ناروے پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث سے گریزاں

راقم نے چند برس قبل نارویجن پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر محترم اختر چودھری صاحب سے عرض کی ’’ کیوں نہ ایک مرتبہ پھر نارویجن پارلیمنٹ میں کشمیر ایشیو پر بحث کروائی جائے؟‘‘

وہ کہنے لگے’’ میں نہیں چاہتا کہ پھر سے ناروے کا وزیر خارجہ بھارت کے موقف کی حمایت کردے‘‘ ان دنوں پارلیمنٹ میں تازہ تازہ بحث ہوئی تھی اور ناروے کے وزیر خارجہ نے ہمیشہ کی طرح یہی کہا تھا کہ دونوں ممالک بھارت اور پاکستان کو شملہ معاہدے کی روح سے باہمی مذاکرات کے ذریعے کشمیر سمیت اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ بھارت کا موقف بھی یہی ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور شملہ معاہدے کے مطابق دونوں ممالک آپس کے معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے پابند ہیں۔
ہم کشمیری یہ چیخ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں چنانچہ ایک تھرڈ پارٹی کشمیر ایشیو پر مداخلت کرے بھارت کشمیر پر تھرڈ پارٹی کی ثالثی تسلیم نہیں کرتا۔ ہم دنیا بھر میں چیختے چلاتے ہیں کہ بھارت ہم پر ظلم و ستم کررہا ہے اور انسانی حقوق کی گھناؤنی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ اور یورپ اور امریکہ اور عالمی ادارے اس پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ بلکہ اس کے بجائے مسئلہ کشمیر پر مداخلت کریں۔ بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ تھرڈ پارٹی ثالثی قبول کرے اور نہ کرے تو یورپ اور امریکہ اگر تھوڑا سا بھی اقتصادی پابندیاں لگانے کی بات کریں گے تو بھارت کی ہٹ دھرمی میں فرق آسکتا ہے۔ ہم انفرادی اور اجتماعی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ اپنی بات ایوانوں تک پہنچائیں۔
پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کا مقصد یہی تھا کہ پارلیمنٹ متفقہ قرارداد پاس کرے اور حکومت وقت کی طرف سے بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی جائے۔ دو یا تین مرتبہ مذمت کرنے کے بعد ناروے کو اقوام متحدہ اور یورپین یونین سے باضابطہ درخواست کرنی چاہیے کہ بھارت پر اقتصادی پابندیا ں لگائی جائیں۔لیکن ایسا کبھی ہو نہیں سکا۔
تھنک ٹینکس کا کیا خیال ہے؟ کسی ایوان کو کسی ادارے کو یا بین الاقوامی فورم کو اس حد تک کیسے منایا جا سکتا ہے کہ وہ ایسا موقف اختیار کرے جو ہم چاہتے ہیں یا جو اصل میں حقیقت ہے؟ ذاتی تعلقات بنائے جائیں؟ کتنے سیاسی نمائندوں سے ذاتی تعلقات بنائے جاسکتے ہیں ؟ پختہ جمہوریت میں ذاتی تعلقات پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے کہ وہ جمہوری پالیسز کے آڑے نہ آنے پائیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ ووٹ بینک سٹریٹیجی کے ذریعے حکومت میں حصے دار سیاسی پارٹی کو باور کرایا جائے کہ فلاں کمیونٹی کے سارے کے سارے ووٹ آپکی پارٹی کو ملیں گے اگر آپ حکومت میں ہمارے موقف کی حمایت کریں گے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ کمیونٹی کا ووٹ بینک اتنا ہو کہ سیاسی پارٹی اس کو اہمیت دے اور کمیونٹی متحد اور متفق ہو۔ تیسرا طریقہ سیدھا ہے کہ چونکہ آپ مغرب والے دنیا کے سب سے اچھے لوگ ہو اور بہت سیانے اور ہشیار بھی ہو اور انسانی حقوق کے علمبردار بھی ہو اس لیے یہ کشمیر کا مألہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں بہت تشویش ناک صورت حال اختیار کرگیا ہے۔ اس لیے آپ اپنے اصولوںِ ، روایات، دیانت داری کے بوجھ تلے بھارت جیسے بڑے ملک کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے ہمارے حق میں قرار داد پاس کرو۔
بتائیے تو سہی اور کیا کیا طریقے ہیں کشمیر پر اپنا موقف منوانے کے؟ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اتنا چیخو کہ دنیا کو زیادہ ہمارا چیخنا چلانا نظر آئے اور سنائی دے اور بھارت کا پراپیگنڈا ماند پڑجائے۔ چیخنے چلانے کے بھی طریقے ہیں۔ کن چینلز پر چیخا جائے اور اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ ہماری آواز بھارتی پراپیگنڈا سپیکرز سے بلند ہو۔بھارت اتنا بڑا ملک ہے کہ اتنی بڑی آبادی کے ملک کو ناراض کرنا کسی مغربی ملک کو گوارہ نہیں۔
کشمیر کاز کے لیے پچھلے ساٹھ سال سے جدوجہد ہورہی ہے۔ ہماری مراد سفارتی محاذ پر کوششوں سے ہے۔ ہمارے پاس ان سرگرمیوں ، کامیابیوں اور اور ناکامیابیوں کا ایک ریکارڈ بھی ہوگا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیر کاز پر صرف کیے گیے سارے بجٹ کا ایک ریکارڈ موجود ہوگا۔ کیا ہمارے پاس کوئی میکانزم ، نظام ہے کہ ہم بیٹھ کر اپنی ساری کاوشوں کا جائیزہ لیں۔ کیا ہماری کاوشیں بے ترتیب، بغیر کسی منصوبہ بندی کے رہی ہیں؟ آئیے ایک گراف مرتب کرتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے ضمن میں سفارتی محاذ پر کامیابیوں کا گراف۔ اس گراف کو ٹائم لائن پر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ستاسٹھ سال کی ٹائم لائن پر کامیابی کا رحجان دیکھتے ہیں۔ کس دور میں ناکامی ہے اور کہاں پر درخشاں کامیابی ہے؟ کیا غلطیاں ہوئی ؟ کہاں ہوئی؟ کیوں ہوئی؟ یقیناً وطن عزیز میں کچھ ادارے کشمیر کاز کے لیے کام کررہے ہوں گے۔
آج کے دور میں ایسا کوئی پراجیکٹ قابل عمل نہیں ہوسکتا جو جدید دور کے تقاضوں اور سائنسی بنیادوں پر استوار نہ کیا گیا ہو۔کشمیر ایشیو پر جو بھی کاوش کی جاتی ہے قابل ستائش ہے۔ کشمیریوں کو بھارت جیسے بڑے ملک کی سفارتی اور پراپیگنڈا مشینری کا توڑ نکالنے کے لیے پاکستان کی مدد چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو مربوط ، منظم اور دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ ہمیں اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ ہماری ساری کاوش کا فوکس کیا ہے؟ ہم غلط سمت میں تو تیر نہیں چلا رہے؟۔
اللہ ہمارا حامی اور ناصر ہو۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔