دہشت گردی کی یہ خوں آشام جنگ    

یقینا" ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ٗٗٗٗٗٗٗٗ

بے شک ربِ جلیل نے اسے اشرف المخلوقات بنایا- پھر کیوں ہم نے اس کی بہترین ترتیب کوچیتھڑوں میں اڑا دیا - دھرتی کا امن رخصت کر دیا اور فضاؤں کو  دلخراش مناظر ، چیخ و پکار آہ و فغاں میں بھر دیا-

چند دن میں موت نے آنکھوں کو یوں پتھرا دیا کہ دہشت ، خوف اور  خون میں نہلائے اور غم سے کملائے ہوئے چہروں نے وطن ِ عزیز کی گلیوں اور کلیوں کو سوگوار کردیا- لاہور کا مال روڈ ہو یا کوئٹہ کا سریاب پل،بات پھولوں کے شہر پشاور کی کروں یا صوفیوں کی زمین سیہون شریف کی  ایک دفعہ پھر ہر آنکھ اشک بار اور غمگین ہے- امن کی ہوک ہر دل سے اٹھتی ہے-کیونکہ زندگی امن کی فضاؤں ہی میں نمو پاتی  اور پھلتی پھولتی ہے- آنگن آباد ہوتے، چمنیوں سے دھوئیں  نکلتے، صنعتوں کے پہیے گھومتے ، کونپلیں پھوٹتی اور پھول مہکتے ہیں- سکولوں ، مسجدوں   ، کوچوں ، بستیوں ، درگاہوں اور شاہراہوں  سے آتی سلامتی کی صدائیں اور شام کو گھر پلٹنے والوں  کے انتظار کرتی  ہوئی آنکھیں جب اپنے سامنے بچھی قتل گاہیں دیکھتی ہیں تو سینہ ہی پھٹ جاتا ہے-ہے کوئی اصول دہشت گردی کی اس  جنگ کا ، ہے کچھ محفوظ  اس رحمت اللعامین ؐکی امت کا جس کا گمراہ  نام نہاد امام  قتال کے فتوے دیتا اور حوروں کے ایسے سپنے کم عمر ذہنوں میں سنجوتا ہے کہ  مرنے والا دوزخ کا ایندھن ہی بن جاتا ہے- اس بے اصولی کی لڑائی کے کوئی قاعدے اور قانون نہیں ہیں حالانکہ۔۔

جنگوں کے بھی دنیا  میں  کچھ اصول  ہوتے ہیں

بوڑھے ،  مائیں محفوظ ان  کے پھول  ہوتے ہیں

نہیں  ہوتی  لڑائی ان  سے  جو  خود نہیں  لڑتے

نہتے ،  ناتواں ، نہ کمزور وہاں  مقتول ہوتے  ہیں

 

عبادت گا ہ  ،  نہ کسی مسجد  پہ ہوتا  ہے کوئی  حملہ

محاذ  بنتے  نہیں  ان کے جو اسکول  ہوتے  ہیں

دہشت گردی کی اس آگ نے تو ہمارا  کیا کچھ نہیں جلا دیا ہے- فرض شناس افسر ، گمنام سپاہی ، بے گناہ اہلکار، نہتے شہری لقمہء اجل بن گئے ہیں- بچے ، بوڑھے ، جوان، عورتیں اور طالب علم کن نفرتوں کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں کہ درد کا نا ختم ہونے والا یہ سلسلہ سب کو خون رُلا رہا ہے- 13 فروری کی شام سے شروع اس قاتل گری نے کتنے گھر اجاڑے ہیں بیاں سے باہر ہیں- دہشت گردی کی اس خون آشام جنگ نے  جہاں ایک طرف کئی المیے دیے ہیں وہاں فرض شناسی نے بھی وہ داستانیں رقم کی ہیں کہ ماؤں کی کوکھ کا حق ادا کر دیا ہے- حکومتی نا اہلیوں نے  کئی مایوسیاں اور شرمندگیاں تو دی  ہیں لیکن قوم نے جس پامردی  سے اس کا مقابلہ کیا ہے وہ بھی قابل ستائش ہے- ایک طرف اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو رکشوں اور گدھا گاڑیوں میں ڈھوتے  خدائی مدد گار  تھے تو دوسری طرف حکومتی سہولتوں کا فقدان اور بے حسی -لیکن جس نے قوم کو  بہت مایوس کیا وہ شہیدوں کے اعضا ء کی بے حرمتی ہے ۔ آدھا کلومیٹر دور نالے کنارے پڑے یہ اعضا ء بہت سے دلوں میں ان حکمرانوں کے رویوں پہ  کئی سوالیہ نشان اٹھا گئے ہیں اور اس پر سنگدلی کی انتہا ،بے ربط توجیحات  اور ترجیحات کی کہانیوں نے درمیانی رشتے کو نا قابلِ بیاں نقصان پہنچایا ہے- آپ کے شہیدوں کے مزاروں پہ کھڑے سیکیورٹی گارڈ میں سے اگر کچھ تعداد بھی یہاں متعین ہوتی تو کئی زندگیوں کو تحفظ مل سکتا تھا – ایمبولینسز کی قلت ، ناکافی

ریسکیو  ذرائع اور طبی سہولیات نے ترقی کرتے پاکستان کی قلعی کھول دی ہے- زائرین اور مظاہرین سے آپ کے حسن ِ سلوک نے  آپ کی انسان دوست قیادت کو بے نقاب کر دیا ہے- لیکن ہمیں آپس میں عفو درگذر کا مظاہرہ کرنا ہے – اس دکھ کی گھڑی میں مضبوط دیوار بننا ہے اور ایک پاکستان کے خواب کو شرمندہء تعبیر کرنا ہے- یہ سب بھول کے آگے بڑھنا ہے اور حکومتی اداروں کا دست و بازو بننا ہے جس کی تشہیر روز میڈیا کرتا ہے تاکہ اس عفریت کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے اور ہماری آنے والی نسلوں کو اس امن کے گہوراے میں زندگی کی ترقی کے سب  مواقع میسر ہوں-

     ۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔