تاشقند کے اردو چائے خانہ میں پروفیسر طاش مرزا کی سالگرہ

کل کی بات ہے ،تاشقند میں تاریخی طور پر اردو دانوں کا وسطی ایشیا میں سب سے بڑا اجتماع ممکن ہوا، دراصل کل تاشقند کے مشہور شرق شناس، اردو دان ، سودیت اور ازبیک سفارتکار ، لسانیات کے عالم اور پاکستان سے تمغۂ امتیاز حاصل کرنے والے پروفیسر طاش مرزا المرزائیف کا 80 واں جنم دین منایا گیا ۔ مرزا صاحب کے یوم پیدائش کی یہ تقریب باغ بابر میں واقع تاج محل ریستوران میں منعقد ہونی ازبکستان میں 1947سے اردو اور ہندی زبانوں میں بڑا کام ہو رہا ہے۔ اول تو ریڈیو تاشقند کا غیر ملکی زبانوں کا شعبہ جہاں اردو، ہندی ، انگریزی کی نشریات 1947 میں ہی شروع ہو گئی تھیں۔ اردو شعبے میں بھارت سے آئے ہوئے سلطان جی اپنی نوجوانی ہی سے کام کر رہے تھے۔ ان کی موت کے بعد راقم بھی دس سال تک اس شعبے میں ایڈیٹر ، نیو زریڈر کی حیثیت سے کامران اختر کے ریڈیاتی نام سے کام کرتا رہا۔ ہماری اردو نشریات کے جواب میں ہمیں 84 ممالک سے سامعین کے خطوط آتے تھے۔ اس شعبے میں بہت سارے ازبیک اور روسی کام کرتے تھے۔ مثلاً گالاجی ، قہرمان ، ہاشم مرادوف، شرف مرزا، رستم وغیرہ اسی شعبے کی روزانہ دو مجلسیں نشر ہوتی تھیں جن میں عالمی خبریں، مقامی خبریں، خبروں پر تبصرہ ، سپورٹس ، تاریخی ڈرامے، خطو ط کے جواب، ازبیکستان غیر ملکیوں کی نظر سے وغیرہ پروگرام ہوتے تھے۔

ریڈیو کے علاوہ رادوگا پبلشرز بھی اردو میں سوویت لٹریچر کے تراجم شائع کرتا تھا ، اور یہاں بھارت سے منظر سلیم ترجمے کا کام کرتے تھے۔ رادوگاپبلشرز عمومی طور پر ادبی کتابوں کے تراجم شائع کرتا تھا۔ سیاسی لٹریجر کے تراجم ماسکو سے پروگریس پبلشر شائع کرتا تھا۔ اگرچہ یہ کتابیں ادبی ہوتی تھیں تاہم اردو میں یہ کتابیں پاکستان میں ہم مزدور لوگ اگر پڑھتے ہوئے پکڑے جاتے تو ہمیں ملک دشمن کے خطابات سے نوازا جاتا۔ حالانکہ پاکستان کی بیوروکریسی اور اشرافیہ کی ذاتی لائبریریوں میں یہی روسی کتابیں انگیریزی میں موجود ہوتی تھیں لیکن ان کی کوئی پوچھ گچھ نہ کی جاتی ۔ بلکہ وہ فخر سے ایک دوسرے کو یہ کتابیں دکھاتے ۔ اس کے علاوہ تاشقند سے رسالہ سوویت ازبیکستان دنیا کی 12 زبانوں میں شائع کیا جاتا۔ اردو زبان کا ترجمہ راقم کرتا تھا۔ اس رسالے کے دفتر میں بھی اردو شعبہ تھا۔جس کے انچارج غفور رخصت اللہ ایف تھے ۔ ازبیکستان میں ایسے چار سکول بھی تھے جہاں اردو زبان باقاعدہ پڑھائی جاتی تھی۔ تاشقند حکومتی یونیورسٹی میں بھی اردو زبان کا شعبہ تھا۔ وہاں بھی بھارت سے آتے ہوئے اردو کے پروفیسر انیس کام کرتے تھے۔ آج کل تاشقند میں ایک کالج میں اردو زبان پڑھائی جاتی ہے۔ پھر شرقیاتی انسٹی ٹیوٹ میں باقاعدہ اردو کا شعبہ ہے جہاں ڈاکٹر مہیا بڑی ذمہ داری سے اردو کی خدمت کر رہی ہیں ازبیکستان میں اردو زبان کے اتنے وسیع نظام کی سوویت زمانے میں خاص خصوصیت یہ رہی کہ یہاں وہ تمام لوگ جو غیر ملکی تھے اور اس نظام کا حصہ تھے وہ سب بھارت سے آئے ہوئے تھے اور ان کی اردو پر ہندی کی چھاپ تھی۔


میں پہلا پاکستانی تھا جو اس نظام کا حصہ بنا ۔ دوسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ تمام ازبیک یا روسی جو یہاں اردو زبان پر کام کر رہے تھے وہ سب جو اہر لال ہزو یونیورسٹی سے کسی نہ کسی طرح اردو زبان کے کورس کر کے آئے تھے۔ وہ سب اردو کو تو جانتے تھے لیکن اردو کے حوالے سے ہندوستان کو ہی اول و آخر جانتے تھے۔ اور وہ سب چالیس سال پرانی اردو بولتے تھے۔


طاش مرزا صاحب نے ازبیکستان میں اردو کو دورِ نوسے روشناس کرایا۔ اردو میں جو تبدیلی پاکستان میں آئی اس کو بھی مرزا صاحب نے ہی واضح کیا۔ انہوں نے ساری عمر اردو پر کام کیا اور اب بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے روسی اردو روسی سفات ترتیب دی اس اہم کاوش پر انہوں نے تیس سال کام کیا ۔ اردو زبان کی گرامر، نحو ، تاریخ اور تبدیلی پر مرزا صاحب کی بہت کتابیں اور مقالے ہیں۔ یاد رہے کہ تاشقند میں ہر دوسال بعد ایفرد ایشین شاعروں و ادیبوں کا اجتماع ہوا کرتا تھا۔ فیض صاحب اکثر تشریف لاتے ۔راقم کو دو دفعہ ان کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ غیر ملکی طلباء و طالبات کی طرف سے ہم نے ان کے اعزاز میں تقریبات منعقد کیں۔ فلسطینی او رکیوبن طلباء و طالبات تو فیض صاحب کے دیوانے ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ تاشقند میں ہر دو سال بعد تاشقند فلمی فیسٹیول بھی منعقد ہوتا تھا۔ جہاں ظاہر ہے بھارت کادور سب سے بڑا ہوتا تھا۔ گنے چنے چند ایک لوگ پاکستان سے بھی ذاتی حیثیت میں آجاتے تھے۔ ہم لوگ انہیں ہاتھوں پر اٹھا لیتے اور جب بھی کوئی پاکستانی تاشقند آتا ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ ہوتا۔ کراچی کے اشرف موشن بھی اپنی فلمیں لے کر آتے۔ صائمہ فلم ایک عرصہ تک یہاں مشہور رہی، قوی بھی آتے۔ ثمینہ پیرزادہ نے بھی چکر لگایا ۔حمید اختر ، کوثر نیازی وغیرہ نے بھی تاشقند کے چکر لگاتے۔ مولانا کوثر نیازی نے تو ’’کوہ قاف کے دیس میں ‘‘ نامی کتاب بھی وسطی ایشیا کے بارے میں لکھی جنہیں انہوں نے راقم کو یہ اعزاز بخشا کہ میرا انٹرویو شامل کیا۔ معراج خالد صاحب سے بھی تاشقند میں یادگاری ملاقاتیں رہیں۔


سوویت زمانہ میں طاش مرزا صاحب اردو کے اس سوویت ازبیک وسیع اشاعتی و ترویجی نظام کا مرکزی کردار رہے، وہ بحیثیت سودیت سفارتکار کراچی فرینڈ شپ ہاؤس کے ڈائریکٹر بھی رہے، پھر ازبیکستان کی آزادی کے بعد وہ اسلام آباد میں ازبیک سفارتخانے کے بانیوں میں سے ہیں۔ پاکستان میں اردو زبان کی کوئی کانفرنس یا سمینار ایسا نہیں ہوتا کہ اس میں مرزا صاحب کا مقالہ نہ ہو۔ راقم کی روسی کتاب ’’ایک رات‘‘ کاپیش لفظ بھی مرزا صاحب نے لکھ کر میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ لیکن ڈاکٹر طاش مرزا المرزا ئیف کا سب سے بڑا کام جو ہے وہ کہ انہوں نے وسطی ایشیا، خامکر ازبیکستان میں سینکڑوں اردودان اور ہزاروں ماہرین کی تعلیم و تربیت کی۔ یہی وجہ ہے کہ تاج محل ریستوران کا وسیع ہال حاضرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اور ہر کوئی مرزا صاحب سے گلے ملنے کو بیتاب تھا۔ پاکستان سے زبیر خان اور راقم نے اس تقریب میں شرکت کی۔


آج کل تاشقند میں ایک غیر سرکاری ’’اردو دانوں کا چائے خانہ‘‘ بھی ہے۔ جہاں ہم سب جو پرانے صحافی اور ریڈیو یا پبلشر ادوگامیں اردو ہندی زبانوں میں کام کرتے رہے ہیں ہر مہینے کے پہلے ہفتہ میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ ازبیک قومی رسم کو نبھاتے ہو چائے خانہ میں خود سب مل کر کھانا کھاتے ہیں ۔ازبیک پلاؤ پکاتے ، کھاتے اور ماضی کو یاد کرتے ہیں۔ مرزا صاحب ہمارے اس چائے خانہ کے باقاعدگی سے شرکت کرنے والے ممبرہیں۔ چائے خانہ کے ازبیک ممبران اگرچہ اردو بہت اچھی طرح جانتے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم لوگوں نے پاکستان دیکھا ہے ۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ان چند افراد کو کم ازکم اسلام آباد لاہور کا چکرہی لگوادیں۔
حکومتِ پاکستان نے اس سے قبل پروفیسر محمد جانوف محمد بردیٹف کو ان کی موت کے بعد تمغۂ امیتاز عطا کیا تھا۔ یا پھر چند سال قبل پروفیسر طاش مرزا صاحب کو اس اعزاز سے نوازا گیا۔ تاشقند اور نٹیل انسٹی ٹیوٹ میں پاکستانی سفارتخانے کی مدد سے ایک پاکستان روم بھی بنایا گیا ہے۔ پاکستان کے اہل ارباب سے درخواست ہے کہ اردو کے حوالے سے انہیں چاہیے کہ تاشقند شرقیاتی انسٹی ٹیوٹ اور اردو لیسہ کی جتنی مدد ہو سکے کی جائے ۔ تاکہ ظہیر الدین بابر اور تیمور بیگ کے دیس سے ہمارے لسانی رشتے مزید طاقتور ہو جائیں ۔


یا د رہے کہ ازبیک اور اردو زبانوں میں اڑھائی ہزار سے زیادہ مشترک الفا ظ ہیں، صرف گرامر کا فرق ہی رہ جاتا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔