جنرل راحیل شریف خلیجی پاکستانیوں کے مسیحا بن سکیں گے

پانامہ کا فیصلہ آنے سے پہلے یہ شگوفے چھوڑے جا رہے تھے کہ دیکھیں اب کی بار سعودیہ کا طیارہ ہی میاں نواز شریف کو لینے آتاہے یا قطر کا ؟ لیکن اسکے برعکس میاں نواز شریف تو نہیں البتہ ایک اور شریف کے نام یہ قرعہ نکلا ہے لیکن نہایت عزت و احترام کے ساتھ یعنی سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سعودیہ نے طیارہ بھیج کر انکے اہل خانہ سمیت سعودیہ بلالیا ہے۔سیاست کے فلسفی اس بات پر حیران ہیں اور کوئی منطق تلاش کرنے کے لئے مغز ماررہے ہیں کہ عین اس وقت جب کسی ایک شریف کو دیار وطن جانا تھا اور انکی پیش گوئیوں کا اشارہ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب واضح تھا تو آرمی ہاؤس کے سابق مکین کے نام یہ قرعہ کیوں نکلا؟ حالانکہ انہیں تو سعودیہ میں اسلامی ممالک کی فوج The Islamic Military Allianceکی کمان کرنے کا اِذن پہلے سے مل چکا تھا اور ڈیل طے ہوچکی تھی لیکن عین پانامہ کا فیصلہ آتے ہی انہیں فیملی سمیت جانے کا موقع ملا تو کیا اس میں کوئی مصلحت تھی۔اگر تھی تو کیا؟ کیا وہ این اوسی کا انتظار کررہے تھے ،اُس این اوسی کا جو کسی سیاسی گیم سے مشروط تھا؟ ۔اگر یہ کسی سیاسی گیم سے مشروط تھا تو وہ گیم کیا ہوسکتی تھی؟ اب یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ پانامہ کا فیصلہ آنے تک انہیں بطور’’شخصی ضمانت‘‘ پاکستان میں ہی رہنا تھا ۔ویسے یہ بات بھی کچھ الجھی ہوئی اور محض قیاس پر مبنی ہوسکتی ہے کہ جنرل راحیل شریف پانامہ کیس میں وزیر اعظم کو نااہلی سے بچانے کے لئے ان کے اور فوج کے مابین مصالحانہ کردار ادا کررہے تھے ۔جس میں وہ سرخ رو ہوئے اور انہیں سعودیہ میں ملٹری اتحادجوائن کرنے کی آزادی اور اجازت مل گئی۔یہ اجازت آئین کی رو سے سول حکومت نے جاری کرنی تھی ،فوج کی تو تمنا تھی کہ جنرل راحیل شریف اسلامی فوج کے کمانڈر انچیف بن جائیں تا کہ فوج کو عالمی کرداراور اہمیت کو مزید دوام اور قوت حاصل ہوسکے لیکن سول حکومت کے جغادری فوج کی شرائط یا انکی خواہشات پر سر تسلیم خم کرنے سے پہلے اپنی گزارشات بھی منظور کرانے میں مشاق تھے ،سو کامیاب ہوئے۔میں نہیں کہتا نہ قیاس کے تحت گمان کرتا ہوں کہ جنرل راحیل شریف کی پاکستان سے سعودیہ روانگی پانامہ فیصلہ سے مشروط تھی لیکن سوشل میڈیا کے انقلابی اور شاہ سرخے کچھ ایسی تاویلیں پیش کرنے سے باز نہیں آرہے ۔وہ جان کی امان طلب کئے بغیر اپنی آراء اور دلائل سے قوم کا ذہن پراگندہ کررہے ہیں ۔ویسے سوشل میڈیا کی کارستانیوں سے سیاست اور اقتدارکی غلام گردشوں میں پنپنے والی کہانیوں میں کوئی نہ کوئی تال میل سامنے آہی جاتا ہے اور ذہن چوکس ہوکر اس پہلو پر غور کرنے لگتا ہے کہ جو ہورہا ہے ،کیوں ہورہا ہے ۔اس میں کچھ لو اور کچھ دو کا کتنا عمل دخل ہے۔کار سیاست میں کوئی سانحہ اور واقعہ اچانک نہیں ہوتا،ٹائمنگ بہت اہمیت رکھتی ہے۔
ویسے دیکھا جائے تو جنرل راحیل شریف کی دیار حرم میں اسلامی فوج کی کمان سنبھالنا اُمت مسملہ اور پاکستان کے لئے فخر کی بات ہے۔ان حالات میں جبکہ سعودیہ و دیگر خلیجی ریاستوں میں مقیم پاکستانیوں پر یہ زمین تنگ ہورہی ہے ،ایسے میں انہیں اپنا شیردل جنرل اپنا مسیحا کی صورت نظر آنے لگاہے ۔خلیجی ریاستوں میں لاکھوں پاکستانی موجود ہیں لیکن اب ان پر برا وقت آچکا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ امارات میں 880,000،سعودیہ میں 1,100,000، کویت میں 100,000، عمان میں 85,000 ،قطر میں 52,000،بحرین میں 45,000 ۔ پاکستانی مقیم ہیں لیکن عام رائے یہ ہے کہ عرب ممالک میں پینتیس لاکھ کے قریب پاکستانی محنت مزدوری کررہے ہیں۔
سعودیہ میں ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے ،اس کا اندازہ کریں کہ سعودی عرب میں انیس ہزار پاکستانی جیلوں میں قید ہیں البتہ زیادہ ترمسائل خلیجی ممالک میں درپیش ہیں۔ان کے لئے جو نیا کفیل سسٹم لاگو کیا جارہا ہے ،یہ خاصا پریشان کن مسئلہ ہے۔ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارت خانے کا عملہ بھی تعاون نہیں کر تا جس سے دلبرداشتہ ہو کر وہسعودی عرب کے مختلف شہروں میں سڑکوں اور پلوں کے نیچے بیٹھے ہیں اور وہ خود سعودی پولیس کے حکام کو کہتے ہیں کہ وہ انہیں گرفتار کر کے لے جائیں اور وہاں سے پاکستان بھیجنے کے لئے انتظامات کریں۔ وطن واپس جانے والے پاکستانی علی الصبح ہی پاکستانی سفارت خانے کے باہر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان میں سے اکثریت ناکام واپس لوٹتی ہے۔ جن پاکستانیوں نے سعودی عرب معافی سے فائدہ نہیں اٹھایا اور وہ ابھی تک سعودی عرب میں ہی ہیں، ان کا معاملہ بھی سعودی حکام کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔
سعودیہ اور خلیجی ملکوں مین پاکستانیوں پر یہ برق اچانک نہیں گررہی۔اسکی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے ان ملکوں میں اپنا سکّہ جمارکھا ہے اور پاکستان کی ناقص خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے خلیجی ملکوں میں پاکستان کے قدم کافی حد تک کمزور ہوچکے ہیں ۔گزشتہ ایک سال کے دوران لاکھوں پاکستانیوں کو ان ریاستوں سے ڈی پورٹ بھی کیا گیااور انہیں محصور کرکے کسی قسم کی قانونی اعانت بھی فراہم نہیں کی جارہی۔ان پُرآشوب حالات میں جنرل راحیل شریف کی موجودگی انہیں تقویت اور امید دینے کا باعث بن سکتی ہے کہ وہ سعودی حکومت اور دیگر ریاستوں میں مشکلات کا شکار پاکستانیوں کی مدد کریں گے ۔تاہم اس بات پر انحصار نہیں کیا جاسکتا کہ جنرل راحیل شریف دیار غیر میں مشکلات میں گھرے ہوئے پاکستانیوں کی بھرپور مدد کریں گے۔یہ کام تو وزارت خارجہ اور سمندرپار وزارت کا ہے ۔جب تک یہ دونوں وزارتیں خلیجی ملکوں میں پاکستانیوں کے تحفظ کی کوشش نہیں کریں گیں ،تارکین وطن پر عرب ریاستوں کا وبال ختم نہیں ہوگا۔جنرل راحیل شریف جس اسلامک ملٹری الائنس کی سربراہی کریں گا اس کا بنیادی فرض تارکین وطن کی کفالت یا انہیں قانونی رہائشیں فراہم کرنا نہیں بلکہ اس اتحاد کے تحت انہیں دو اہم نکات پر توجہ دینی ہوگی اور وہ یہ ہیں۔
* دہشت گردی کے مذہب و مسلک سے قطع نظر اسلامی ممالک میں موجود جملہ دہشت گرد جماعتوں سے مزاحمت اور ان کے خلاف جنگ۔
*فکری، نظریاتی اور ابلاغی سطح پر دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ۔
گویا انکی اصل ڈیوٹی دہشت گردی سے جنگ اور حرمین شریفین کو دہشت گردی کے امکانات سے پاک کرنا ہے۔اس جنگ میں وہ کئی طرح کے آپریشن کرسکتے ہیں جو تارکین وطن کے خلاف بھی جاسکتے ہیں ۔لہذا اس سے قبل کہ اسلامک ملٹری اتحاد کے کمانڈر انچیف اپنے اصل فرائض کی ادائیگی شروع کردیں ،حکومت پاکستان کو عرب ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کے روزگار اور انکے تحفظ کا فوری بندوبست کرنا چاہئے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔