حکومت پنجاب کی پریشانی

اسلام کی اشاعت اور اسلامی عقائید کی ترویج پر ن لیگ کے اقدامات دیکھ کر اسکے عقیدے پر سوال اٹھانے کو جی چاہتا ہے۔ مجھے پنجاب حکومت کی پریشانی پر حیرت ہے۔ حجاب کے معاملے پر پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم سّید رضا علی گیلانی نے بیان کیا جاری کیاتوایوانِ اقتدار کی غلام گردشوں میں گویا زلزلہ آگیا ہو۔ کیونکہ یہ کٹھ پُتلی حکمران جنکی ڈوریں دِیار غیر سے کوئی اورہلاتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیارے نبیﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والے بلاگرز کے حوالہ سے تو چُپ رہ سکتے ہیں لیکن اگر اسلامی شعائر کی پابندی کے لیے کوئی قدم اُٹھایا جائے تو وہ ان کو گولی کی طرح لگتا ہے۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ دُنیا کے تمام حکمران اپنی قومیت اور مذہب پر فخر کرتے ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کے تمام قومیں اپنے مذہبی رحجانات میں کس قدر انتہا پسند ہیں ۔ دُور کیا جائیں بالکل بغل میں مودی سرکار ہندو انتہا پسندی کا نتیجہ ہے اور حال ہی میں انڈیا کی پانچ ریاستوں میں الیکشن ہوئے جن میں ریاست اتر پردیش میں مودی سرکار کی حکومت نے ریاستی 403 سیٹوں میں سے 312 سیٹوں پر کھڑکی توڑ کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اترکھنڈمیں 71 میں سے 56 سیٹیں حاصل کرکے کلین سوئیپ کیا۔بی جے پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی یہ عیاں کر رہی ہے کہ مذہبی رجحانات میں انتہاپسندی پوری دنیا میں موجود ہے اور لوگ اس پر ہمارے حکمرانوں کی طرح شرمندہ نہیں ہوتے بلکہ فخر سے اپنے مذہب سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
ذو الفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جب جنرل ضیاء الحق نے آمریت کاجھنڈا لہرایا تو ایک مقبول نعرہ انکی ضرورت تھی اور انہوں نے "اسلام" کا نام پوری شّد ومَد کے ساتھ استعمال کیا اور گیارہ سال اس ملک کے سیاہ وسفید کے مالک بنے رہے۔ موجودہ حکمران اُسی آمریت کی گود سے نکلے اور لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ جھوٹ موٹ ہی سہی لیکن وہ اپنا ایک باعمل مسلمان کا چہرہ داغ دار نہیں ہونے دینگے۔ لیکن وقت سب کچھ بدل دیتا ہے میاں برادران اپنے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنیکی مہم میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ شاید اب انکی واپسی ممکن نہ ہو۔
پی پی 187 اکاڑہ سے تعلق رکھنے والے اکتالیس سالہ صوبائی وزیرسّید علی رضا گیلانی کو نہ جانے کس نے مشورہ دیا کہ وہ تعلیمی اداروں میں حجاب کی پابندی کے حوالے سے اپنا خطاب داغ دیں۔ ان کو شاید اندازہ ہی نہ ہو کہ ان کا یہ بیان ان کے سیاسی آقاؤں کو کس قدر بُرا لگے گا اور شاید اب تک تو وزیر موصوف کی اچھی خاصی کھینچائی ہو چکی ہو۔کیونکہ موجودہ حکمرانوں کا اولین مقصد اپنے غیر ملکی آقاؤں کو رام کرنا ہے اور کراچی میں ہولی کی تقریب کے دوران وزیر اعظم پاکستان اپنے زریں خیالات کا اظہار بابانگِ دھل کر چکے ہیں۔ پانامہ لیکس کے ان ہیروز کا واقعتاً مقصد اس دنیا کو ہی جنت بنانا ہے اور شّداد کے یہ پیش رو اپنے عزائم کے لیے کوشاں ہیں اور شاید آخری سانس تک کوشاں رہیں گے۔
مجھے جواں سال سید علی رضا گیلانی سے شدید ہمدردی ہے۔ میں ان کے جذبات اور خیالات کی قدر کرتا ہوں اور انکے احکامات یقیناً پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کی آرزؤں کی ترجمانی ہے۔ وزیر موصوف اس بیان کے بعد ان حکمرانوں نے کس قدر دباؤ ڈالا ہو گا اس کا اندازہ میں لگا سکتا ہوں۔ کیونکہ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنے ایک کالم "روائیت شکن بیٹا"میں اس نازک مسئلے کو اُٹھایا تھا اور اس وقت میں شدید حیران تھا کہ خواجہ سعد رفیق جیسے وزیر کی موجودگی میں پاکستان ریلوے کے اندر باپردہ خواتین کو تنگ کرنے اور حجاب اُتارنے کی مہم کیسے کھیلی جاسکتی ہے۔ بعدازاں میری اطلاعات کے مطابق میڈیا کے شور شرابے کے باوجود حجاب کرنے والی ان خواتین کو اس قدر تنگ کیا گیا کہ وہ ایک ایک کر کے ادارہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔جن حکمرانوں کی ذہنیت ایسی ہو ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ قوم کی بیٹیوں کو حجاب کی ترغیب دینگے حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے اس ملک میں بدقسمتی سے اسلام ہی نشانِ ستم پر ہے۔جس ملک میں سنت رسولﷺ داڑھی مذاق بن جائے، با شرح مسلمان مشکوک ٹھہرے، اسلام کی بات کرنے والوں کو "بنیاد پرست" کہا جائے، پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، مادر پدر آزاد محافل کو اچھی نگاہ سے دیکھا جائے اور حکمران اپنے رَب کے بجائے غیر ملکی شاطروں کی خوشنودی کو فرض اولّین سمجھیں، وہا ں یہ توقع رکھنا ہی فضول ہے کہ کوئی اسلامی عقائد کے حق میں آواز اُٹھائے گا اور انکی حفاظت کے لیے کمربستہ ہو جائے گا۔
اقتدار کے مزے لُوٹتے ان بدبخت حکمرانوں کو کاش کوئی سمجھا سکتا کہ اس وطن عزیز کا بچہ بچہ اسلام کی حرمت پہ کٹ مرنے کو تیار ہے ۔ رب کا اپنا ایک نظام ہے اگروہ ابابیلوں سے ہاتھی والوں کو مروا سکتا ہے اورانکے لشکر کو ہمیشہ کے لیے نشان عبرت بنا سکتا ہے تو وہ کوئی بھی ذریعہ پیدا کر کے اپنے اس مذہب کی لاج رکھے گا۔ کہیں شوکت عزیز صدیقی کے روپ میں کوئی جج اُٹھے گا اور ان حکمرانوں نے لیے ننگی تلوار بن جائے گا۔کہیں ایچی سن جیسے کالج اور لبرل ماحول میں پروان چڑھنے والا ایک نوجوان سید علی رضا گیلانی اُٹھے گا اور حکمرانوں کی اسلام دشمن پالیسوں کو چیلنج کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں کی ترجمانی کرے گا۔
مسئلہ پانامہ کیس نہیں ہے ۔ شاید مسئلہ حکمرانوں کی کرپشن ، اقرباء پروری بھی نہ ہو، قوم ہیجان میں مبتلا اس لیے ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کی جانے والی اس سرزمین پر انکے عقائد کا تحفظ کرنے والا کوئی نہیں ۔ یہاں سیکولر قوتوں نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں اور حکمران انکے سامنے بھیگی بلیاں بنے ہوئے ہیں۔ لگتا ہے ن لیگ بھی سیکولر جماعت بن چکی ہے۔لیکن مذہب کی آڑ لیتی رہی ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ان سیاسی بہروپیوں کے چہروں سے نقاب نوچے جائیں اور ایک حقیقی عوامی قیادت کو سامنے لایا جائے جو اپنے مذہب کے حوالے سے بغلیں نہ جھانکیں، اپنے عقائد پر شرم ساری کا اظہار نہ کریں بلکہ پوری شان و شوکت کے ساتھ اسلام کے عہد رفتہ کو از سر نو آواز دے اور ایک بار پھر اسلامی فلاحی معاشرہ قائم کر کے دنیا کو یہ پیغام دیں کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو قیامت تک کے لیے تمام انسانیت کے لیے وجہ افتخار ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔