پانی کے بغیرایٹمی پاکستان کی بقا

پانی کرہ ارض پر بسنے والوں کے لیے قدرت الٰہی کی انمول ترین نعمتوں میں سے ایک ایسی نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ یوں تو اس خطہ عرض کا تین چوتھائی حصہ پانی پر مشتمل ہے، لیکن صاف پانی کے بے جا اصراف کی وجہ سے تمام لوگوں تک معیاری پانی کا پہنچنا ایک چیلنج بن چکا ہے، اور بہت سے لوگ صاف پانی کی عظیم نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ہسپتالوں میں غیر معیاری و گندے پانی کے استعمال کے سبب بیمار ہونے والے مریضوں کی کمی نہیں۔ پانی کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 22مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن ’’ورلڈ واٹر ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا آغاز 1992 ء میں اقوام متحدہ کی ماحول اور ترقی کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کی سفارش پر ہوا تھا۔ اس دن کے منانے کا مقصد پانی کی انسانی زندگی وصحت کیلئے اہمیت اور افادیت کے بارے میں آگاہی کے ساتھ ساتھ پانی کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب اور اسے محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دینا ہے، اسی مناسبت سے سماجی و فلاحی تنظیموں کے زیراہتمام مختلف سمینارز اور آگاہی واک کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
پانی کی مختلف صورتیں ہیں ، باران رحمت کی صورت میں بادلوں کے برسنے سے جہاں زمینوں کو سیراب کرتا وہیں انسانی پیاس بجھانے کے بھی کام آتا ہے۔ اسی طرح سرد علاقوں میں جب گرمی کی شدت سے گلیشیئر پگھلتے ہیں اور وہ پانی بلندی سے میدانی علاقوں کی طرف بہتا آتا ہے تو اس سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے، قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ہم نے ہر چیز پانی سے پیدا کی ہے‘‘ ۔ بہترین پانی بے رنگ بے بوہوتا ہے، پانی کی مختلف شکلوں کو مختلف نام دیئے جاتے ہیں ، پانی اوپر اٹھے تو بھاپ ، نیچے گرے تو بارش، جم کر گرے تو اولا، گر کر جمے تو برف، پھول پر گرے تو شبنم ، پھول سے نکلے تو عرق، آنکھ سے نکلے تو آنسو ، بہے تو دریا ، قدم اسماعیل علیہ السلام سے نکلے تو زم زم ، اور رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی انگشت مبارک سے نکلے تو آب کوثر کہلاتا ہے۔ پانی نہ صرف انسانی حیات بلکہ جانور ، پودے ،پھل پھول، فصلیں، اور زمینوں کے لئے بھی انتہائی ضروری ہے، پانی کی بدولت جسم کے ان گنت نظام کام کرتے ہیں، غذا کے بغیر انسان کئی ہفتے زندہ رہ سکتا ہے، مگر پانی کے بغیر زیادہ عرصے زندہ نہیں رہا جا سکتا۔ ماہرین صحت کے مطابق ایک صحت مند انسان کو روزانہ آٹھ سے د س گلاس پانی ضرور پینا چاہیے ۔ پانی کاشتکاری کے لیے بھی بنیادکی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کی عدم توجہی کے باعث ملک میں بسنے والوں کو کہیں پینے کا پانی تک میسر نہیں اور کہیں قوم کو سیلاب کا دکھ جھیلنا پڑتاہے۔ ماضی میں پانی کی فراوانی کی وجہ سے ہی پانچ دریاؤں کی دھرتی پنجاب کو خصوصی اہمیت حاصل تھی، مگر بد قسمتی سے دریائے راوی ، ستلج اوربیاس تو بھارت نے پہلے خشک کردیئے ، اور اب چناب جہلم اور سندھ کے پانی کے درپے ہے جس کا اعلان بھارتی وزیراعظم کئی بار کرچکے ہیں کہ ’’پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔‘‘
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پنجاب کا 75 فیصد علاقہ دریائی پانی میسر نہ ہونے کی بنا پر اپنی ذرخیزی تیزی سے کھو رہا ہے جبکہ پاکستانی حکمران کبھی امریکہ کی طرف تو کبھی ورلڈ بنک کی طرف دیکھتے نظر آتے ہیں، جبکہ بھارت دریائے چناب ، جہلم ، نیلم اور سندھ پر بھی ڈیموں کی تعمیر شروع کرچکا ہے۔
جیسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے پانی کی اہمیت بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے یہی جہ ہے کہ دنیا بھر میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے اقدامات بھی ہوتے چلے آ رہے ہیں، مگر کالا باغ ڈیم جس سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی جڑی ہوئی ہے ، بدقسمتی سے اس منصوبے کو عاقبت نااندیشی اور موہوم خدشات کے باعث متنازعہ اور پیچیدہ بنا دیا گیاہے۔ پانی کے محاذ پر ہماری لاپروائی اور خاموشی مجرمانہ حد تک پہنچ چکی ہے۔اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ صرف پنجاب ہی نہیں صوبہ سندھ کا 50 ہزار مربع کلومیٹر علاقہ خشک سالی کا شکار ہوچکا ہے۔ مون سون کے موسم میں جب بارشیں ہوتی ہیں تو وہ سیلاب کی شکل اختیار کرکے کھڑی فصلوں کو بہاکر لے جاتے ہیں، موسم برسات میں لاکھوں کیوسک پانی سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے جس کی پاکستانی روپوں میں قیمت ایک کھرب سے زائد بنتی ہے۔ دریاستلج جس میں پانی صرف موسم برسات میں آتا ہے اس دریا کے صحرائی علاقوں میں اگر تین چار ڈیم تعمیر کرلیے جائیں توبرسات کا پانی ان ڈیموں میں محفوظ کرکے اس پانی کو ٹریٹ منٹ پلانٹ کے ذریعے مقامی آبادی کے لیے پینے کے قابل بنایاجاسکتا ہے۔ اعداد و شمارکے مطابق صرف دو سالوں میں پانی کی قلت سے سب سے زیادہ تباہی بلوچستان میں ہوئی جبکہ سندھ اور پنجاب کانمبر بعد میں آتا ہے۔ بالحاظ مجموعی اب تک پاکستان کے 58 اضلاع میں قدرتی آفات اور پانی کی شدید قلت کے باعث 30لاکھ انسان متاثر اور 25 لاکھ مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کی جن سیاست دانوں نے مخالفت کی تھی اب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ سب پاکستان کے بدترین دشمن اور بھارت کے مفادات کے لیے کام کررہے تھے، اس طرح پانی کی جنگ بھارت اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کے اندر لڑ تا رہا ہے۔ بھارت کے بہی خواہ نہیں چاہتے کہ پاکستان میں کوئی بڑا ڈیم بنے ، اس مقصد کیلئے انڈین لابی کالا باغ ڈیم کے خلاف ہر حربہ استعمال کر تی رہی ہے۔ ملک میں بڑے آبی ذخائر کی ضرورت و اہمیت کے پیش نظر موجودہ حکو مت کو کالا باغ ڈیم سمیت اس جیسے درجنوں ڈیم بنانے کا آغاز کردینا چاہیے۔ بطور خاص ان علاقوں میں جہاں موسم برسات میں شدید ترین سیلاب آتا ہے اور بستیاں اور کھیتوں میں کھڑی فصلیں برباد ہوجاتی ہیں۔ان علاقوں میں سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بہت ضروری ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔