روزہ اور خدا کا قرب

بلاگ
ابویحییٰ

قرآن مجید میں روزہ کے احکام سورہ بقرہ کی آیات 183 تا 187 میں بیان کیے گئے ہیں۔اسی ضمن میں آنے والی آیت 186 کا ترجمہ درج ذیل ہے:
’’اور جب میرے بندے میرے بارے میں تم سے دریافت کریں تو(تو ان کو بتادو کہ) میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والاجب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا ان کو چاہیے میراحکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔‘‘
اس آیت میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں ان کا براہ راست روزے سے کوئی تعلق محسوس نہیں ہوتا۔ یہ قرآن مجید میں کسی اور مقام پر بھی آسکتی تھیں۔ مگر اس آیت کو عین روزے سے متعلق احکام کے بیچ میں رکھ دیا گیا ہے۔ جس سے محسوس ہوتا ہے کہ اس آیات میں جو کچھ بیان گیا گیا ہے اس کا روزے سے براہ راست تعلق ہے۔
اس آیت کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے نہ صرف قریب ہیں بلکہ ان کی ہر پکار کا جواب بھی دیتے ہیں۔ نزول وحی کے وقت اس کی ایک شکل یہ تھی کہ عام لوگوں کے ذہن میں جب کوئی سوال پیدا ہوجاتا یا لوگ جب اپنا کوئی معاملہ لے کر اللہ کے رسول کے پاس آجاتے تو اللہ تعالیٰ وحی دے کر جبریل امین کو بھیجتے اور اپنے بندوں کی پکار کا علانیہ جواب دیتے۔ رمضان کی راتوں میں بیویوں کے پاس جانے سے لے کر بیویوں کو اپنی ماؤں جیسا قرار دینے کے حوالے سے درجنوں سوالات اور ان کے جواب قرآن مجید میں اسی پس منظر میں بیان ہوئے ہیں۔
لیکن روزوں کے حوالے سے اس آیت کا ایک خصوصی پیغام ہے۔ وہ یہ کہ رمضان کے مہینے میں روزے رکھ کر اور یوں اللہ کے حکم پر لبیک کہہ کر بندے اپنے ایمان کا جو ثبوت دیتے ہیں، اس کا ثمرہ خدا کے قرب کا تجربہ ہے۔ شرط یہ ہے کہ روزہ لوگوں کی دیکھا دیکھی اور رسم وعادت کے طور پر نہ رکھا گیا ہو بلکہ روزہ کے قانون کے ساتھ یہ احساس بھی زندہ ہو کہ روزہ درحقیقت خدا کی بڑائی ، اس کی اطاعت اور اس کی شکر گزاری کے اعلیٰ ترین جذبات کا مظہر ہے۔
جب انسان اس احساس کے ساتھ روزہ رکھتا ہے کہ اس نے خدا کو بڑا مان کر اپنے بنیادی جبلی تقاضوں کو روک لگا دی ہے، جب انسان اس احساس کے ساتھ روزہ رکھتا ہے کہ وہ خدا کے لیے ناجائز ہی نہیں بلکہ جائز چیزوں کو بھی چھوڑنے کے لیے تیار ہے،جب انسان اس احساس کے ساتھ روزہ رکھتا ہے کہ تھوڑی دیر بھوک اور پیاس کاتجربہ کرکے اس نے خدا کی نعمتوں کی کثرت اور عظمت کو جان لیا ہے تو پھر انسان کی روحانیت لازماً بلند ہوجاتی ہے۔
یہ روحانیت انسان کو اپنے مالک کے قرب کا تجربہ کراتی ہے۔ پھر انسان پر وہ دعائیں الہام ہوتی ہیں جن کا قبول ہونا مقدر ہوتا ہے۔ انسان وہ ذکر کرتا ہے جسے خدا خود سنتا اور فرشتوں میں فخر سے بیان کرتا ہے۔ انسان کو اس سجدے، رکوع اور قیام کی توفیق ہوتی ہے جس کی لذت اسے سونے نہیں دیتی۔ ایسا انسان خدا کی معیت کا زندہ تجربہ کرتا ہے۔اس طرح کہ وہ خدا کو پکارتا ہے اور اس کا دل یہ بتاتا ہے کہ اس کی بات سنی گئی ہے۔
مگر یہ بات دل کی دنیا تک محدود نہیں رہتی۔ رمضان گزرجاتے ہیں اور پھر ایک روز انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے خدا کو جس بات کے لیے پکارا تھا وہ پوری ہوگئی۔جو پوری نہیں ہوئی ، اس سے بہتر نعمت اسے دے دی گئی۔جو غم و الم زندگی میں آیا اس کے ساتھ صبر و سکون بھی عطا ہوگیا۔ یہ اس بات کا زندہ ثبوت ہوتا ہے کہ خدا زندہ ہے۔ قریب ہے۔ مجیب ہے۔
رمضان خدا کے قرب اور اس کی موجودگی کو جاننے کا سب سے سنہری موقع ہوتا ہے۔ مگر یہ موقع انہی کو ملتا ہے جو رمضان میں اپنے ذہن کو دوسری ساری سرگرمیوں سے ہٹاکر خدا کی سمت لگادیں۔ باقی لوگوں کو بہت ہوا تو کچھ ثواب مل جائے گا۔ خدا کا قرب نہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔