محبت رسولﷺ کے تقاضے

بلاگ
سید بلال قطب

اللہ اور اسکے رسولﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کے اس محبت کے اسباق پڑھ کر ان کے مطابق چلیں۔اللہ اور رسولﷺ کو جانیں۔ آج ایمان اور سکونِ قلب کی تلاش کرنے والے لوگ حقیقت سے انجان ہیں یہ عشق رسول میں پنہاں ہے۔ حضرت عمرِ خطابؓ اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کو نصیحت کرتے ہیں کہ جب میں مر جاؤں تو میرا کفن سادہ رکھنا ۔ خواتین و حضرات !ا گر عمرؓ سے محبت نہیں ہوگی تو ایمان کہاں جائے گا؟ ہم میں اور اِن لوگوں میں پتا ہے بہت چھوٹا سا فرق ہے۔ ہم عمر خطابؓ نہیں بن سکتے ۔ فرق یہ ہے کہ عمر خطابؓ کھڑے تھے ، رسولِ پاک ﷺ آئے اور فرمایا عمر خطابؓ سے کہ عمرؓ! ’’تجھے مجھ سے کتنی محبت ہے؟‘‘ عمرخطابؓ کہتے ہیں’’ یا رسول اللہ ﷺ !اپنی جان کے بعد مجھے سب سے زیادہ آپ سے محبت ہے۔‘‘ کیسا سچ بولا عمرخطابؓ نے کہ اپنی جان کے بعد یا رسول اللہ ﷺ! مجھے سب سے زیادہ آپ سے محبت ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔’’ عمرؓ ! تیرا ایمان مکمل نہیں ہے۔ ‘‘ عرض کیا’’ یا رسول اللہ ﷺ! میرا ایمان مکمل کیوں نہیں ہے؟ ‘‘

فرمایا’’ جب تک تجھے مجھ سے محبت اپنے سے، اپنی اولاد سے، ماں باپ سے زیادہ نہ ہو عمرؓ تمھارا ایمان مکمل نہیں‘‘
مجالسِ رسولﷺ میں ہم وہ حدیں پار کر جاتے ہیں جن سے اللہ کے رسولﷺ نے منع فرمایا ہو۔ ہم میں اور حضرت عمرؓ میں یہی تو فرق ہے کہ ہم حضرت عمرِ خطابؓ کی باتیں تو اپنے اداروں میں کر سکتے ہیں لیکن عمرِ خطابؓ پیدا نہیں کر سکتے۔ حضرت عمرؓ کو پتا چلا کہ مجھے محبت زیادہ کرنی ہے رسول اللہ ﷺ سے تو کہتے ہیں ’’یا رسول اللہ ﷺ !آج کے بعد عمرؓ خود سے نہیں آپ ﷺ سے محبت کرے گا۔‘‘ یہ جو پلٹا ہے نہ خواتین و حضرات کہ یوں مجھے علم ہوا اور یوں میں بدلا، اور وہ بدلا کیسے؟ ایمان داری سے جب میں نے کہہ دیا کہ میں آپﷺ سے زیادہ محبت کروں گا تو پھر میں آپﷺ سے ہی زیادہ محبت کروں گا، کہوں گا نہیں صرف، یہ جو بال برابر فرق کہ اگر یہ نیت ہماری بھی ہوجائے تو ہمارا عمل بھی سنتِ عمرؓ ہوگا۔ اس پہ ضرور کسی وقت غور فرمایئے گا۔ حضرت عمرؓ کی جو بات میں آپ سے عرض کر رہا تھا کہ عمرؓ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ جب میں مر جاؤں گا تو مجھے بہت سادہ سا کفن پہنانا۔ اِس لیے سادہ کفن دینا کیونکہ اگر اللہ نے مجھے قبول کر لیا تو اللہ مجھے لباس خود عطا فرمائیں گے اور اگر اللہ نے مجھے قبول نہ کیا تو میرے جیسے گناہ گار کے جسم پہ تم اپنا قیمتی کپڑا کیوں ضائع کرو گے۔ اللہ کے ہاں جانے اور اللہ کو ملنے کا بھروسا ہو تو پھر تین کپڑوں کا کفن کوئی نہیں مانگتا آپؓ نے کہا میری قبر کو بھی سادہ رکھنا ۔میں مسلمانوں کا امیر ضرور ہوں لیکن میری قبر کو سادہ رکھنا ۔ قبر پر پیسہ ضائع نہ کرنا ۔ اس کو مسلمانوں کی فلاح کے لیے استعمال کرنا، بھوکوں کے لیے استعمال کرنا ، اگر اللہ نے مجھے قبول کر لیا تو پھر قبرکی کچی دیواریں جنت کا باغ بنا دی جائیں گی۔ پھر تیسری بات بھی وصیت کی کہ میرے جنازے کو تیز لے کر چلنا۔ یہ جو جنازے کو تیز لے کر چلنے کی روایت ہے۔ یہ حضرت عمر خطابؓ سے ہے... پوچھا’’ بابا! کیوں تیز لے کر جائیں؟‘‘
فرمایا’’ اس لیے تیز لے کر جانا کہ اگر اللہ نے مجھے قبول کرنا ہے تو پھر تم میرے اور خدا کے درمیان رکاوٹ بنو گے اور اگر خدا نے مجھے نہیں قبول کرنا تو مجھ جیسے گناہ گاروں کا وزن تم جیسے جنت کے وارثین پر کیوں پڑا رہے‘‘
خدا کا سچا ہونا ، خدا کا زندہ ہونا۔ اگر آپ کے لیے ایک حقیقت ہے تو پھر سیدنا عمرؓ کا مزاج بھی ہماری وراثت ہوگا ۔اگر خدا اُن کے لیے زندہ تھا تو پھر شاید ہمارے لیے زندہ نہیں ہے۔ اگر ہمارے لیے واقعی خدا زندہ ہو تو پھر مزاج سیدنا علی کرم اللہ وجہہ جیسا ہوتا ہے۔ ایک کھجور میں سات سات دن گزارنے والے حضرت علیؓ! ایک فقیر آ گیا اور حضرت علیؓ سے کہتا ہے کہ مجھے کچھ دو ۔حضرت علیؓ نے کہا’’ میرے پاس کچھ نہیں ہے دینے کو‘‘
فقیر حضرت علیؓ کا گریبان پکڑا کے کہتا ہے ’’ علیؓ میں نے تجھ سے آج مانگا اور تو نے مجھے انکار کیا۔ میں روزِ قیامت اسی طرح تیرا گریبان پکڑوں گا‘‘ اب حضرت عمر خطابؓ کا اللہ تو سچا اور زندہ ہے اور حضرت علیؓ کا خدا بھی زندہ ہے۔ حضرت علیؓ رو پڑے ۔فرمایا’’ ٹھہرو! میں ابھی اندر سے آتا ہوں‘‘ اندر گئے حضرت فاطمہؓ سے کہا ’’ میری وہ زرہ لاؤ، جو خیبر میں پہن کر گیا تھا‘‘ آپؓ زرہ باہر لائے اور فقیر صحابیؓ کو کہتے ہیں ’’ یہ تُو میری زرہ لے جا‘‘ اب غور کیجیے ایک مجاہد کی غیرت اور عزت اس کا ہتھیار ہے، اُس کی زرہ ہے۔ وہ اس کو دے دی، وہ لے کر جانے لگا تو حضرت علیؓ اس فقیر سے کہتے ہیں کہ تو میری زرہ کو لے کے جا تو رہا ہے ، یہ نہ سمجھنا اس سے کہ یہ میری غیرت ہے جو تو لے کے جا رہا ہے ۔۔۔یہ نہ سمجھنا۔ یہ وہ زرہ ہے جس نے خیبر میں رسولِ پاکﷺ پہ گرتے ہوئے تیروں کو روکا تھا۔ اس زرہ سے میں نے رسولِ پاکﷺ کی حفاظت کی تھی ۔ یہاں بھی حضرت علیؓ کا خدا حق بھی تھا اور سچا بھی تھا۔ اپنی ذات کوحضرت علیؓ نے بڑا نہیں کیا، اللہ کے رسولﷺ کی خدمت کو افضل جانا کہ ایک خدمت گا ر رسولِ پاکﷺ کے ساتھ تھا۔ دوستو،ایمان کے معاملات محبت رسولﷺ کے علاوہ اور کہیں نہیں مل سکتے۔ اگر رسولﷺ کی محبت ہوگی تو ایمان کی حالت تبھی بہتر ہوگی۔

( سید بلال قطب ممتاز ترین دینی روحانی سکالر کی حیثیت میں نوجوانوں کو الجھنوں اور گمراہی سے بچارہے اور ان میں اللہ و رسولﷺ سے محبت کا سلیقہ اور شعوربیدار کررہے ہیں ۔ٹی وی چینلز پر انکے پروگراموں اور تعلیمی و پیشہ وارانہ اداروں میں انکے لیکچرز کی وجہ سے لوگوں میں قرآن فہمی کا جذبہ عود آیا ہے۔ انکی ویب سائٹ http://www.bilalqutab.com/ اور فیس بک
https://www.facebook.com/syed.bilal.qutab/ پر ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے)

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔