ۔ تجسس سے کام لیا جاتا ہے ۔ غیبت اور بہتان کو راہ مل جاتی ہے ۔ عدل و احسان کو ایک کونے میں رکھ دیا جاتا ہے ۔ جس کے بعد نہ صرف گھر کا سکون تباہ و برباد ہوتا ہے بلکہ اللہ کی حدود کی نافرمانی کا کھلا مظاہرہ شروع ہوجاتا ہے ۔
ہم جب توبہ اور خود احتسابی کا عمل شروع کریں تو اس بات کا بھی جائزہ لے لیں کہ ہم اختلاف کی حالت میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ ہر اجتماعی موقع پر بہرحال اختلاف ہو گا۔ مگر ایسے میں کبھی انانیت کو سراٹھانے نہ دیں ۔ اختلاف ہوجائے تو کبھی عدل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑ یں ۔ بلکہ احسان کی مٹھاس سے پیدا ہونے والی ہر تلخی کو ختم کر دیں.

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔