بلوچستان میں مردم شماری پر تحفظات

الحمداللہ بلوچستان میں تمام ترخطرات و تحفظات کے باوجود ملکی مفاد کے لئے خانہ و مردم شماری کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔پاکستان میں آخری مرتبہ مردم شماری 19سال قبل 1998میں کروائی گئی تھی تاہم اب یہ وقت آن پہنچا ہے دوبارہ 15 مارچ سے شروع ہونے والا کام 25 مئی تک مکمل ہوجائے گا۔یہ سلسلہ 2 مراحل میں 25 مئی تک مکمل ہو گا، مختلف شہروں میں شمار کنندگان کو متعلقہ سامان فراہم کر دیا گیا ہے مگر 15 مارچ کی صبح کو ایک افسوسناک خبر بلوچستان سے آ گئی کہ نامعلوم افراد نے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن بلوچستان عبداللہ جان کو اغوا کر لیا ہے۔اس واقعہ کے بعد کوئٹہ بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور جگہ جگہ پولیس، ایف سی، سی ٹی ڈی، سی آئی اے اور لیویز نے ناکہ بندی شروع کر دی۔اس صورتحال کے باوجود بلوچستان میں مردم شماری ہورہی ہے۔

ملک بھر کے منتخب اضلاع میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کے دوران ایک لاکھ 18 ہزار سے زیادہ شمارکنندگان پہلے 3 روز تمام عمارتوں کی گنتی کریں گے اور پھر 18 مارچ سے افراد کی گنتی شروع ہو گی، فوج کے 2 لاکھ جوان سیکیورٹی کے لئے بھی موجود ہوں گے۔ بلوچستان سے کوئٹہ، نصیرآباد، جعفرآباد ،ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے اضلاع مردم شماری کے پہلے مرحلے کا حصہ ہیں۔ مردم شماری کیلئے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیئے گئے ہیں، جب کہ آرمی کو خصوصی اختیارات بھی دے دیئے گئے اور آرمی کی جانب سے ائیرڈیفنس کمانڈ سینٹر میں کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے۔
پاکستان شماریات بیورو کے سروے ممبر حبیب اللہ خان کے مطابق آرمی کو عدالتی اختیارات ا س لئے دیئے گئے ہیں تاکہ انصاف کی جلد فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے اور مردم شماری کے مرحلے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔ قانون کے مطابق ایسے افراد جو کہ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں کو پاکستان شماریات بیور و سزا دلوا سکتا ہے مگر ان اختیارات کا مقصدان افراد کو سزا دلوانا ہے جوکہ مردم شماری کیلئے تعاون نہیں کرتے ان کو موقع پر سزاد ی جاسکے گی‘‘۔
پاکستان ایک حساس ریاست ہے جہاں اب اپنی پہچان کو رجسٹرڈ کراکے اپنے وجود ، اپنی شناخت اور زبان رسم ورواج کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان میں زبان کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ، تاہم اس مردم شماری میں ملک میں بولی اور سمجھی جانے والی تقریباً 70 زبانوں میں سے صرف 9 زبانوں کو شامل کیا گیا ہے۔
مردم شماری کے فارم کے ایک خانے میں شہریوں سے یہ سوال بھی کیا جائے گا کہ ان کے گھر میں موجود ٹوائلٹس کی تعداد کتنی ہے۔ اس سوال کی ضرورت اس لیے بھی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی 40 فیصد آبادی کو ضروری حاجات کے لیے ٹوائلٹ میسر نہیں۔ اسی وجہ سے پولیو کا مرض دنیا سے ختم ہو رہا ہے جبکہ پاکستان سے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ قومیت کے خانے میں شہریوں کے لیے دو آپشنز،بطور پاکستانی یا غیر ملکی موجود ہوں گی۔
آج ہم خود کو بلوچ کہلانے پر فخر کرتے ہیں اور بہت سارے بلوچ قبائل آج بھی بلوچی زبان بولتے ہیں ۔ یہ بھی صدیوں سے یہاں آباد ہیں،یہ سارے بلوچ اسی سرزمین میں پیدا ہوئے ،اسی سرزمین پہ دفن ہوں گے، یہیں کماتے ہیں یہیں کھاتے ہیں ، دوسروں کی طرح یہاں کما کے کہیں اور نہیں بھیجتے ۔ ہمارا جینا مرنا اسی سرزمین سے ہے۔ لہذاہم یہاں اپنی شناخت کے ساتھ رہیں گے جبکہ جو بلوچ پہاڑوں پہ رہتے ہیں ان کے پاس گھر تو نہیں ہیں ان کو کس خانے میں اندراج کیا جائیگا ۔کیا ان کو بھی شمار کیا جائیگا؟ اس کے علاوہ سب سے بڑامسئلہ بلوچستان میں اصل مسئلہ افغان مہاجرین کا ہے جو بلوچوں کے لیے بھی اور پشتون کے لیے بھی بڑا مسئلہ ہے۔اس وقت پاکستان میں آباد افغان مہاجرین کا تیس فیصد بلوچستان میں آباد ہے۔ صوبے میں افغان مہاجرین کی موجودگی کے حوالے سے مقامی افراد کے تحفظات کو دور کرنا ضروری ہے۔ بلوچوں اور پشتونوں کے رشتے صدیوں پرانے ہیں۔ ہم بلوچوں نے غیر ملکیوں کی بہت مہمان نوازی کی لیکن ان کو اپنے جائیداد میں حصہ نہیں دے سکتے ۔افغانوں کو اب واپس جانا چاہئے۔پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے غیر ملکیوں کا مسکن رہا ہے لہٰذا انہیں مردم شماری میں کسی صورت شامل نہ کیا جائے تاکہ احساس محرومی ختم ہو جائے۔ اس مرتبہ کاش خانہ شماری کے ساتھ دلوں کی بھی مردم شماری ہوتو پتہ چلے کس کے دل میں ملک سے محبت کتنی ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔