امارات کے وزیر شیخ حماد کی 9گاڑیوں کو پاکستان میں کسٹم ڈیوٹی‘ سیلز ٹیکس سے استثنیٰ

بزنس

لاہور (ویب ڈیسک) یو اے ای کے وزیر فنانس و انڈسٹری و نائب حکمران آف دبئی شیخ حماد بن راشد المخدوم کی 9 گاڑیوں کو پاکستان میں کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے مستشنی قرار دے دیا گیا ہے۔ یو اے ای کے سفارت خانہ کی جانب سے وزارت خارجہ کو لیٹر میں کہا گیا تھا کہ شیخ حماد بن راشد المخدوم کی 9 گاڑیاں پاکستان آئی ہیں ان کو ٹیکسوں کی چھوٹ دی جائے۔ دبئی کے حکمران خاندان کی سفارش پر وزارت خارجہ نے وزیر اعظم سے منظوری کے بعد یو ای کے وزیر کی گاڑیوں کو کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی معافی کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کی جانب سے پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی معافی کے لئے حکومت پنجاب نے ان گاڑیوں کی منظوری دے دی ہے۔ یو ای اے کے وزیر خزانہ کی 9 لگژری گاڑیاں جو پاکستان لائی گئی ہیں ان پر پاکستانی قانون کے مطابق متعدد وفاقی اور صوبائی ٹیکس عائد کئے جاتے ہیں لیکن وفاقی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق ایک حکومتی شخصیت کے کہنے پر یہ ٹیکس معاف کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزارت خارجہ کے ذرائع سے پوچھا گیا کہ اگر پاکستان میں عرب حکمران فیملیوں کے ٹیکس معاف ہونگے تو اس کا پاکستانیوں کو اس علاقے میں کیا فائدہ ہو گا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں جو کہا گیا تھا وہ کر دیا ہے ۔ ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق ان پر وزارت خزانہ سے دباو¿ تھا اس لئے ٹیکس معاف کیا گیا ہے۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق ان کو حکومت پنجاب کی طرف سے ٹیکس معافی کے لئے کہا گیا تھا جس پر ہم نے ایک سمری حکومت پنجاب کو بجھوائی تھی جب ان سے پوچھا گیا کہ اس طرح کی سہولت کسی پاکستانی خیراتی ادارے کو بھی میسر ہے کہ وہ بیرون ملک سے کوئی لگژری گاڑیاں منگوائے تو انہوں نے کہا کہ اس میں ہم نے جان بچانے والی ادویات، اہم ویکسن اور یو این او کو قانون کے مطابق جو سہولت حاصل ہے وہ دی ہے۔ تاہم جو سمری بجھوائی گئی تھی اس کے مطابق کہا گیا تھا کہ یو اے ای سفارت خانے کی طرف سے پنجاب حکومت کو خط موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شیخ حماد بن راشد کی 9 گاڑیاں آئی ہیں چونکہ پنجاب حکومت نے پنجاب انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ایکٹ 2015 میں نافذ کیا تھا اور یہ 0.90 فیصد کل مالیت پر وصول کیا جاتا ہے۔ پہلے بھی متعدد اداروں کی طرف سے اس ٹیکس کی وصولی کی چھوٹ کی درخواست کی گئی تھی لیکن کسی کو یہ چھوٹ نہیں دی گئی۔

اس لئے ڈپلومیٹک حساسیت کی وجہ سے اس ایکٹ کی سیکشن 6 کی ذیلی شق 3 کے تحت ٹیکس میں چھوٹ کی منظوری دی جائے۔ جس کی منظوری دے دی گئی ہے تاہم اس ٹیکس کی چھوٹ کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی پارٹس پر بھی چھوٹ دے دی گئی ہے۔