ٓہم سب سی آئی اے کی دسترس میں ہیں

پچھلے دنوں جب وکی لیکس نے نئے انکشافات کرکے دنیا کو پھر چونکا دیا کہ امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (سنٹرل انویسٹی گیشن ایجنسی) جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا بھر میں جاسوسی کر رہی ہے اور جدید ترین سمعی و بصری آلات کے ذریعے خفیہ ذاتی معلومات سے لے کر صارف کی نقل و حرکت اور اس کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر رہی ہے تو ہر کوئی خدشات میں مبتلا ہوگیا۔کیونکہ یہ امریکہ کا ایک ایسا وار ہے جس کی زد میں دنیا کا ہر گھرانہ آتا ہے اور نجی زندگی بے نقاب ہوکر رہ جاتی ہے۔کیا یہ بات ہر کسی کو معلوم نہیں کہ ہم نے اپنے گھروں میں خود ہی ایسا انتظام کر لیا ہے کہ پرائیویسی کہیں طاق پہ پڑی کوئی چیز محسوس ہوتی ہے۔ وکی لیکس کے مطابق امریکہ کی مذکورہ خفیہ ایجنسی نے اس سلسلے میں سمارٹ فون ڈیوائسز‘ آئی فون‘ اینڈرائیڈ موبائل فون اور سمارٹ فون تیار کرنے والی کمپنیوں سے جاسوسی کے آلات نصب کرنے کا باقاعدہ معاہدہ کر رکھا ہے۔ وکی لیکس کے مطابق سی آئی اے کی جانب سے ہیکنگ کے لئے استعمال ہونے والے مبینہ ہتھیاروں میں ونڈوز‘ اینڈرائڈ‘ ایپل کے آئی او سی آپریٹنگ سسٹم‘ او ایس ایکس‘ لینکس کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ روٹرز کو متاثر کرنے والے وائرس بھی شامل ہیں۔ اس ’’بھی‘‘ کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی کئی قسم کے آلات ‘ سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر ہو سکتے ہیں ‘ جو جاسوسی یا ہیکنگ کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ چند سال پہلے اسی امریکہ کے ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے)کے ایک ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے بھی اپنے ادارے کے بارے میں ایسے ہی انکشافات کئے تھے‘ جیسے اب وکی لیکس نے سی آئی اے کے بارے میں کئے ہیں۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے محض اپنے عوا م ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں گھریلو زندگیاں تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔لہذاان کو استعمار کے نئے ہتھکنڈے قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ویسے بھی پچھلے کچھ عرصے میں امریکہ اور اس کے حامی ممالک کے طریق کار میں تبدیلی آئی ہے‘ براہ راست حملہ کرنے کے بجائے داخلی اختلافات کو ہوا دینا، مشرق وسطیٰ کا عرب بہار انقلاب اس کی ایک مثال ہے‘ جس میں بغیرکسی حملے کے مغرب نے اپنے مقاصد حاصل کئے۔ ایسے انقلابات کے لئے معلومات مذکورہ بالا جدید ترین آلات سے ہی اخذ کئے جاتے ہوں گے۔
اور یہ معاملہ سی آئی اے تک ہی محدود نہیں بلکہ اگر آپ آن لائن خرید و فروخت کرنے والی کوئی ویب سائٹ کھولیں اور اس کے ذریعے کچھ ڈاؤن لوڈ یا اپ لوڈ کرنے کی کوشش کریں تو اس پر بھی آپ کے پرسنل ڈیٹا تک رسائی کے لئے کہا جاتا ہے۔ بندہ پوچھے کسی کے پرسنل ڈیٹا سے اس ویب سائٹ کا کیا کام؟کسی بھی ویب سائٹ پر جب آپ کلک کر دیتے ہیں یعنی اپنی ذاتی معلومات تک رسائی دے دیتے ہیں تو پھر وہ آپ کی مستقل نگرانی پر لگ جاتی ہے۔ وہ آپ کا ڈیٹا بھی اٹھا سکتے ہیں اور کانٹیکٹ نمبرز بھی۔حتیٰ کہ یہ بھی آپ کہاں کہاں موو کر رہے ہیں۔ کس سے ملے ہیں اور کیا بات چیت ہوئی۔ اور یہ سارا کام وہ اس وقت بھی کرتے رہتے ہیں‘ جب آپ کا موبائل فون ‘ ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ بند بھی ہوں۔ بیسیوں ویب سائٹس اور ایپس ایسی ہیں‘ جو آپ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لیتی ہیں۔ اگر آپ کا موبائل فون یا لیپ ٹپ بند ہو‘ تو بھی اس کا مائک تو کھلا رہتا ہے اور جن ویب سائٹس کو آپ نے رسائی دے رکھی ہے‘ وہ بند حالت میں بھی آپ کی گفتگو سن سکتے ہیں۔ آج کے دور میں سب کچھ ممکن ہو گیا ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کی جا چکی ہے کہ لاکھوں‘ کروڑوں افراد کی کئی کئی گھنٹوں کی گفتگو کو محض ایک چھوٹی سی چپ میں سٹور کیا جا سکتا ہے۔جب سیلولر نظام تھا تو چند ماہ کے بعد پُرانا ڈیٹا صاف کرنے کی ضرورت ہیش آتی تھی‘ لیکن جب سے اینڈرائڈ سسٹم پر انحصار بڑھایا گیا ہے‘دہائیوں کا ڈیٹا سٹور کرنے کی گنجائش پیدا ہو گئی ہے۔
سی آئی اے ہو یا کوئی اورادارہ ‘ گروہ یا افراد میرے خیال میں کسی کو کسی کے نجی معالات میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ٹھیک ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے کریمینلز کا ڈیٹا اکٹھا کر سکتے ہیں اور انہیں اس کی اجازت ہونی بھی چاہئے‘ لیکن اس طرح ہر کسی کی ذاتی اور نجی زندگی میں جھانکنا‘ کسی طور ایک اچھا فعل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک ایسے شخص کی نگرانی کا کیا جواز ہے‘ جو اپنی زندگی پہلے ہی گناہ اور ثواب کو مدنظر رکھ کر گزار رہا ہے۔ اور مسلمانوں کی بات کی جائے تو ان کا عقیدہ یہ ہے کہ منکر نکیر ان کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں‘ ان پر نگرا ن موجود ہیں‘ لیکن وہ خدائی نظام ہے۔ یہاں تو جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو یرغمال بنا لیا ہے۔ ایک طرح سے اپنا قیدی بنا لیا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ آپ پھجے کے پائے کھانے جائیں تو اس روز دنیا کی کم از ک پچاس کمپنیوں کو پتا ہو گا کہ آپ کہاں گئے تھے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے لوگو ں کو جدید ٹیکنالوجی کا عادی بنایا گیا اور پھر اسی ٹیکنالوجی نے ہمیں اپنا قیدی بنا لیا ہے۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ چند سال پہلے موبائل یا انٹرنیٹ وغیرہ سے آپ کا کتنا واسطہ تھا اور آج آپ فیس بک کھولے بغیر اور اسے اپ ڈیٹ کئے بغیر کتنے دن گزار سکتے ہیں؟ چند روز تو بڑی دور کی بات آپ شاید چند گھنٹے بھی اس کے بغیر نہیں رہ سکتے ہوں گے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی نے آپ کو اپنا کتنا مرہون منت یعنی ایک طرح سے اپنا قیدی بنا لیا ہے۔
صدرٹرمپ نے وکی لیکس کے تازہ ترین انکشافات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا‘ جس کی بنیادی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ ٹرمپ سی آئی اے کو رگیدتے رہتے ہیں‘ اس لئے وہ تو ان انکشافات پر خوش ہوں گے؛ لیکن کیا باقی دنیا اپنی نجی زندگی کی پرائیویسی تباہ ہونے پر کوئی احتجاج نہیں کرے گی؟

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔