اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کا عذاب

وطن عزیز اس وقت ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے ۔ یہ کیفیت کئی جہتی ہے ۔ اس نے بیک وقت تشویش کو بھی جنم دیا ہے اور امیدوں کے کچھ چراغ بھی روشن کئے ہیں ۔ اس نے عوامی سطح پر محاذ آرائی کو شدید تر کیا ہے اور سیاسی ماحول میں تناؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے مخالفتوں کو عناد تک پہنچادیا ہے ۔ اس کیفیت نے کہیں خدشات و خطرات کی تخم ریزی کی ہے تو دوسری جانب صبر آزما جدوجہد کے بعد کامیابی کی منزل کو قریب تر آتے دکھلایا ہے ۔ اس نے کہیں نظام کے لپیٹے جانے کے توہمات کو رسوخ بخشا ہے تو کہیں بہتر مستقبل کی جوت دلوں میں جگائی ہے۔ اس حوالے سے دو آراء نہیں ہوسکتیں کہ پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی اوپر سے نیچے تک اپنی جڑیں بڑی گہری کرچکی ہے ۔ کون سا محکمہ یا کون سا طبقہ ایسا ہے جہاں بدعنوانی کی لعنت سرایت نہ کرچکی ہو ۔انتظامی ، سیاسی اور حکومتی سطح پر اس کے پھیلاؤنے ملک کو اخلاقی ، معاشرتی اور معاشی حوالوں سے بدترین نتائج سے دوچار کردیا ہے ۔ اس نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے اور ہمارے معاشرتی و معاشی تارپود بکھیر کر رکھ دیئے ہیں ۔
اس گھمبیر صورت حال سے ملک کا ہر با شعور فرد آگاہ ہے۔ دردِ دل رکھنے والے لوگ مدتوں سے کڑھتے چلے آرہے ہیں۔ ان کی صدقِ دل سے یہ خواہش رہی ہے کہ آکاس بیل کی طرح ملک کو چاٹ کھانے والی اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور پورے ملکی نظام کو شفافیت کا عکاس بنادیا جائے ۔ لیکن شومئی قسمت ان کی یہ خواہش ، ان کے دلوں میں ہی مچلتی رہی اور انہیں اس کے پورے ہونے کی کوئی آس دکھلائی نہیں دیتی رہی۔ وہ بڑی بے بسی اور لاچارگی سے اس سے نفرت کا اظہار بھی کرتے چلے آئے ، اس کے خلاف صدائے احتجاج بھی بلند کرتے رہے، لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا تھا۔
2013ء کے انتخابات سے قبل کے حکم رانوں کے بارے میں قومی اور بین الاقوامی سطح پرکرپشن اور بدعنوانی کی داستانیں بچے بچے کی زبان پر تھیں۔ حکم رانوں نے لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے نت نئے طریقے اپنا رکھے تھے۔اس صورت حال نے سارے معاشرے کو اپنے مستقبل کے حوالے سے بد ترین خدشات سے دو چار کررکھا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے حکم رانوں نے تب کے مقتدر افراد کا نام لے لے کر ان کا پیٹ چا ک کرکے ملک کی لوٹی ہوئی دولت کو وہاں سے نکال کر عوام کو لوٹانے کے فلک شگاف دعوے کئے تھے ۔ یہ دعوے اور وعدے ’’دیوانے کی بڑ‘‘ سے زیادہ حیثیت اختیار نہ کرسکے ۔ آج کے حکم ران ماضی کے حکم رانوں کا پیٹ تو کہاں چاک کرتے ، انہوں نے اپنے محلات میں ان کی پذیرائی اور مہمان نوازی کے نئے ریکارڈ قائم کر ڈالے۔
ایسے میں اس ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے ناسور کی جڑیں کاٹنا تو کجا ، اس کے خلاف مہم کا آغاز بھی ناممکنات میں سے نظر آتا تھا ۔ پانامہ لیکس کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے وطن عزیز کے باسیوں کو یہ سنہری موقعہ عطا فرمایا کہ وہ اگر اپنے ملک سے کرپشن کی جڑیں کاٹنے کا عزم رکھتے ہیں اور اس کام کو سنجیدگی سے شروع کرنا چاہتے ہیں تو وہ آگے بڑھیں اور اس موقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے اس لعنت کے خاتمے کے لئے سربکف میدان عمل میں کود پڑیں ۔ صدر مملکت جناب ممنون حسین نے کچھ عرصہ پیشتر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہی امکانات و توقعات کی طرف اشارہ کیا تھا اور پانامہ کے ہنگامے سے غیر متوقع نتائج کے حصول کی نوید سنائی تھی۔
اور پھر ایسے ہی ہوا ۔ اگر موجودہ حکم رانوں نے اپنے انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس سنہری موقعہ سے فائدہ اٹھایا ہوتا اور پانامہ لیکس میں مذکورہ تمام مبینہ بدعنوان پاکستانیوں کے خلاف شفاف تحقیقات کا آغاز کروادیا ہوتا توشاید وہ اس ذلت آمیز صورت حال سے کسی حد تک بچ جاتے جس سے وہ آج دوچار ہیں ۔ شاید من کا چور ان پر حاوی ہوگیا ۔ اسی لئے انہوں نے ابتداءً پانامہ لیکس سے بے اعتنائی برتی اور یہ یقین کرلیا کہ بالآخر یہ معاملہ عوام کے ذہنوں سے محو ہوجائے گا، اور جب ایسا نہ ہوا تو انہوں نے ان لیکس کو ردی کا ٹکڑا قرار دینے کی باقاعدہ مہم شروع کردی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شریف فیملی پر کرپشن اور بدعنوانی کے جو الزامات عائد کئے گئے ، اس سے کئی گنا زیادہ بدعنوانی کے مرتکب افراد بے شمار ہوں گے ۔ کئی ایک لوگوں کی کرپشن کا سکیل شریف فیملی سے بہت زیادہ ہوگا ۔ کجھ عجب نہیں کہ سابق حکم ران نے اس حوالے سے شرم ناک ریکارڈ قائم کئے ہوں۔۔۔ لیکن اے کاش کہ آج کے حکم رانوں نے ماضی کے حکم رانوں کے پیٹ چاک کئے ہوتے جیسا کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران پر جوش انداز میں صرف ایسا ہی نہیں کرنے ، سڑکوں پر گھسیٹنے کا بھی وعدہ کیا تھا ، تو آج ان پر عائد کئے جانے والے الزامات بڑے معمولی اوربودے محسوس ہوتے ۔ اے کاش کہ وہ ایسا کر گزرتے ہوتے تو ان کا اپنا کچھ بھرم قائم رہ جاتا۔
لگتا ہے کہ قدرت کو یہی منظور تھا کہ جن لوگوں نے دوسروں سے حرام مال نکلوانے کے وعدوں کو پورا نہیں کیا تھا ، خود ان سے ہی اس امر کا آغاز کردیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں سے یہ کام لیا کہ وہ پوری استقامت کے ساتھ پانامہ لیکس کے مسئلے کو لے کر آگے بڑھیں اور اسے کسی صورت نسیاً منسیاً نہ ہونے دیں ۔ ایسا ہی ہوا ۔ معاملہ عدالت عظمیٰ میں گیا ، اس کے منقسم فیصلے کی رو سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنی اور اب اس کی پیش کردہ رپورٹ کے نتیجے میں یہ دکھلائی دے رہا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار مقتدر اشرافیہ کے افراد قانون کے شکنجے میں کسے جانے والے ہیں ۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے بلاشبہ پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ۔ کم ہی لوگوں کو یہ یقین تھا کہ حکم رانوں کے ماتحت کام کرنے والے آفیسرز ان کے خلاف منصفانہ تحقیقات کرتے ہوئے مبنی بر حقائق رپورٹ قلم بند کر پائیں گے اور بھی انتہائی قلیل عرصے میں ۔ قوم کو یقیناًاس ٹیم کے سبھی ارکان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ انہوں نے عدالت عظمیٰ کی چھتری تلے جرأت و ہمت اور حکمت و بصیرت سے کام لیتے ہوئے پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کا منفرد اور بے مثال کارنامہ سرانجام دے ڈالا۔ ہم قطعاً یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ عدالت عظمیٰ کو پیش کردہ مفصل رپورٹ کا ایک ایک حرف مبنی بر صداقت ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کہیں ان سے کوئی غلطی سر زد ہوگئی ہو ، کہیں انہوں نے غلط نتیجہ اخذ کرلیا ہو، لیکن اب تک کی معلوم تفصیلات کے مطابق انہوں نے مجموعی طور پر وہی نتیجہ عدالت عظمیٰ کے سامنے رکھا ہے جو شریف فیملی کے مختلف افراد کے انتہائی متضاد بیانات کو سن کر معمولی سی سمجھ بوجھ کا حامل کوئی فرد بھی اخذ کرسکتا ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مصدقہ دستاویزات وشواہد کی روشنی میں شریف فیملی کے پیدا کردہ تاثر ہی کی تصدیق کی ہے۔
شریف فیملی سے کرپشن کے خلاف مہم کا آغاز اغلباً قرآنی فرمان بما کسبت ایدیھم(اپنے ہاتھوں کی کمائی) کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس خاندان کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ اس کے افراد دین کے زیادہ قریب ہیں ۔ ان کے ہاں نماز روزے کی پابندی کی جاتی ہے ۔ اسلامی عبادات ان کا روز مرہ ہیں ۔ وہ حرمین شریفین سے خصوصی شغف رکھتے ہیں ۔ ان کے ہاں عمرہ وحج سال بھر کے معمولات کا لازمی جزو ہیں ۔ ذاتی حیثیت میں بلاشبہ یہ سارے امور لائق تحسین ہیں۔ اور انہی کی وجہ سے شریف فیملی کا کم از کم دین کے مظاہر کے ساتھ ربط و تعلق کے تاثر کو جھٹلانا آسان کام نہیں۔ لیکن بدقسمتی شائد یہ رہی کہ دین کے ساتھ اس خاندان کے صاحب اقتدار افراد کی یہ وابستگی حکومتی امور اور حکومتی فرائض کی انجام دہی میں جھلک نہ پائی ۔ دہائیوں پر مشتمل ان کے ادوارِ حکومت میں پاکستان کو اس کی نظر یاتی منزل کی طرف لے چلنے کے لئے کوئی ایک کام بھی ان کا مقدر نہ بن سکا ۔ ضیاء الحق شہید کی سر پرستی میں انہوں نے جو چند ایک کام کئے تھے ، بعد میں انہوں نے ان پر بھی خط تنسیخ کھینچنا شروع کردیا۔ پاکستان کی بانی جماعت کی جانشینی کے دعوے دار ہونے کے ناطے انہیں نظریہ پاکستان کی حفاظت کا اہتمام کرنا چاہیے تھا اور اس کے مطابق حکومتی پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں تھیں، لیکن انہوں نے پاکستان کے اپنی نظریاتی منزل کی جانب سفر کے حوالے سے نہ صرف ریورس گیئر لگایا بلکہ نظریہ پاکستان کے منافی اقدامات کو اپنی پہچان بنانے پر ادھار کھا لیا۔ انہوں نے اپنے سابقہ دورِ حکومت میں سود کے خاتمے کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی بجائے سود کے بقاء و تحفظ کی چالیں چلیں اور یوں اللہ تعالیٰ اور ان کے رسولؐ سے براہِ راست جنگ کا ارتکاب کرڈالا۔ نتیجتاً اقتدار ان سے چھین لیا گیا ۔ موجودہ دورِ اقتدار سے پہلے انہوں نے ایک اجتماع میں موجود ہندؤوں اور سکھوں کو مخاطب کرتے ہوئے نظریہ پاکستان کا یہ کہہ کر تمسخر اڑایا کہ ہمارا اور آپ کا کلچر ایک ، ہمارا اور آپ کا رہن سہن ایک جیسا ، ہمارا کھانا پینا ایک جیسا ، آپ بھی آلو گوشت کھاتے ہیں اور ہم بھی ، ہمارا اللہ اور آپ کا بھگوان ایک ہیں۔۔۔ ان ارشاداتِ عالیہ کے ساتھ یہ بھی کہہ ڈالا کہ یہ جغرافیائی سرحد تو بس ایسے ہی ایک لائن کھینچ دی گئی ہے ور نہ ہم اور آپ تو ایک ہی ہیں۔ کیا پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی اس سے زیادہ پامالی کی جاسکتی ہے؟ بد قسمتی سے بانئ پاکستان کی جانشینی کے دعوے داروں نے اس جرم کا بھی ارتکاب کر ڈالا۔
یہ سب کچھ محض زبانی کلامی نہیں تھا ۔ ان شریف دین داروں نے موجودہ دور اقتدار میں عملاً ایسا کچھ ہی کر ڈالنے کے لئے پے درپے اقدامات بھی کئے۔ اسلامی پاکستان تو شریف فیملی کا کبھی ہدف رہا ہی نہیں ، وہ تو اب کی بار اسے لبرل پاکستان بنانے کو اپنا مشن بنا بیٹھے۔ حقو ق نسواں بل کی بعض اسلام مخالف شقیں اس کی ناقابل تردید مثال ہیں ۔ پنجاب کے پور ے نظام تعلیم اور نصابات کو درآمد شدہ ایک انگریز مشیر کے سپرد کردیا گیا اوراس نے وہ وہ تبدیلیاں کیں کہ الامان والحفیظ۔
یہ سب کچھ’’ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیھِمْ‘‘ کے زمرے میں آتا ہے ۔ شریف فیملی اپنے ہاتھوں کی کمائی کا یہی خمیازہ بھگت رہی ہے ۔ دینی شہرت کے حامل ہونے کے باوجود اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف ان کے اقدامات نے انہیں اس گھمبیر صورت حال کے بیچوں بیچ لا کھڑا کیا ہے ۔ اب نہ جانے ماندن نہ پائے رفتن والی صورت حال نے انہیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے ۔ کرپشن کی سب داستانیں تو اس پر مستزاد ہیں۔
اللہ کریں کہ اس صورت حال کے بطن سے پاکستان کے لئے خیر برآمد ہو۔ یہاں پھیلی ہوئی بے پناہ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کا یہ نقطۂ آغاز ثابت ہو، اور اس کے بعد ہر بدعنوان فرد خواہ اس کاتعلق کسی ادارے ، کسی طبقے سے ہو اور کسی بھی منصب پر فائز ہو ، کے گرد قانون کا دائرہ تنگ کیا جائے اور اسے کچھ اس طرح سے نشانِ عبرت بنادیا جائے کہ کوئی بھی صاحب اقتدار و اختیار نیچے سے اوپر تک، کرپشن اور بدعنوانی کا تصور اور ارادہ کرنے کی جرأت بھی نہ کرسکے۔ اللہ کریں کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کرپشن فری بن سکے اور پھر یہ اپنی نظریاتی منزل کی طرف رواں دواں ہوجائے۔ آمین۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔