توہین رسالت :ایک بنیادی نکتہ

بلاگ
ابویحییٰ

توہین رسالت مسلمانوں کے لیے ایک علمی مسئلے سے زیادہ ایک جذباتی مسئلہ ہے۔ایسے کسی مسئلے پر علمی گفتگو کرنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن اس حوالے سے ایک بنیادی نکتہ ایسا ہے جس کا اظہار ایک بنیادی دینی تقاضہ ہے۔ اس کے بغیر دین کا کوئی طالب علم روزِقیامت اللہ کی بارگاہ میں سرخرو نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہ خاکسار برسہا برس سے اس نکتے پر لوگوں کی توجہ مبذول کرارہا ہے۔ اور ایک دفعہ پھر یہ بات لوگوں کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔

تاہم اس اصل نکتے سے قبل دواہم چیزوں کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس خاکسار کے نزدیک توہین رسالت کا قانون ملکی سطح پر ضروری ہے اور پورے عدل و انصاف کے ساتھااس کا نفاذ ہماری اجتماعی ضرورت ہے۔اس کی بنیادی وجہ ہماری مذہبی فکر کی فرقہ وارانہ تقسیم ہے۔ ہمارے ملک میں اکثریت بریلوی مسلک کے لوگوں کی ہے۔ ان کے نزدیک اہلسنت کے باقی دو اہم مسالک یعنی اہل حدیث اور دیوبندی دونوں گستاخ رسول اور بددین ہیں۔
معلوم بات ہے کہ ان دونوں مسالک کے اکابرین کے خلاف گستاخی رسول کے فتوے موجود ہیں۔پچھلی صدی میں بریلوی مسلک کمزور پڑا تو یہ معاملہ کچھ ٹھنڈا ہوگیا تھا، مگرپچھلے کچھ عرصے میں مولانا الیاس قادری کی سربراہی میں بریلوی مسلک کے احیاء کی ایک زبردست تحریک اٹھی ہے۔ربع صدی میں یہ جماعت ایک صدی سے کام کرنے والی تبلیغی جماعت کو پیچھے چھوڑ گئی ہے۔جس کے بعد بریلوی مسلک کو ایک دفعہ پھر نئی زندگی ملی ہے ۔
ہمارے ہاں بعض نادان ممتاز قادری کے واقعے کو مذہبی طبقے کی طاقت کا اظہار سمجھتے ہیں۔ یہ مذہبی طبقے کی نہیں بلکہ بریلوی مسلک کی نئی طاقت کا اظہار ہے۔چنانچہ سب کو یاد ہوگا کہ جنید جمشید مرحوم کے ساتھ ممتاز قادری کے چہلم ہی کے موقع پر اسلام آباد ائیرپورٹ پر تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔جنید جمشید پر بھی گستاخی ہی کا الزام تھا۔آج دعوت اسلامی کے قائدمولانا الیاس قادری ایک متوازن بزرگ ہیں۔ مگر یہ خاکسار دعوت اسلامی کا حصہ رہا ہے اور جانتا ہے کہ ا س کی اٹھان کیا ہے۔کل اس کی قیادت کسی سخت گیر شخص کے ہاتھ میں آئی تو پھر سارے فرقوں کے ’’گستاخوں ‘‘ کے فیصلے بندوق کی نوک پراور ہجوم کے ہاتھوں چوراہوں پر ہورہے ہوں گے۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں ضروری ہے کہ ملکی سطح پر یہ قانون باقی رہے تاکہ لوگوں کو عدالت میں جانے پر آمادہ کیا جاسکے۔اس وقت بھی جن لوگوں نے تحقیق کی ہے وہ بتاتے ہیں کہ عدالتوں میں توہین عدالت کے بیشتر کیسز وہ ہیں جن میں کسی بریلوی نے کسی دیوبندی یا اہل حدیث کے خلاف مقدمہ کررکھا ہے۔ اور وجہ ایسی ہی کوئی چیز ہوتی ہے کہ کسی اہل حدیث یا دیوبندی نے میلاد کے کسی اشتہار کو بدعت کی دعوت سمجھ کر دیوار سے پھاڑ کر پھینک دیا تو اس پر الزم لگ گیا کہ اس نے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی توہین کی ہے۔ جن لوگوں کو ہماری بات کچھ مبالغہ لگ رہی ہو وہ ذرا جنید جمشید کا معاملہ یاد کرلیں۔جنید جمشید مرحوم کا اصل جرم یہ تھا کہ ان کا تعلق دیوبندی مکتب فکر سے تھا۔ورنہ جو کچھ ان کی زبان سے نکلا تھاوہ بالکل نادانستگی میں ہوا تھا اور اس کی معافی بھی وہ علانیہ مانگ چکے تھے۔دوسری طرف ایک اور مشہور ٹی وی اینکر نے صحابہ کرام کی شان میں انتہائی گستاخانہ گفتگو پورے شعور اور ارادے سے کی تھی، مگر ان کی ایک عمومی معافی کو اس لیے قبو ل کرلیا گیا کہ ان کاپس منظر بریلوی اور شیعہ مکتب فکر کا ہے۔
چنانچہ مقدس شخصیات کے نام پر جو فرقہ وارانہ مفادات کی جنگ ہوتی ہے، اس کے پرامن حل کا اس وقت راستہ یہی ہے کہ معاملہ عدالت میں جائے۔ یہیں سے ہم دوسرے نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ کسی صورت میں اور کسی قیمت پر اس بات کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے کہ افراد قانون ہاتھ میں لیں۔ ہم مذہبی لوگوں کو خدا کا خوف دلادلاکر تھک چکے ہیں۔
اب ہاتھ جوڑ کر صرف یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ خدا سے نہیں ڈرتے تو انسانوں سے ڈرو۔ جو گڑھا آپ دوسروں کے لیے کھودرہے ہیں، وہ آنے برسوں میں سب سے بڑھ کر آپ کی قبر بنے گا۔اس روش کی اگر ایسے ہی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی تو آنے والے دنوں میں جب بریلوی مسلک اپنی پوری طاقت کو پہنچے گا تو چن چن کراور گھیر گھیر کے ایک ایک گستاخ کو اس کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ گستاخ لبرل کم ہوں گے اور دیوبندی اور اہل حدیث مسالک کے لوگ زیادہ ہوں گے۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے کے جو واقعات پیش کیے جاتے ہیں وہ درایت اور روایت کے کسی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ حضرت عمرکی طرف منسوب گستاخی رسول پر کسی منافق کا سرقلم کرنے والا واقعہ بالکل بے اصل ہے۔یہ سند کے کسی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ نابینا صحابی والا واقعہ روایت کے علاوہ درایت کے پہلو سے اتنا کمزور ہے سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے نقل کرنے والے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کس طرح کا تاثر پھیلاناچاہتے ہیں۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک صاحب رات کے وقت اپنی باندی کو قتل کرتے ہیں اور صبح کے وقت حضور کے سامنے یہ کہہ کر فارغ ہوجاتے ہیں کہ اس نے گستاخی کی اس لیے مارڈالا۔اورحضور بغیر کسی گواہی کے اس کی بات مان لیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ قاتل قتل کرے اورخود ہی مقتول کے خلاف گواہی دے دے اور اسے بری کردیا جائے ۔کیا اسلام کے قانون شہادت اور حضورعلیہ السلام کی عدالت میں ایسے ہی فیصلے ہوا کرتے تھے؟ اور اگر یہ بات ٹھیک ہے تو پھر مان لیناچاہیے کہ جو شخص جس کو چاہے رات میں قتل کردے اور صبح عدالت میں جاکر بیان دے دے کہ میں نے اس کو گستاخی کے جرم میں قتل کیا ہے۔عدالت اسے بری کرنے کی پابند ہوگی۔ توپھر بسم اللہ کیجیے اور اس کو ملک کا قانون بنادیجیے۔پھر سارے لوگ اپنے ذاتی جھگڑے اسی طرح نمٹالیا کریں گے۔
اصل بنیادی نکتہ
اب ہم آتے ہیں اس بنیادی نکتے کہ طرف جس کا سمجھنا ضروری ہے۔قرآن و حدیث کا تمام ذخیرہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حضور کریم علیہ السلام کے خلاف گستاخی کا سب سے زیادہ معاملہ آپ کی زندگی میں پیش آیا۔قرآن و حدیث میں اس حوالے سے گستاخوں کے جو الفاظ نقل ہیں وہ ایسے ہیں کہ آج کوئی قرآن و حدیث کا حوالہ دیے بغیر نقل کردے تو لوگ اسے زندہ آگ میں جلادیں۔ مگر سرکار کی شان کریمی کے کیا کہنے ہیں کہ کہیں ذاتی انتقام، بدلے اور سزا کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اپنی ذات کے لیے انتقام لینے والے ہوتے تو طائف اور مکہ کے کفار سے لے کر مدینہ کے یہود و منافقین تک کوئی بھی زندہ باقی نہیں رہتا۔ ان میں سے ہر شخص اور گروہ نے آپ کے خلاف ہر ممکنہ گستاخی کا معاملہ کیا تھا۔یہ معاملہ گلی بازاروں ہی میں نہیں ہوا بلکہ آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوکر اور آپ کی مجلسوں میں بیٹھ کرکیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی عنایت سے حضورکے پاس اتنی طاقت تھی کہ آپ جس کو چاہتے قتل کرادیتے۔ معاذاللہ ثم معاذاللہ حضور کا معاملہ اگر یہی ہوتا جس طرح بعض لوگ نقشہ کھینچتے ہیں کہ وہ گستاخی کرنے والوں کو سزا دیتے تھے، اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہیے تھا کہ کوئی کافر،یہودی اور منافق زندہ نہیں رہ پاتا۔مگر ہمارے ماں با پ آپ پر قربان ہوں کہ آپ کی پوری زندگی ذاتی انتقام سے بالکل خالی ہے۔
یہ ہے وہ عظیم سیرت جو آسمان سے زیادہ بلند ہے۔جو صاحب خلق عظیم کی سیرت ہے۔اس سیرت جیسی نظیر انسان پیش نہیں کرسکتی۔ مگر بدقسمتی سے حضور کے چند وہ اقدامات جو معاندین اسلام کے خلاف کیے گئے ، ان کو لیتے ہیں اور بدقسمتی سے انھیں گستاخی رسول کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر کعب بن اشرف کا معاملہ لے لیجیے۔سوال یہ ہے کہ اس کو اگر گستاخی کے جرم میں قتل کیا گیا تو مدینہ میں باقی گستاخ کیا کم تھے،ان کو کیوں چھوڑ دیا گیا؟حقیقت یہ ہے کہ کعب کا اصل جرم یہ تھا کہ اس نے جنگ بدر کے بعد مکہ جاکر اہل مکہ کو جوش دلایا اور بدر کاانتقام لینے کے لیے مدینے پر حملے کے لیے تیار کیا۔یہ میثاق مدینہ کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ اس نے مدینے کے تمام رہنے والوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہ یقینی تھا کہ عین اس وقت جب کفار باہر سے حملے کریں گی، یہ شخص اندر سے مسلمانوں کے پیٹھ میں چھرا گھونپے گا۔اس لیے مدینہ کو بچانے کے لیے یہ لازمی تھا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔
یہ ہے اس واقعے کی اصل حقیقت۔گستاخی رسول اس کا اصل جرم نہیں تھا، ورنہ جیسا کہ عرض کیا کہ مدینہ میں اور بھی بہت گستاخ تھے۔ حضور نے ان کو قتل نہیں کرایا تو اس میں کیا خاص بات تھی کہ آسمان سے بلند ہستی ایک گھٹیا شخص کی باتوں کا اثر لے کر اسے قتل کرادیتی۔
یہی معاملہ ان چند لوگوں کا ہے جن کو فتح مکہ کے وقت قتل کرنے کا حکم دیا گیاتھا۔لوگ یہ تو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے قتل کا حکم دیاگیاتھا۔ یہ نہیں بتاتے یا شاید جانتے ہی نہیں کہ ان میں سے بیشتر کوسرکار نے اپنے دامن رحمت میں لے کر معاف کردیا گیا تھا۔جن کو قتل کیا گیا ، ان کا اصل جرم اسلام سے عناد اور سرکشی تھی۔
ہم نے تو ان ایک دو و اقعات کو لیا ہے جو عام طو رپر پیش کیے جاتے ہیں،ورنہ اہل علم نے اس طرح کے تمام واقعات کے لے کر روایات کا ضعف اورواقعات کا درست موقع محل سب بیان کردیا ہے۔
اس تفصیل کا مقصد صرف اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ توہین رسالت کا قانون بنانا تو ضرور بنائیں،اس پر منصفانہ عمل کریں، اس میں قتل کی سزا دینی ہے تو وہ بھی فساد فی الارض کے تحت دے دیں، مگر خدارا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کواس کا ماخذنہ بنائیں ۔حضور نے نہ ایسا کوئی قانون دیا نہ اپنی ذات کے لیے لوگوں سے کبھی انتقام لیا۔قانون کی بنیاد فساد فی الارض کا خاتمہ ہونا چاہیے۔کیونکہ گستاخی رسول سے مسلمانوں کو تکلیف ہونا ایک فطری چیزہے۔ اس سے زمین میں فسا د پھیل سکتا ہے۔ اس لیے یہ قانون ہونا چاہیے۔
لیکن جس وقت سیرت طیبہ کے بعض واقعات کو سمجھے بغیر اس قانون کے حق میں نقل کیا جاتا ہے تو ہمیں شاید اندازہ نہیں ہوتا ، مگر بالواسطہ طور پر ہم حضور کی شان اقدس کو کم کررہے ہوتے ہیں۔ اس ہستی کے بارے میں جس کے متعلق ہماری ماں عائشہ رضی اللہ عنھا کی گواہی موجود ہے کہ کبھی ذاتی انتقام نہیں لیا، ہم یہ تاثر دیتے ہیں کہ آپ اپنی ذات کے لیے معاذ اللہ انتقام لیا کرتے تھے۔
یہی وہ نکتہ ہے جس کا واضح رہنا ضروری ہے۔ حضور کی شان اس سے بلند ہے کہ آپ ذاتی انتقام لیں۔ آپ نے کبھی یہ نہیں کیا۔ پوری قرآن اور سیرت کا پورا ذخیرہ اسی کا گواہ ہے۔آپ صاحب خلق عظیم ہیں۔ آپ کی شان ورفعنالک ذکر ہے۔ آپ صا حب الکوثر اور حامل مقام محمود ہیں۔ ایسے سورج کی طرف جو بد نصیب تھوک اڑائے گا وہ اس کے منہ پر آکر گرے گا۔ یہ آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بلند ہے کہ کسی ایسی پست چیز کی طرف توجہ دے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔