انگریز کے وفادار چین کے وفادار کیسے بن پائیں گے

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے گوادر میں خطاب کے دوران بلوچستان کو پاکستان کی تقدیر سے منسوب کرتے ہوئے اسے ٹائیگر آف پاکستان کا نام دیا اور یہاں یونیورسٹی اور ہسپتال بنانے کا اعلان کرتے ہوئے ایک ارب روپے کی گرانٹ کی منظور دی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گوادر اور سی پیک پاکستان کی تقدیر کو سنواریں گے لیکن کیا بلوچ سردار انہیں ایسا کرنے دیں گے۔کہیں ان کی انا پھر بلوچستان کی گردن پر تلوار تو نہیں رکھ دے گی۔؟؟؟ بلوچستان کے مسئلے کا جب بھی ذکر آتا ہے تب بلوچستان کے سردار بھی ذہن میں آتے ہیں۔ اب سی پیک تو بلوچستان میں بن رہا ہے تو کیا بلوچ سردار اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے اور کس طرح اپنے اپنے علاقوں سے سی پیک کو گزرنے دیں گے ؟یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا نہ تو جواب مرکزی حکومت کے پاس ہے نہ صوبائی حکومت کے پاس ۔ یہ لوگ کتنے طاقتور ہیں یہ کوئی نہیں جانتا ۔ ان گنت سوالات ان خدشات کی کوکھوں سے جھانکتے ہیں جو بلوچستان کی تاریخ میں لکھا ہوا ہے۔

ویسے بلوچستان کا سرداری نظام کافی پرانا ہے ۔میرے دادا ان سرداروں کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے اور ان کے ساتھ بہت پل گزارے بھی تھے انہوں نے مجھے بہت کچھ بتایا تھا۔ جغرافیائی حالات کے مطابق بلوچستان کا سرداری نظام جو موجودہ دور میں ہے اس کی بنیاد رابرٹ سنڈیمن نے 1876 میں رکھی تھی جب وہ بلوچستان کے چیف کمشنر اور گورنر جنرل ہند مقرر ہوئے تھے ۔اس نے بلوچستان میں سرداروں کو بہت سی مراعات دیں، انہیں ذاتی اورسرکاری نوکریاں دیں اور ہزاروں لوگوں کو ان سرداروں اور ان کی اولادوں کو خصوصی وظیفہ جات دیئے جاتے تھے ۔ ان کو پڑھانے کیلئے بیرون ملک بھیجا جاتا تھا تاکہ ان کی اولاد تعلیم یافتہ ہو. ملک سمیت بیرون ملک میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں ان سرداروں کی۔ سب سردار اعلٰی تعلیم یافتہ ہیں ۔کئی سردار آج بھی اپنے اپنے علاقوں میں بیٹھے ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے حکومت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ بلوچستان میں غریب کا بچہ غریب تر اور امیر کا بیٹا امیر تو ہوتا جا رہا ہے .اگر غریب کا بچہ پڑھ لکھ لیتا ہے تواس کو اعزازی منشی کی ڈگری ہی دی جاتی ہیں۔میاں نواز شریف بلوچستان کی تقدیر بدلنے کے لئے پرعزم ہیں تو انہیں غریب بلوچ کو بدلنا چاہئے۔سرداری نظام کو مکمل ختم کرنا چاہئے۔
سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 8 اپریل 1976ء کو کوئٹہ میں سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا تھامگر تا حال اس پہ عمل نہ ہو سکا ۔مرحوم ضیاء الحق نے تمام سرداروں کو اپنے اپنے علاقوں میں امن کیلئے خوش کیا اور خود آرام سے حکمرانی کے مزے لیتے رہے ۔ اسی طرح پرویز مشرف نے بھی یہ نظام ختم کرنے کی بھر پور کوشش کی جس کی وجہ سے نوب اکبر بگٹی کو بھی شہید کیا گیا مگر پھر بھی سرداری نظام بالکل ختم نہیں ہو سکا۔ آج بھی بلوچستان میں کئی سرداروں کے اوطاق سسٹم اور جبری مشقت لینے والا نظام موجود ہے۔ یہ سردار اپنے من پسند فیصلے کرتے ہیں۔ آج کے حالات میں کوئی سردار اپنے علاقے میں تن و تنہا نہیں گھومتا ۔اس کے ساتھ دس بیس باڈی گارڈ ہوتے ہیں ۔آج کے دور میں تمام سردار اپنی اپنی حفاظت کیلئے دوسروں کا سہارہ لیتے ہیں ۔کل ان سرداروں کا کیا حال ہو گا جب سی پیک بنے گا؟ کل یہ سب سردار سی پیک کی وجہ سے انگریزوں کی وفاداریاں یاد کریں گے ۔وہ سی پیک کی وجہ سے کیسے انگریزوں کو بھول پائیں گے جن کی دولت سے آج تک تمام سردار عیش کر رہے ہیں۔ کیا ان انگریزوں کو پاک چین دوستی گورا ہوگی؟ بلوچوں کا مشہور قول ہے کہ ’’جب آپ اپنا حق لینے کے لیے کھڑے ہوں تو سب سے پہلے آپ اپنی جان سے ہاتھ دھونے کے لیے تیار ہو جائیں ۔ہو سکتا ہے اس جنگ میں آپ کی جان چلی جائے ۔لیکن جان جانے سے آپ کے لوگوں کو اگر کسی کا حق مل جائے تو وہ آپ کی قربانی ضائع نہیں جائے گی۔‘‘
بلوچوں میں بدلے کی آگ ہر وقت موجودرہتی ہیں ۔نہ جانے بلوچ سرداربلوچستان کی ترقی میں سی پیک منصوبہ کے دوران چین کا ساتھ دیں گے یا نہیں؟ کیونکہ انگریزکے وفادار ترقی یافتہ چین کے ساتھ وفا کرنے سے پہلے بہت کچھ سوچ رہے ہیں۔بلوچستان کی تقدیر بدلنے والوں کو اس راہ کی رکاوٹ بننے والوں کے بارے میں کچھ سوچنا ہوگا۔۔۔مگر امن اور بھائی چارے کے ساتھ۔ جنگ کے میدان سے زیادہ مذاکرات کی میز زیادہ بہتر طریقہ سے سجا لی جائے تو معاملات طے ہوجاتے ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔