یہ راہِ خدا ہے تماشا نہیں ہے

بلاگ
ابویحییٰ

ہماے ہاں چھوٹے بچوں کو چلنا سکھانے کے لیے ایک خاص طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس طریقے کے مطابق جب بچہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اپنی ٹانگوں پر کھڑ ا ہو سکے تو ہم اسے دیوار کے سہارے کھڑ ا کر دیتے ہیں۔ پھر اس سے ذرا دور ہٹ کر دونوں ہاتھ اس کی طرف پھیلا کر اسے اپنی طرف بلاتے ہیں۔ بچے کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ ہم اسے گود میں لے لیں۔ لہٰذا وہ یہ سمجھ کر کہ ہم اسے گو د میں لینا چاہتے ہیں، اپنا سہارا یعنی وہ دیوار جس سے ٹیک لگا کر وہ کھڑ ا ہوتا ہے، چھوڑ دیتا ہے اور ہماری طرف بڑ ھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کوشش میں اس کے نو آموز قدم لڑ کھڑ اتے ہیں۔ لیکن ہم تک پہنچنے کی خواہش میں وہ ایک کے بعد دوسرا قدم زمین پر ٹکا کر اپنا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ شروع شروع میں وہ بمشکل ایک دو قدم ہی اٹھا پاتا ہے مگر آہستہ آہستہ اسے اپنا توازن برقرار رکھنا آ جاتا ہے اور وہ خود اپنے قدموں پر چل کر ہمارے پاس آنے لگتا ہے اور یوں وہ چلنا سیکھ لیتا ہے۔
اس عمل کے دوران میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے بچے کو بانہیں پھیلا کر اپنی طرف بلایا ہو اور جب اس نے اپنا سہارا چھوڑ دیا ہو تو ہم نے اسے گرنے دیا ہو۔ جب تک بچہ چل سکتا ہے، ہم اسے چلنے دیتے ہیں اور خود پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں، مگر جس لمحے بچہ گرنے لگتا ہے، ہم آگے بڑ ھ کر اسے سنبھال لیتے ہیں۔ اس لیے کہ ہمارا مقصد بچے کو گرانا، اسے تکلیف دینا نہیں، بلکہ چلنا سکھانا ہوتا ہے۔
یہ ایک مثال ہے جس کے ذریعے سے ہم خدا اور بندے کے تعلق کو سمجھ سکتے ہیں۔ وہ تعلق جو اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس کائنات کا رب ایک کمزور بندے کو اپنی طرف بڑ ھنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ بندہ اس ربِ کریم کی پکار پر لبیک کہہ کر آگے بڑ ھتا ہے۔ وہ راہ وفا پر قدم رکھ دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ خدا کی سمت چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی ہر دیوار چھوڑ نی ہو گی۔ خود کو بے سہارا کرنا ہو گا۔ لیکن وہ اپنے رب پر بھروسا کر کے ڈگمگاتا ہوا، لڑ کھڑ اتا ہوا آگے بڑ ھتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دنیا والے اسے احمق خیال کرتے ہیں۔ اس کی کم عقلی پر ماتم کرتے ہیں۔ اسے ملامت کرتے ہیں۔ لیکن اس کی نگا ہوں میں تو اس کا رب ہوتا ہے۔ اس کے اٹھے ہوئے ہاتھ ہوتے ہیں۔ اسے اعتماد ہوتا ہے کہ یہ اٹھے ہوئے ہاتھ اتنے کمزور نہیں کہ اسے سنبھال نہ سکیں۔
اس میں شک نہیں کہ یہ عالم اسباب خدا نے انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ لیکن یہاں اسبا ب کی ڈوریاں بھی وہی ہلاتا ہے اور آزمائش کی بساط بھی وہی بچھاتا ہے۔ ایسا اس کی صفتِ علم و حکمت کے تحت ہی ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو زمانے کے سرد وگرم سے آزماتا ہے اور اپنے نیک بندوں کو تو کچھ زیادہ ہی آزماتا ہے۔ کبھی ان کے کھوٹ دور کرنے کے لیے، کبھی جنت میں ان کے درجات بلند کرنے کے لیے اور کبھی دنیا کے سامنے ایک نمونہ پیش کرنے کے لیے۔ تاہم اس آزمائش کی ایک حد ہوتی ہے، اس حد کا انحصا ر خدا پر نہیں، بلکہ بندے پر ہوتا ہے۔ اس کی بلندی شوق پر ہوتا ہے۔ کوئی یہ چاہتا ہے کہ اسے راہِ حق میں کانٹا بھی نہ چبھے اور کوئی موسیٰ کے مقابلے میں آنے والے جادوگروں کی طرح وقت کے فرعون کے سامنے اس لیے ڈٹ جاتا ہے کہ اسے موت کی شکل میں خدا کی رحمت بالکل سامنے نظر آ رہی ہوتی ہے۔
خدا ہر شخص کو جنت کی طرف پکارتا ہے مگر اس کی یہ جنت بے قیمت نہیں۔ اس راہ میں طرح طرح کے اندیشے ستاتے ہیں۔ قدم قدم پر مشکلات کے پہاڑ سامنے آ جاتے ہیں۔ بے یقینی کے مہیب سائے بار بار انسان کو گھیر لیتے ہیں۔ ایسے میں خدا پر توکل ہی اسے آگے بڑ ھاتا ہے۔ خدا کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کی کشش اسے آخری دم تک خدا کی طرف بڑ ھتے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ مگر جس لمحے اس کے قدم اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیتے ہیں، وہاں عرش کا مالک خود فرش پر آتا ہے اور گرنے سے پہلے اسے سنبھال لیتا ہے۔ یہ راہِ خدا ہے تماشا نہیں ہے۔ اس کا اصول یہ بھی ہے کہ انسان خود کو برباد کرے اور اس کا اصول یہ بھی ہے کہ خدا بندے کو برباد نہ ہونے دے۔
آج انسانیت کو کچھ ایسے ہی صاحبان دل اور صاحبان شوق درکار ہیں جو خدا کے لطف و عنایت کی امید پر خود کو برباد کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ خدا کی شانِ کریمی ایسا نہ ہونے دے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ا س کے پیغام اور اس کے دین کی دعوت کو دوسروں تک پہنچانا اپنی زندگی کا مشن بنالیں۔ جو سچائی اور حق کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں۔ جو خواہش اور مفاد سے اوپر اٹھ کر جنت کی نعمتوں کو دیکھ سکیں۔ جو فرقہ واریت، تعصب اور انتہا پسندی سے اوپر اٹھ کر علم و عقل کے مسلمات کی بنیاد پر قرآن و سنت سے دین سمجھیں اور دوسروں کو اسے سمجھانا اپنا نصب العین بنالیں۔
خدا نے قرآن میں اپنے فیصلہ کا اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنی راہ میں مشقت جھیلنے والوں کو اپنی راہ ضرور دکھائے گا۔ اب انسانوں میں سے کوئی ہے جو یہ کہتا ہوا اپنی دیوار چھوڑ دے۔۔۔ خود کو بے سہارا کر دے
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سواپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔