پی پی پی کے بندۂ خاص کے کرتوت

حسین حقانی سامراجیوں کی شہہ پر اور اپنے آپ کو ان کا مکمل وفادارثابت کرنے کے کے لیے دوبارہ پاکستان دشمنی پر تلاہوا ہے ۔اس نے اپنے نئے کالم میں مزید انکشافات کردیے ہیں کہ میں نے تو سب کچھ اس وقت کی حکومت کی اشیرباد سے ہی کیا تھا۔سی آئی اے کے ہزاروں افراد کو ویزے دیکر پاکستان میں داخل کرنااس کی ملک دشمنی کی واضح مثال ہے ۔گو اب پی پی پی اس سے بریت کا اظہار کر رہی ہے مگر یہ وہ قبیح ترین معاملہ ہے جس کی ڈوریں بین الاقوامی سامراج سے جڑی ہوئی ہیں اور یہ مسئلہ اب پی پی پی کی اس سے لا تعلقیوں کے اعلان سے فوری طور پر طے ہونے والا بھی نہ ہے۔سامراجیوں کی ہمیشہ ہی یہ کوشش رہی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو وہ اپنے ایجنٹوں کو ہی پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر کروائے (جس کی واضح مثال قادیانی سر ظفر اللہ کی دی جاسکتی ہے)یا بیرونی ممالک سے پاکستان کے تمام لین دین انہی کے ایجنٹوں کے ذریعے طے ہوتے رہیں تاکہ ا ن کا "پڑھایا ہوا طوطا "فر فر وہی باتیں کرتا رہے جو وہ چاہتے ہیں۔ہزاروں سی آئی اے کے کارکنوں کو ویزے دیکر پاکستان میں داخل کرنے سے ملک سے غداری کا بڑااقدام اور کیا ہوسکتا ہے ؟پھر میمو گیٹ سکینڈل کا بھی یہی غدار شخص موجد بنا۔ افواج پاکستان کے خلاف امریکہ کو اقدام کرنے پر اکسانے سے بڑا جرم اور کیا ہو سکتا ہے؟اسے اس وقت ایوان صدر میں چھپائے رکھنا اس کا مقدمہ لڑ کر اس کی سپریم کورٹ سے ضمانتیں منظور کروا کر اسے ملک سے بھگا ڈالنا جیسے سیاہ داغ پی پی پی کے " ماتھے پر سج"چکے ہیں جنہیں وہ لاکھ اب حسین حقانی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے رہیں دھلنے کا امکان نہ ہے۔ پاکستانی تاریخ سے یہ کہانی کیسے کُھر چی جا سکے گی؟کہ جب افواج اور سیکورٹی ادارے اسے غداری کے جر م میں پکڑنا چاہتے تھے تو اس وقت کے حکمرانوں نے اسے مکمل تحفظ دیکر پاکستان سے فرار کرواڈالاجس پر ملک کے محب وطن افراد لاکھ چیختے چلاتے رہے مگر ایک طرف چو نکہ مفاداتی سیاست کا کھیل کھیلا جا رہا تھا تو دوسری طرف حب الوطنوں کی کوششیں رائیگاں چلی گئیں اور حسین حقانی میر جعفر و میر صادق کا کردار ادا کرتے پاکستانیوں کے سینوں پر مونگ دلتے ہوئے اپنے بیرونی آقاؤں کے پاس جا پہنچا اور ہم سبھی بشمول تمام سیکورٹی فورسزکے اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اب وہ وہاں سامراجیوں کی حفاظت میں بیٹھا اپنی جولانئی طبع کے مطابق آتش فشانیاں و گو بر افشانیاں کررہا ہے ۔تو صرف اس لیے کہ وہ ہماری ملک دشمن سامراجی قوتوں کی نظروں میں ان کی آنکھ کا اصلی تارا بن کر ابھرے اور ان غداریوں کااسے مکمل مفاد ملے اور یہ بھی ثابت ہو کہ وہ بطور نا م نہاد مسلمان امریکنوں ،اسرائیلیوں و دیگر سامراجی گماشتوں کا اصلی و وڈا ایجنٹ بن کر پاکستان دشمنی اقدامات کا مر تکب ہو سکتا ہے۔ کا ش ایسے شخص نے اس پاک دھرتی پر جنم نہ لیا ہوتا کہ وہ کھلم کھلا سامراج کی تابعداریوں میں ہی "اپنی عزت" سمجھتا ہے ۔اس نے سابقہ ادوار میں پہلے شریف خاندان کی تابعداری کی پھر زرداری صاحب کی غلامی میں اپنے آپ کو دے ڈالا۔خوب ایک دوسرے کے خلاف جھوٹے ،لغو اور غلیظ الزامات تیار کرکے پریس کے حوالے کرتا رہا ،خوب مال سمیٹتا اور ان کو راضی کرتا رہا۔پھر ان "چھوٹے افراد" کے ایجنٹ بننے میں اسے مزا نہ آیا تو وہ بڑے سود خور خونخوار سامراجیوں کی غلامی کوہی اپنی اولین ترجیح دیتے ہوئے ان کا"خالص بندہ "بن کر رہ گیا۔اب اس کی تازہ ترین تحریر نے پھرسابقہ پنڈورا باکس کھول کر ہمارے کھلے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔جو میمو گیٹ سکینڈل کا واضح ثبوت بھی ہے اور یہ لکھ کر کہ سب کچھ اس وقت کے حکمرانوں کا حکم بجا لاتے ہی کیا تھا ،نے پی پی پی کو بھی پاکستانیوں کی نظر میں برابر کی مجرم بناڈالا ہے۔ اس کی غداریوں کی چونکہ ایک طویل داستان ہے ۔اس لیے اس سے پیپلز پارٹی والوں کو چھٹکارا پانے کا کوئی طریقہ نظر نہیں آتا ۔کاش پی پی پی کے مقتدر افراد اس وقت جو نہی اس کی غداریاں منظر عام پر آئی تھیں اسے "اپنا خصوصی بندہ " سمجھتے ہوئے اس کی مذموم ملک دشمن خواہشات کے آگے سر تسلیم خم نہ کرتے تو وہ غدار کبھی کا کیفر کردار کو پہنچ چکا ہوتا!اور آج پی پی پی کی قیادت پر اس ملک دشمن کی پرورش کرنے کے الزامات نہ لگتے ۔کیا ہم اب اسے انٹر پول کو وارنٹ بھیج کر ملک میں واپس بلوا سکیں گے اس پر بھی سوالیہ نشان موجود ہے!پاکستانی دعاگو ہیں کہ اللہ ہمیں ایسے ملک دشمن افراد اور ان کے سرپرستوں سے جلد نجات دلوا دے۔آمین

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔