اتنی بلند کیوں ہیں استعفا کی صدائیں

بلاگ
خالدارشاد صوفی

اصولاً تو مجھے بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ اور وزیر اعظم سے استعفے کے زور پکڑتے مطالبے پر ہی لکھنا چاہئے تھا‘ لیکن پچھلے پورے ایک ہفتے میں میں صرف ایک ہی بات سوچ رہا ہوں کہ اس سارے کھیل سے عوام کو کیا فائدہ ہو گا؟ کیا اس کے نتیجے میں ان کے لئے وافر روزگار کا بندوبست ممکن ہو سکے گا؟ افراط زر کی وجہ سے تیزی سے بڑھتی ہوئی غربت میں کچھ کمی واقع ہو سکے گی؟ بجلی کی قلت کا بحران دور جائے گا؟ وطن عزیز ایک عرصہ سے جو دہشت گردی کا شکار ہے تو اس طرح اس مصیبت سے اس کی جان چھوٹ جائے گی؟ لوگوں کو روزگار میسر نہیں تو ان کے لئے یہ بندوبست ہو سکے گا؟ حکمرانوں کے دعوؤں کے باوجود مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے‘ عوام کی اس عفریت سے جان چھوٹ جائے گی؟ اس سے سی پیک کو آگے بڑھانے یا مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کوئی مدد مل سکے گی؟ اور ان سب کو چھوڑ بھی دیا جائے تو کیا اس کے نتیجے میں ملک میں دہائیوں سے جاری کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا۔ آپ کا جواب پتا نہیں کیا ہے‘ میرے خیال میں تو ’’نہیں‘‘۔ یاد رہے کہ اس سے میری مراد یہ نہیں کہ کسی کرپٹ کا ٹرائل نہیں ہونا چاہئے‘ اسے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جانا چاہیے‘ یامجھے حکمرانوں سے کوئی ہمدردی یا ان سے کوئی وابستگی ہے‘ اس لئے میں یہ باتیں کر رہا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس معا ملے کو لے کر پورے ملک میں جو ایک ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔استعفا استعفا کی صدائیں اتنی بلند ہیں کہ کوئی اور آواز سنائی نہیں دیتی۔ کیا یہ سب ضروری ہے؟ کیا یہ ہمارے سیاسی لحاظ سے بالغ نظر ہونے کی نشانی ہے۔ استعفا استعفا کا مطالبہ کرنے والے کیا خود عدالت بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب ایک معاملہ عدالت کے زیر غور ہے اور سب نے دیکھا کہ حکومت سپریم کورٹ کی وضع کردہ جے آئی ٹی پر اثر انداز نہیں ہو سکی اور اس نے مناسب تحقیقات کے بعد متعلقہ افراد اور خاندان کے خلاف ایک تجزیہ عدالت کے حوالے کیا ہے‘ تو نواز شریف اگر وزیر اعظم رہتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہو گا کہ وہ عدالت کے کام پر اثر انداز ہو جائیں؟ ستر سال گزرنے کے بعد بھی ہم سیاسی طور پر اتنے بالغ اوور بالغ نظر نہیں ہو سکے کہ سکون سے عدالتی کارروائی کو ہی آگے بڑھتا ہوا دیکھ سکیں۔ اور پھر اس بات کیا ضمانت ہے کہ اپوزیشن کے کہنے پر وزیر اعظم نوازشریف مستعفی ہو جائیں اور ان کی جگہ کوئی اور آجائے تو اپوزیشن کو اس پر اعتراض نہ ہو گا؟
پاکستان کے بڑے مسائل میں سے ایک غربت بھی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ غربت محض ایک مسئلہ نہیں ہے بلکہ کئی دوسرے مسائل پیدا کرنے کا باعث بھی ہے‘ جیسے مزید غربت‘ سٹریٹ کرائمز‘ سماجی بے چینی‘ خود کشی کے رجحان میں اضافہ اور کرپشن۔ غربت کے بطن سے جرائم پیدا ہوتے ہیں اور جہالت بھی اسی کی اولاد ہے۔ یہ سماجی رویوں پر اثر انداز ہو کر ملک کی مجموعی پیداوار اور اقتصادی سرگرمیوں میں انحطاط کا باعث بھی بنتی ہے۔ عالمی سطح پر غربت کا معیار اور ہے اور ہمارے ملک میں اس سے کچھ الگ۔ کچھ کا خیال ہے کہ کوئی آدمی دو وقت کی روٹی کھانے کے برابر پیسے کما لے تو وہ غریب نہیں ہے۔ لیکن غربت کی اس تعریف کو قبول نہیں کیا جا سکتا‘ کیونکہ محض کھانے کے لئے پیسے کما لینا ہی کافی نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کے لئے دوسرے کئی لوازمات بھی درکار ہوتے ہیں۔
آبادی میں اضافے کو روک کر ‘ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ کرکے، خواندگی بڑھا کر اور ہنرمند افراد کی شرح بڑھا کرغربت پر قابو پایا جا سکتا ہے‘ لیکن وطن عزیز میں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں‘ بتائیں ان میں کبھی کسی نے غربت کے خلاف بھی کوئی دھرنا دیا۔ کبھی یہ بھی کہا کہ حکومت غربت‘ بے روزگاری اور توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔
منصوبہ بندی کمیشن کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 38.8فیصد ہوگئی ہے۔ پنجاب میں غربت کی شرح 31.4فیصد ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں غربت کی شرح43.1فیصد ،خیبر پختونخوا میں 49.2فیصد اور بلوچستان میں 71.2فیصد غربت کی شرح ریکارڈ کی گئی۔منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق وفاق کے زیر انتظام فاٹا میں غربت کی شرح ملک میں سب سے زیادہ73.7فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں غربت کی شرح43.2 جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں غربت کی شرح 24.9فیصدہے۔ غربت کی اِس بڑھتی ہوئی شرح کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 18 کروڑ آبادی (جو اب ممکنہ طور پر 21یا 22کروڑ ہو چکی ہو گی)والے ملک میں 5 کروڑ 87 لاکھ افراد خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہری آبادی میں بھی غربت میں اضافہ مشاہدے میں آرہا ہے۔ موجودہ حکومت کا پہلا بجٹ پیش کرتے وقت وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ ملک میں غربت کی شرح پچاس فیصد سے زائد ہے۔ اگر ان کا کہنا درست ہے تواس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں پر توجہ دی گے اور انہیں رعایتی نرخ (سبسڈیز) دی جائیں گی۔ حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ سبسڈی دینے سے غربت میں کمی نہیں آتی۔ اس کے لئے ان عوامل پر قابو پایا جاتا ہے‘ جو غربت بڑھانے کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔ چار سالوں میں دس سالوں کا کام کرنے کے دعوے دار حکمرانوں سے کوئی یہ سوال تو کرے کہ اس عرصے میں غربت میں کمی کے لئے کیا کیا گیا اور اس کی شرح میں کتنی کمی واقع ہوئی۔
2016ء کے اختتام پر پاکستان کے کْل قرضے 23.14کھرب روپے کے حجم تک پہنچ چکے تھے۔ ان میں ایک سال کے دوران دس فیصداضافہ ہوا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کا ہر شہری اس وقت ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ ان قرضوں میں کیسے کمی لائی جائے گی‘ کسی سیاسی پارٹی کے کسی لیڈر نے اس بارے میں سوچ بچار کرنے کی کبھی ضرورت محسوس کی؟
کھوکھلے نعروں سے کچھ نہیں بنتا جناب‘ نواز شریف کو ہٹانے سے بھی کچھ نہیں ہو گا۔ نظام بدلنا ہو گا‘ تبھی ان مسائل کو حل کیا جا سکے گا‘ جس نے پورے ملک اور کے عوام کو اپنی جکڑ میں لے رکھا ہے اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ کام سیاست ‘ یا سیاست دان نہیں کریں گے۔ یہ ان کے مفاد میں نہیں ہے۔ کر سکتے ہی نہیں۔ یہ ان کی استعداد کے بالا تر کام ہے۔ اس کے لئے عوام کو آگے آنا ہو گا۔ آگے بڑھنا ہو گا۔ اگلے عام انتخابات اگر شیڈول کے مطابق بھی ہوئے تو ان میں ایک سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے۔ انہیں یعنی عوام کو اپنے لئے ایسے نمائندوں کا انتخاب کرنا ہو گا ‘ جو نظام کی تبدیلی‘ عوام کے حقوق کی پاس داری اور معاملات کی گہری پرکھ رکھتے ہوں۔ جو محض تماشے نہ لگاتے ہوں ‘ محض آنیاں جانیاں نہ کرتے ہوں‘ کچھ کر دکھانے کی کوشش بھی کر سکیں۔ جو مصنوعی اور زبانی جمع خرچ نہ کریں بلکہ عملی طور پر کچھ کرنے کی اپچ رکھتے ہوں۔ کہا جاتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ سوشل میڈیا آج کے دور میں تبادلہ خیالات کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ اس میڈیا کے ہوتے ہوئے بھی اگر وہی نام نہاد لیڈر پھر اسمبلیوں میں پہنچ گئے‘ جو دہائیوں سے عوام کو دھوکہ دیتے آ رہے ہیں تو پھر سمجھئے کہ حالات میں بہتری کے امکانات بھی محدود تر ہو جائیں گے اور رہی گے۔ اب بھی عوام نے چند سو رپے یا دو وقت کی روٹی کے عوض اپنے ووٹ بیچے تو پھر یقین سے نہیں کہا جا سکے گا کہ انہیں اگلے پانچ سال دو وقت کی روٹی بھی میسر آئے گی یا نہیں؟ پھر تو ایسے ہی سیاسی تماشے دیکھ کر گزارہ کرنا پڑے گا‘ جیسے اس وقت پورے ملک میں جاری ہیں اور جن کے ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ سیاست دانوں کو شاید علم ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔