اطباء کا اپنے مطبوں میں حق دوا سازی

حکومت پاکستان نے 2012ء میں دوا سازی کے نظام کو باقاعدہ اور عالمی اصول و معیارات کے مطابق بنانے کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ بنایا اور اس کے قیام کے لیے پارلیمنٹ سے قانون سازی کی گئی ۔ یہ قانون تمام طریقہ ہائے علاج کے دوا سازوں کے لیے ہے جس میں ایلوپیتھی، ہومیوپتھی، ہربل اور طب یونانی بھی شامل ہے۔ دوا سازی کو معیاری بنانے اور دوا سازی کے لیے کسی کو انکار نہیں ہے۔ مگر یہ بات حیران کن ہے کہ تمام طریقہ ہائے علاج کے نظریات، فلسفہ اور طریق دوا سازی الگ الگ ہے۔ تو پھر سب کے لیے ایک جیسے پیرا میٹرز کیوں؟ طب مشرقی یا یونانی کی اپنی جداگانہ حقیقت ہے۔ اپنا فلسفہ اور اپنا طریق دوا سازی ہے۔ جدید طریقہ علاج جیسے ایلوپیتھی کا نام دیا جاتا ہے کی دوا سازی کا انحصار کیمکلز اور سنتھٹک اجزاء پر ہے۔ جب کہ طب یونانی اس سے بہت مختلف ہے۔ اس میں جز کی بجائے کل پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے طبی دوا سازوں اداروں کا موقف رہا ہے کہ طبی تعلیم، تحقیق اور دوا سازی کے لیے قوانین متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے بنائے جائیں۔ اور اس نظام کے لیے اس شعبہ کے حاملین کی خدمات سے استفادہ کیا جائے ۔ان کی یہ بات ہر طرح سے درست ہے بجائے اس کے حکومت ہر حوالے سے اقدامات کرتی اور ان قوانین کے نفاذ سے پہلے اس نے 2003ء میں ٹی آرایم پالیسی جو کہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایت پر وزارت صحت نے طبی شعبہ سے وابستہ حاملین کی مشاورت سے بنانے تھے کو عمل درآمد کئے بغیر یہ ایکٹ نافذ کرکے طبی دوا سازی کے میدان میں بحران پیدا کر دیا اور اطباء حضرات جو کہ صدیوں سے اپنے مطبوں میں مریضوں کو ادویہ بنا کر دیتے تھے سب کو مینو فیکچرز کے زمرے میں شامل کرکے مطبوں میں ڈریپ کے قوانین کا نفاذ کر دیا جس سے طب یونانی کے لئے اپنی بقا کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔

طب یونانی کے معالجین اطباء اپنے طریقہ علاج کے فلسفہ و نظریات کے مطابق مریض اور مرض کے اسباب دیکھ کر پھر دوا کی مزاجی کفیت کو پیش نظر رکھ کر ادویہ تجویز کرتے ہیں۔ ایک ہی مرض میں متبلا چند مریضوں کو ان کے اور ان کے مرض کے مزاج کے لحاظ سے الگ الگ ادویہ تجویز کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری قدیم طب میں ایک ہی مرض کے ایک دو اجزاء کی تبدیلی سے کئی نسخے ملتے ہیں۔ پھر طبیب صرف ان پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ مریض اور مرض کے مطابق نسخہ میں تبدیلی کرتا ہے۔ یہی طب یونانی کے علاج کی بنیاد اور اس کے فلسفہ و نظریات کا تقاضا ہے۔ اگر ان نظریات و فلسفہ علاج معالجہ سے فرار کیا گیا تو پھر طب یونانی کے طریقہ علاج سے انحراف ہوگا۔
ڈریپ کے قوانین کی رو سے مطب کیلئے دوا سازی کرنے والا بھی مینو فیکچرز کے زمرے میں آئے گا اور اس پر بھی ان کے قوانین کا اطلاق ہوگا ۔ لامحالہ اب طبیب کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ دوا ساز اداروں کی تیار کردہ ادویہ سے مریضوں کا علاج کرے ۔ کمرشل دوا ساز ادارے ایک صنعت کا درجہ اختیار کر چکے ہیں اور وہ عموماً مارکیٹنگ کے اصول کے پیش نظر زیادہ کھپت والی ادویہ ہی تیار کرتے ہیں۔ ان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ مریضوں اور مزاج کو ملخوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک ہی مرض کے کئی کئی ادویہ تیار کریں اور پھر یہ بھی مشکل ہے کہ پھر طبیب کی ضرورت کے مطابق چند پیکٹ گولیاں یا شربت کے تیار کریں۔ مجھے ہمدرد وقف کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نوید الظفر نے بتایاتھا کہ دو سو سے زیادہ ادویہ ایسی ہیں۔ جن کا سال میں مشکل سے ایک بیج تیار ہوتا ہے اور یہ دو سو ادویہ سے ہمیں کوئی منافع نہیں ہوتا مگر ہمیں اپنے مطبوں اور مریضوں کے لیے تیار کرنا پڑتی ہیں۔
اگر طبیب کو اپنے حق دوا سازی سے محروم کرکے اس کو طبی دوا ساز اداروں کو تیار کردہ اوریہ سے علاج معالجہ کا آپشن دیا جاتا ہے تو اس لئے ادویہ کا انتخاب مشکل ہو جائے گا اور شافی علاج کی سعی مشکل ہو جائے گی۔ معالج کا بنیادی مقصد شفا انسان ہے۔ مگر اس طرح وہ مسیحا نہیں بلکہ دوا فروش بن جائے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مریض متاثر ہوگا۔ دوسرا طبیب طب یونانی کے تصور متبادلات یعنی مرض کے مطابق اجزاء کی تبدیلی یا کمی بیشی نہ کر سکے گا۔ کیونکہ اپنا حق دوا سازی نہ ہونے سے اسے طبی دوا ساز اداروں کی تیار کردہ ادویہ پر ہی انحصار کرنا ہوگا۔ جس کا لازمی نتیجہ مریض کا متاثر ہونا ہے۔ پھر ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہر معالج کا مطب ایک ریسرچ مطب بھی ہوتا ہے جس میں وہ اپنے زیر علاج مریضوں کے زیر استعمال مفردات کی معالجانہ اثر پذیری کو پرکھتا ہے۔ بلکہ اپنے تجربات سے استعمال ہونے والی مفردات و مرکبات بارے اسے مکمل یقین و اعتماد ہو جاتا ہے ۔ اس طرح تحقیقات سے نئی ادویہ بھی سامنے آتی ہیں جو کہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
اگر ڈریپ نے اطباء کو اپنے مطبوں پر حق دوا سازی کو ختم کر دیا تو یقیناً اس سے طب یونانی میں تحقیق کا عمل متاثر ہوگا۔ ان کا علم محدود اور تحقیقات و مشاہدات کا سلسلہ ختم ہو جائے گا ۔ان کا تمام تر انحصار طبی دوا ساز اداروں کی تیار کردہ ادویہ پر ہوگا طبی کتب میں مذکورہ مفردات سے شناسائی و آگہی ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ اسے اپنی ادویہ بنانے کی اجازت نہ ہوگی تو وہ کیونکر مفردات کی جان پہچان رکھے گا۔ ہمارے اطباء کرام کو طبی کالجز میں طبی دوا سازی پڑھائی جاتی ہے۔ پھر ان کا پریکٹیکل بھی ہوتا ہے۔ اس لئے ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ڈریپ کے قوانین کے نفاذ سے پہلے 2003ء میں وضع کردہ ٹی آر ایم پالیسی کے مطابق اقدامات کرے۔ پھر ڈریپ میں طب کے لیے الگ شعبہ ہو۔ جو متعلقہ شعبہ کے افراد سے مشاورت سے رولز بنائے۔ اطباء کو اپنے مطب پر حق دوا سازی کو جاری رکھا جائے۔ یہ ان کا حق ہے۔ اطباء کو اپنے طریقہ علاج کے فلسفہ و نظریات کے مطابق اپنے مطب کی ضروریات کے مطابق دوا سازی کے حق تسلیم کیا جائے۔ اور اس دوا سازی کے لیے ضروری ساز و سامان آلات اور مشینری کی اجازت رہنی چاہئے۔ ایسے حفظان صحت کے اصولوں کے لیے کوئی ضوابط وضع کر دیئے جائیں۔ امید ہے کہ حکومتی ارباب اختیار اطباء کا حق دوا سازی کو تسلیم کرتے ہوئے قانونی تحفظ دیں گے۔ تاکہ ہمارے اسلاف کا یہ ورثہ اپنے نظریات و فلسفہ کے مطابق مزید ترقی کرے ۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ڈریپ کی وجہ سے ملکی طبی دوا سازی کی صنعت داؤ پر لگ چکی ہے۔ یہ وہ صنعت ہے جس سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں اور حکوتم کو کروڑوں کا ریونیو ملتا ہے۔ اس کو بحران سے نہ نکالا گیا اور جائز مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو عوام کو ملکی طریق علاج سے استفادہ کی سہولت ختم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ فن ختم ہو جائے گی۔ جس بارے قائداعظم نے کہا تھا کہ نئی مملکت پاکستان میں اسلامی علوم فنون بشمول طب کی بھرپور سرپرستی کی جائے گی۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔