پانامہ ٹو شروع

اگلے انتخابات میں جیت کس کامقدر بنے گی،اسکا فیصلہ بھی پانامہ کیس ہی کرے گا۔پانامہ فیصلہ غیر متوقع ہے اور اسے شریف خاندان کی جیت قرار نہیں دیا جاسکتا ۔یہ تاثر قائم کرنا کہ عدالتیں شریف خاندان کے خلاف فیصلے نہیں دیتیں اس شک کو بھی عدلیہ کے حالیہ فیصلہ نے دور کردیا ہے۔بینچ کے ججوں نے وزیر اعظم پر بھلے سے نااہلی کے نکتہ پر اختلاف کیا ہے لیکن پانچوں ججوں نے وزیر اعظم کی منی ٹریل کے ثبوتوں کو رد کردیاہے اور اس پر شک کا اظہار کیا ہے، تبھی تو انہیں مکمل بریت نہیں دی اور جے آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان کیاہے۔گویا جو تلاشی عدلیہ نہیں لے سکتی تھی،وہ جے آئی ٹی لے گی۔
ن لیگ کے سیاستدان سمجھ رہے ہیں کہ عدلیہ نے وزیر اعظم کو نااہل قرار نہیں دیا اور یہ انکی مکمل فتح ہے ،یہ خام خیالی ہوسکتی ہے کیونکہ انہوں نے فتح کابگل بجائے سے پہلے فیصلہ کا مکمل متن نہیں پڑا۔جوں جوں فیصلہ کے مندرجات سامنے آرہے ہیں ،ماہرین قانون اورسینیر صحافیوں کا کہنا ہے کہ حالیہ فیصلہ کو سمجھ لیں یہ پانامہ ون کا فیصلہ ہوا ہے لیکن پانامہ ٹو کا فیصلہ جو اصل فیصلہ ہوگا ،دوماہ سات دن بعد آئے گا۔اس کے لئے عدلیہ نے ابھی اپنا کام نہیں چھوڑا۔اس فیصلہ کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وزیرا عظم کرپشن سے بری الذمہ ہیں ۔ اگرچہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف پانامہ فیصلہ میں نااہل قرارنہیں پائے لیکن نااہلی کی تلوار دو مہینے تک لٹکی رہے گی۔دیکھا جائے تواس ججمنٹ کو حتمی قرار نہیں دیاجاسکتا ،کیونکہ اپنی عدلیہ نے اپنی سرپرستی میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ دیا ہے تاکہ جوائنٹ ایکشن ٹیم تحقیقات کرکے عدلیہ کو اپنا فیصلہ دوبارہ کرنے میں مواد فراہم کرے اور اسکے بعد ہی اصل فیصلہ ہوگا۔
حیرت کی بات ہے کہ ن لیگ والے پہلے سمجھ رہے تھے کہ عدلیہ نے جوائنٹ ایکشن کمیشن تشکیل دیا ہے ، انہیں اس بات کاادراک بعد میں ہوا کہ یہ جوائنٹ ایکشن کمیشن نہیں بلکہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ہوگی جس میں نیب ،ایم آئی،آئی ایس آئی اور ایف آئی سمیت چھ ارکان پر شامل ہوں گے۔جے آئی ٹی ہفتہ وار رپورٹ عدلیہ کو پیش کیا کرے گی۔تاکہ پانامہ ٹو کو مکمل ثبوتوں کے ساتھ کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔
پانامہ ون میں دو ججوں نے حکومت کے خلاف فیصلہ دیا،جبکہ تین ججوں نے اسکے برعکس نوٹ لکھا ہے کہ یہ ثبوت وزیر اعظم کو نااہل قرار نہیں دے سکتے ۔اس اختلافی نوٹ اور فیصلہ کے بعد جج صاحبان جے آئی ٹی تشکیل دینے پر متفق ہیں اور کرپشن پر انکے سخت ریمارکس قابل غور ہیں۔ لہذا اس فیصلہ کی رو سے دیکھا جائے (جو ابھی مکمل متن کے ساتھ زیر بحث نہیں ہے)کہ عدلیہ نے پوری دیانت اور مہارت کے ساتھ آئین اور قانون کی بالادستی کا حق ادا کیا ہے اورمطلق نتیجہ تک پہنچنے کے لئے مزید تحقیقات کرنے کی ٹھان لی ہے۔
دیکھا جائے توپانامہ کیس کا فیصلہ جمہوریت اور قانون کی جیت بھی ہے۔عدلیہ نے کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا اورپاکستان کے ایک پہلے وزیر اعظم کو عام افسروں کے سامنے اپنی صفائی دینے پر مجبور کردیا ہے،جیسا کہ مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔برطانیہ،اسرائیل جیسے ملک کے وزیر اعظم ایک پولیس انسپکٹر کے سامنے پیش ہوسکتے ہیں تو اس کا یہی مطلب لینا چاہئے کہ ان ملکوں کا نظام قابل اعتماد ،طاقتور اور شفاف ہے۔اسلام میں تو ایسی کئی سنہری مثالیں موجود ہیں۔پاکستان میں بھی طاقتور اور صاحب اقتدار شخصیات کا انکوائری ٹیم کے سامنے پیش ہونا جمہوریت اور نظام کی بالا دستی کا ثبوت ہوگا۔اور یہ نظام کی بہتری اور فعال ہونے کی جانب انقلابی قدم متصوّر کرنا چاہئے۔
ان حالات کے باوجودبہر حال ایکبنیادی سوال اٹھتا ہے کہ جوائنٹ ایکشن ٹیم کی تحقیقات دومہینے میں مکمل ہونے کے بعد کیا واقعی عدلیہ فی الفور فیصلہ دے سکے گی یا سسٹم اپنا پروسیجر مکمل کرنے میں وقت لے گااور یہ وقت کتنے مہینوں اور سالوں پر مشتمل ہوگا ۔حالیہ فیصلہ کے بعد پانچ ججوں کا یہ بنچ بھی تحلیل ہوجائے گا اور جوائنٹ ایکشن ٹیم کی تحقیقات کے بعد فیصلہ کا اختیار کیا براہ راست سپریم کورٹ کرے گی یا نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹ میں اسکو لے جایا جائے گا اور اس اگر وزیر اعظم قصور وار نکلتے ہیں تو انہیں اپیل کا حق حاصل کرتے ہوئے کس عدلیہ میں جانا ہوگا ۔اپیل کے بعد ہی انصاف کے تقاضے اور عدلیہ کا کام پورے ہوتے ہیں۔لیکن اس سے بھی ایک بڑا سوال کہ کیا سٹنگ پرائم منسٹر سے جے آئی ٹی کے افسران انکوائری کرسکیں گے؟ وہ ان پر اثر انداز نہیں ہوں گے؟ خیر اگر یہ مراحل شروع ہوگئے تو ان میں وقت لگے گااورامید ہے پانامہ ٹو کا حتمی فیصلہ آنے میں اگلے انتخابات کا مرحلہ شروع ہوچکا ہوگا۔اگر واقعی اگلے انتخابات کے موسم میں پانامہ ٹو کا فیصلہ آتا ہے یا اسکی فضا قائم رہتی ہے تواس کی بنا پرہی اگلی سیاسی جماعت اور نئے وزیراعظم کے انتخاب کا فیصلہ ہوگا۔
.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔