ایک اندھی دلہن کا گیت

ظہور حسین بہاالدین زکریا یونیورسٹی لیہ کیمپس کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے کوآرڈی نیٹر ہیں، بہت اچھے رائٹر بھی ہیں، شاعر اورڈرامے بھی لکھتے ہیں،وہ جو سوچتے ہیں،خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں جو کھلی آنکھوں سے انہیں محسوس ہوتا ہے وہ اپنے قلم سے لفظوں کا پیرہن پہنا دیتے ہیں ۔اے سانگ آف بلائنڈ برائڈ ۔ ظہور حسین کی انگلش میں شاعری کی ایک کتاب ہے،اردو اور پنجابی میں تو بہت ساری کتب پڑھنے کا شرف حاصل ہوچکا ہے لیکن انگلش میں شاعری کی پہلی کتاب پڑھتے ہوئے ایک عجیب سی تسکین محسوس ہوئی ،اٹھاسی صفحات پر مشتمل سادہ مگر لاجواب سرورق کے ساتھ بہت خوبصورت کتاب ہے، جس میں کل پچاس نظمیں شامل ہیں،ہر نظم ایک سے بڑھ کر ایک ہے، کتاب کا انتساب بھی کتاب کے نام پر ہی یعنی ایک اندھی دلہن کے نام کیا گیا ہے ۔ ایک معصوم سی لڑکی سے متاثر ہوکر لکھی گئی نظم کچھ اس طرح سے ہے یہ نظم نہیں جیسے مرثیہ اور نوحہ ہو۔ اندھی دلہن کا گیت کوپڑھ کر تو میری آنکھیں نم ہوگئیں۔
پاپا آپ کہاں ہیں ؟پاپا پلیز مجھے بتائیں ناں؟سورج کیسے طلوع ہوتا ہے؟ندا کہتی ہے کہ یہ بہت ہی اچھا لگتا ہے ۔سورج سرخ رنگت میں مشرق سے نمودار ہوتا ہے ۔ندا کہتی ہے کہ میں سرخ رنگ کے کپڑوں میں بہت اچھی لگتی ہوں ،وہ کہتی ہے کہ سرخ رنگ کا تو گلاب ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہے کہ گلاب شاہانہ ہوتا ہے ،وہ کل ایک گلاب لے کر آئی تھی، میں نے اسے چھوا اور محسوس کیاتواس کا لبادہ بہت ہی گرم تھا، پاپا گلاب کا رنگ بتائیں نا ں،ندا کہتی ہے کہ دلہن بھی سرخ ہوتی ہے، وہ کہتی ہے کہ وہ بھی کسی دن دلہن بنے گی، دلہن سرخ ہوتی ہے اور گلاب بھی سرخ ہوتا ہے، پاپا میں بھی دلہن بنوں گی کیونکہ گلاب بہت ہی پیارا اور خوشنما ہوتا ہے ۔
پاپا آپ اتنے چپ کیوں ہیں کیا ؟یہ ممکن ہے یا نہیں ہے ؟پا پا کیا میں کبھی گلاب نہیں بنوں گی ؟ٹھیک ہے۔۔ ٹھیک ہے پاپا،صرف دیکھنے والا ہی بن سکتا ہے نا ۔۔پاپامیں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں۔
ظہور حسین ایک استاد ،رائٹر،شاعرہونے کے ساتھ ساتھ دکھی دلوں کا مداوابننے والے ایک مخلص انسان ہیں۔ وہ ہر وقت انہی سوچوں او ر خیالوں میں کھوئے رہتے ہیں کہ کسی کا درد بانٹ سکیں کسی کا کام آسکیں ۔وہ انگلش کے استاد ہیں اور انگلش میں ہی شاعری کرتے ہیں ۔ان کے گزرے شب و روز،زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کواپنی شاعری کا حصہ بناتے ہیں ۔ظہور حسین کہتے ہیں کہ اپنے خیالات کا اظہار کر کے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے اور دلی سکون محسوس کرتا ہوں ۔وہ کہتے ہیں کہ میں ایک مختلف قسم کا نسان ہوں اور کچھ نیا اور خاص کرنے کا سوچتا رہتا ہوں۔میں اکثر راتوں کو اٹھ اٹھ کر ،جب بے چین ہوتا ہوں کاغذ قلم اٹھاتا ہوں جومیرے دل ودماغ میں ہوتا ہے پھر لکھنا شروع کر دیتا ہوں ۔
ویسے تو کتاب میں موجود پچاس نظمیں اپنی مثال بے مثال ہیں لیکن چند ایک نظموں نے بہت متاثر کیا جن میں ،میں برائے فروخت ہوں ،سپرمون ،اور وہ واپس آئے گی ،ایک خواب ،وقت بدلتا ہے ،سیاستدان کا بیٹا،ایک سیا ہ دن، تم نے مجھے کیوں مارا،اے ٹی ایم اور روح کا سفر شامل ہیں ۔
اس کتاب ۔اے سانگ آف بلائنڈ برائڈ ۔ میں موجود ایک اور نظم بن باپ کے بچے کا گیت بھی انتہائی درد ناک ہے ۔ معصوم بچہ کہتا ہے کہ میں ہوں چھوٹا اور کمزور بھی ہوں، تھکا ہوا ہوں، مزید چل نہیں سکتا ،وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں،میں ناکارہ ہوں ،میں ایک بوجھ ہوں ،میں بھوکا ہوں،خدا کے لئے مجھے بتائیں کہ میرا باپ کون ہے ،کوئی میری بات نہیں سنتا ،میں بہت چھوٹا ہوں ،دنیا بہت بڑی ہے ،وہ اپنے باپ سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ نہیں آئیں گے کیونکہ میں ایک بد قسمت بچہ ہوں۔
ظہور حسین ہر نظم میں زندگی کی تلخ سچائیوں کو ،احساس کو ، دل سے نکلی ہر آواز کو سپرد قلم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ظہور حسین کہتے ہیں کہ میں نے زندگی سے بہت کچھ سیکھا اور زندگی نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔ پیار ،چہرہ ،کوڑا دان ،کروں یا نہ کروں ،پھول نے کہا مجھے کھلنے کا کوئی حق نہیں،آؤ دوبارہ پھر سے میری محبت بن جاؤ،گڈ بائے جیسی نظمیں پڑھ کر ایک عجیب سا احساس ہوا،ان کی سچ بیانی پر میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں ۔میری دعا ہے کہ ظہور حسین ہمیشہ اسی طرح لکھتے رہیں اور اللہ پاک ان کے قلم میں مزید طاقت عطا فرمائیں۔آمین
آخر میں اپنے بہت ہی پیارے بھائی منفرد فیچر رائٹر،محبتیں تقسیم کرنے والے دوست سمیع اللہ خان کا شکر گزار ہوں جنہوں نے کتاب دوستی کو نبھاتے ہوئے ایک خوبصورت کتاب ۔اے سانگ آف بلائنڈ برائڈ ۔کے تحفے سے نوازا، بھائی سمیع اللہ خان ڈائریکٹر ہیں پاکستان ادب پبلشرز کے اور اس انگلش کتاب کی اشاعت ہی ان کے ادارے کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔