یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں!

آج کل ایک عام پاکستانی عجیب و غریب خلفشار کا شکار ہے....سوادِ اعظم کی کمر مہنگائی نے توڑ رکھی ہے۔ جو طبقہ کھاتا پیتا نظر آتا ہے، جدید ترین ماڈلوں کی گاڑیوں پر سوار پھرتا ہے اور جن کی خواتینِ خانہ مہنگے ترین ملبوسات میں ملبوس بازاروں کی نمائش گاہوں میں نظر آتی ہیں، اس طبقے میں کرپشن کو کرپشن تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔اس کے نزدیک یہ ان کی ضرورت بن چکی ہے۔
الیکٹرانک میڈیا کی طرف نظر اٹھائیں تو نیوز ریڈر خواتین سے لے کر اینکر خواتین تک کا میک اپ دیدنی اور ان کی گرم گفتاری شنیدنی ہوتی ہے۔اگر آپ نے کسی خاتون اینکر کو ایک ہی لباسِ فاخرہ کہیں دوسری بار پہنا دیکھا ہو تو یاد کیجئے،آپ کا حافظہ جواب دیتا معلوم ہوگا۔چلو میک اپ اور فیشن، خواتین کے ساتھ لازم و ملزوم احتیاجات ہی سہی، لیکن کیا یہ احتیاج بھی لازمی اور لابدی ہے کہ اتنے مہنگے لباس کو صرف ایک بار ہی زیب تن کیا جائے؟کئی بار سوچتا ہوں کہ سال بھر کے 365قیمتی جوڑے وہ کہاں پھینکتی ہیں؟ کس غریب اور ضرورت مند خاتون کو خیرات میں دیتی ہیں اور وہ غریب خاتون اتنا گرانقدر سوٹ پہن کر اپنے شوہر سے اس سوٹ کے ”شایانِ شان“ دوسری ضرورتوں کے تقاضے کیوں نہیں کرتی اور اگر کرتی ہے تو وہ غریب ان کو پورا کہاں سے کرتا ہے؟
دوسری طرف اسی میڈیا پر یہ خبر بھی آتی ہے کہ فلاں خاتون نے اپنے دو بچوںکا گلا گھونٹ دیا اور پھر خودکشی کرلی ....اس قسم کی خبریں اب تو سامعین و ناظرین کے لئے نئی نہیں رہیں۔ایک عرصے سے ایسی خبریں ٹی وی سکرینوں پر فلیشن کی جارہی ہیں۔مشرقی معاشرے میں ماں کا کردار اور اس کی سائیکی کا ایک نقش ہے جو مغربی معاشرے کی ماﺅں کے نقش سے یکسر مختلف ہے۔کئی کاروں کی عقبی ونڈ سکرین پر جو یہ جملہ لکھا ہوتا ہے کہ ”یہ سب میری ماں کی دعا ہے“ تو کیا ہماری وہ ماں اب تبدیل ہو گئی ہے؟.... کیا اس کی سائیکی بدل گئی ہے؟.... یا میڈیا جو ایسی خبروں کو چلاتا ہے ،اس کو ماں کی عظمت کا شعور نہیں رہا؟
وہ ماں جو اپنے بچے کو اڑھائی برس تک اپنا سفید خون پلاتی رہی ،اس کو سینے سے چمٹا کے سوتی رہی، اس کا بول و براز صاف کرتی رہی، خود گیلے بستر پر سوتی رہی اور بچے کو خشک بستر پر لٹاتی رہی اور جب تک اس کا پیٹ نہیں بھر لیتی تھی اپنے منہ میں نوالہ ڈالنا حرام سمجھتی تھی،وہ ماں اپنے اس بچے (یا بچی) کو اپنے ہاتھوں سے زہر کیسے پلا سکتی ہے ، اس پر ریوالور کیسے تان سکتی ہے، اس کو نہر میں دھکا کیسے دے سکتی ہے اور اس کے گلے میں پھندا ڈالنے کے منظر کا تماشا کیسے کر سکتی ہے؟.... اور بعد میں خود کیسے زہر پھانک لیتی ہے، دریا یا نہر میں کود جاتی ہے اور چھت سے لٹک جاتی ہے؟.... سچ پوچھیئے تو یہ سب کچھ میرے نزدیک ناقابلِ تصور اور ناقابلِ یقین معمہ ہے!

ویسے تو اس قسم کے کیسوں (Cases)کی پولیس ہی تفتیش کر سکتی ہے، مگر اکثر و بیشتر اس تفتیش کے نتائج ہمارے میڈیا پر فلیش نہیں کئے جاتے.... کئی بار میرے دل میں یہ خیال آیا ہے کہ جس ماں نے اپنے دو تین بچوں کو موت کی نیند سلا کر خودکشی کرلی تھی، اس کی خبر میڈیا کو کیسے ہوگئی؟ ....کسی ٹی وی چینل کی اوبی وین (OB Van) فوراً کیسے جائے حادثہ پر پہنچ گئی؟.... چینل کے نمائندہ خصوصی کو کس نے اطلاع دی کہ یہ حادثہ فلاں جگہ رونما ہوا ہے؟.... اگر اس اولین اطلاع دہندہ کا سراغ لگالیا جائے تو حادثے کی کئی گتھیاں سلجھ سکتی ہیں.... ان اطلاع دہندگان کے موبائل نمبر تو متعلقہ نمائندہ خصوصی کے موبائل میں آ گئے ہوں گے۔ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کس طرح بچشمِ خود ایک ماں کو اپنے بچوں کو موت کی نیند سلاتے دیکھا اور پھر خودکشی کرلی؟.... وہ جب یہ جانکاہ منظر دیکھ رہے تھے تو ان کی انسانی جبلت کہاں چلی گئی تھی؟بسمل بچوں نے آخر چیخ و پکار تو کی ہوگی، اس کو سن کر کسی اطلاع دہندہ کا دل کیوں نہ پسیجا اور ضمیر کیوں نہ جاگا؟ وہ بھاگ کر اس عورت کو پکڑ توسکتا تھا، اسے نہر میں چھلانگ لگانے سے روک توسکتا تھا اور وہ اگر کسی نہر میں کود ہی گئی تھی تو وہ بھی اس کے پیچھے چھلانگ لگا کر اس کو بچانے کی کوشش توکرسکتا تھا۔ اگر ایسا ہو جاتا اور وہ عورت بچا لی جاتی تو بچانے والا ہیرو بن جاتا اور عورت اپنی رام کہانی سنا کر وہ تشہیر حاصل کر لیتی جو اس جیسی دوسری ماﺅں کو ڈوبنے سے بچا سکتی تھی۔سول سوسائٹی کی وہ تنظیمیں جو اس کام پر مامور نظر آتی ہیں اور وہ NGOs جو بیرونی ممالک سے لاکھوں ڈالر سالانہ وصول کرکے اس قسم کے حادثات کا پرچار کرتی ہیں اور اپنے پاکستان کو عالمی برادری میں رسوا کرنے کا سبب بنتی ہیں، وہ کہاں سوئی ہوئی ہوتی ہیں؟....میں دوبارہ کہنا چاہوں گا کہ یہ سب کچھ مجھے ناقابلِ یقین اور ناقابلِ اعتبار لگتا ہے!
لاہور اور دوسرے بڑے شہروں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہر ٹریفک سگنل پر دوچار نو عمر بھکاری لڑکیاں اپنے بچوں کو گود میں اٹھائے ،کار میں بیٹھے متمول لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتی نظر آتی ہیں۔لوگ ان کے معصوم بچوں پر ترس کھاکر کچھ نہ کچھ دے جاتے ہیں۔مَیں نے کئی بار ان ماﺅں کو سرِراہ کسی الگ تھلگ جگہ پر بیٹھے اپنے بچے/بچی کو کچھ نہ کچھ کھلاتے پلاتے بھی دیکھا ہے۔اس کا ہاتھ بچے کے منہ کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور نگاہوں میں ممتا کی وہ شیفتگی جھلک رہی ہوتی ہے جو طبقہ ءامراءکی ماﺅں میں کم کم دیکھنے کو ملتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ ماں تو لوگوں سے ایک ایک پیسہ مانگ کر بھی اپنے بچوں کو پالتی ہے اور اس کی آنکھوں میں معصوم مسکراہٹ کے ڈورے دیکھ کر ایک ملکوتی مسرت سے ہمکنار ہو جاتی ہے۔یہی ماں اگرکسی گاﺅں میں اپنے شوہر یا سسرال والوں سے تنگ آکر کوئی انتہائی اقدام کرنے پر مجبور بھی ہوتی ہے تو یہ ستم خود اپنے اوپر ڈھاتی ہوگی، اپنے لختِ جگر پر نہیں....
یہ جو آئے روز میڈیا پر اس قسم کی ”سنگدل اور لاچار“ ماﺅں کے افسانے سنائے اور دکھائے جاتے ہیں، ان کی تہہ میں اترنا چاہیے....ہماری پولیس، سکاٹ لینڈ یارڈ والی پولیس نہ سہی پھر بھی سارے ہی اہل پولیس ہماری طرح، اپنی اپنی ماﺅں کی آغوش میں پل کر جوان ہوئے ہیں، ان کو جب اس قسم کے حادثات کی تحقیقات پر مامور کیا جاتا ہے تو ان کو اپنی ماﺅں کی سائیکی کو پہلے مدنظر رکھنا چاہیے اور رپورٹ کئے گئے واقعات و شواہد کو بعد میں سننا اور دیکھنا چاہیے۔
ویسے تو مغربی دنیا میں اس قسم کے کیس رپورٹ ہوتے رہتے ہیں....کئی کیس یاد آ رہے ہیں، لیکن کالم کا اختصار مانع ہے۔مشرق میں ماں کا رول اور اس کا تصور، کچھ اور طرح کا ہے۔مغرب کی مائیں پہلے عورت ہوتی ہیں اور بعد میں مائیں ،لیکن مشرق کی مائیں پہلے بھی مائیں ہوتی ہیں اور بعد میں ،مرتے دم تک ،بھی مائیں ہی رہتی ہیں!
عورت پر ظلم و ستم ڈھانے کے واقعات بھی گزشتہ کئی برس سے روز افزوں ہیں۔میڈیا والوں کا دعویٰ ہے کہ عورت ہر دور میں ”مظلوم“ رہی ہے! لیکن یہ دور چونکہ آزاد میڈیا کا دور ہے، اس لئے یہ مظالم اب واشگاف ہو کر پبلک کے سامنے آ رہے ہیں۔آپ نے یہ بھی دیکھا اور سنا ہوگا کہ حالیہ ایام میں Rapesکے بہت سے کیس رپورٹ کئے جا رہے ہیں۔
ریپ کا سب سے بھیانک واقعہ کچھ ماہ پہلے بھارت میں نئی دہلی کے قریب ایک بس میں ہوا تھا، جس کی تفصیل سے اب ساری دنیا واقف ہو چکی ہے۔ اس کے بعد ممبئی اور بنگلور اور بھارت کے دوسرے بڑے بڑے شہروں میں بھی ”دھڑا دھڑ“ اس قسم کے کیس رپورٹ ہونے لگے۔ بھارت کی ”دیکھا دیکھی“ ہمارے پاکستان میں بھی یہی سنسنی پھیلا دی گئی۔میڈیا کو تو ایسی نیوز خدا دے۔نیوز بریکوں کا تانتا بندھ گیا۔ریپ کی تفصیلات، مظلوم لڑکی کی تصاویر، اس کے لواحقین کی کسمپرسی اور آہ و بکا کی ایسی ایسی منظر کشی ہونے لگی کہ دیکھ اور سن کر روح کانپ کانپ جائے!
پھر ایک دن یہ ہوا کہ ایک بھارتی خاتون نے جس کا سیاسی اور سماجی قدکاٹھ کافی بلند قامت تھا، ایک دھماکہ خیز بیان دے دیا۔اس نے کہا: ”ان پے بہ پے ریپ کیسوں میں خود ہماری خواتین کا قصور ہے“۔
جب اس سے بظاہر اس ناقابل یقین انکشاف کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا :” وجہ ایک نہیں بہت سی وجوہات ہیں.... سب سے پہلے تو خواتین کا لباس ہے جو اتنا اشتعال انگیز ہو چکا ہے کہ مردوں کی نگاہیں نہ چاہتے ہوئے بھی حریص بن جانے پر مجبور ہو جاتی ہیں اور شائد ان خواتین کا مقصود بھی یہی ہوتا ہے۔اس کے بعد ان کی حد سے بڑھی ہوئی بے باکی اور بے پردگی ہے جس کو جدید اصطلاح میں (Boldness)کا نام دیا جاتا ہے.... یہ لڑکیاں نہ دن دیکھتی ہیں نہ رات.... جہاں دل چاہے اور جس کے ساتھ چاہے نکل کھڑی ہوتی ہیں ....تو اس میں مردوں کا کیا قصور؟“
یہاں مجھے غالب کا ایک شعر یاد آ رہا ہے جس میں صرف ایک لفظ کا تصرف کیا گیا ہے کہ ”شعر“ کی جگہ “حسن“ لکھ دیا ہے۔
ما نہ بودیم بدیں مرتبہ راضی غالب
”حسن“ خود خواہشِ آں کرد، کہ گردد فنِ ما
(اے غالب ہم تو اس مرتبہءبلند کے طلبگار نہ تھے۔ دراصل ”حسن“ نے خود چاہا تھا کہ ہمارا فن بن جائے!“۔
خواتین کے ساتھ بڑھتی ہوئی اس جنسی زیادتی کے واقعات میں موبائل فون کا بھی ایک بہت بڑا ہاتھ ہے۔وہ قدغن جو پہلے کسی نوجوان لڑکے یا لڑکی پر اس کے والدین یا سماج لگاتا تھا، اس کو توڑنے کے لئے یہ موبائل اب آگے آگے رہتا ہے۔ریپ کے علاوہ بھی خواتین کے قتل اور ان پر تشدد کے متعدد واقعات میں اس چھوٹے سے آلے نے ایک ایسے فلیتے (Detonator)کا روپ دھار لیاہے جو کسی بم کو چلانے کے لئے سلگایا جاتا ہے ۔ جب ایک بار اس میں ”آگ“ بھڑک اٹھے تو اس کا روکنا کسی کے بس میں نہیں رہتا!
میں کوئی سماجی کارکن نہیں نہ واعظ ہوں اور نہ مبلغ.... لیکن میرا خیال ہے اس سماجی رجحان (Trend)کو روکنا اب کسی کے بس میں نہیں رہا۔(میرا اشارہ خواتین کے ساتھ زیادتی کی طرف ہے، ماں کی ”سنگدلی“ کی طرف نہیں)
آج کا میڈیا ایک بڑا پاور فل سماجی ادارہ بن چکا ہے۔اس سے ماں کے اس بہیمانہ تصور کو زائل کرنے کے لئے مدد لینی چاہیے جو اسے قاتل اور جلاد کے روپ میں پیش کرتا ہے۔پولیس اور سماجی بہبود کے دوسرے ادارے مل کر اس جھوٹ اور اس سازش کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ایک بار اگر ایسا ہو جائے تو پھر کوئی ”ماں“ اپنے بچوں کو نہر میں دھکا نہیں دے گی، نہ سولی پر لٹکائے گی، نہ زہر کی گولیاں کھلائے گی اور نہ بندوق کے وار کرکے اپنے ہی نورِنظر کو خاک و خون میں تڑپانے کا ظالمانہ اقدام کرے گی.... یہ پول جب ایک بار کھل جائے گا تو معاشرے میں سکون کی لہر دوڑ جائے گی۔
Rapeجیسے جرائم کو روکنے میں خود عورت کا سب سے بڑا ہاتھ ہے.... گلاب کے پھول کی خوشبو اگر کسی بلبل کی رہنمائی نہ کرے تو وہ بلبل گلاب تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟
بوئے گل خود بہ چمن رہ نما شد ز نخست
ورنہ بلبل چہ خبر داشت کہ گلزار کجاست؟
میڈیا کو اس طرف بھی دھیان دینا ہوگا کہ اگر وہ ”ماں“ کے مظالم اور سنگدلی کا چرچا اسی طرح جاری رکھے گا کہ جس طرح چند ماہ سے جاری ہے تو اس سے مشرق کی ماﺅں کی سوچ بھی متاثر ہونے سے نہیں بچ سکے گی۔ہمارے مشرقی ادب میں وہ ضرب المثل تو عام ہے کہ جب بندریا کے پاﺅں جلتے ہیں تووہ اپنے بچے کو پاﺅں تلے دے کر خود کو بچاتی اور بچے کو مار دیتی ہے۔لیکن یہ محاورہ یا ضرب المثل میں نے آج تک کسی Animal Worldیا National Geographicچینل پر مجسم ہوتے نہیں دیکھی۔مجھے اس ضرب المثل کے سچ ہونے پر بھی یقین نہیں....آپ ذرا اپنے توسنِ تخیل کو مہمیز کیجئے....
ایسا ماحول کب اور کہاں پیدا ہو سکتا ہے کہ جب کسی بندریا کے پاﺅں جلنے لگیں....کیا بندر، ریگستانوں اور صحراﺅں کا جانور ہے یا جنگلوں کا؟ ....کیا کسی جنگل میں بھی کسی بندریا کے پاﺅں جلنے کا سماں پیدا ہو سکتا ہے؟.... اگر جنگل میں کہیں آگ بھی لگ جائے تو کیا بندر وہاں سے بھاگ نہیں سکتے؟....مجھے یقین ہے کہ سب سے پہلے وہ بندریا بھاگے گی جس کے پیٹ کے ساتھ اس کا بچہ لٹک رہا ہوگا!اس قسم کی بے سروپا کہاوتیں اور جھوٹی مثالیں اور بھی ہیں جن کو ہم نے ضرب الامثال بنا رکھاہے۔ہمیں اس بندریا والی ضرب المثل کو اب اردو ادب سے خارج کر دینا چاہیے کہ دنیا کی کسی اور زبان میں اس کی مترادف کوئی اور ضرب المثل نہیں ملتی۔
میں نے کالم کا آغاز، معاشرے میں پائی جانے والی دوعملی سے کیا تھا کہ ایک طرف چمکتی دمکتی کاریں ہیں اور دوسری طرف اینٹوں کے بھٹوں پر روتے بلکتے معصوم بچے ہیں جن کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا....ہمیں اللہ کریم نے بہت کچھ دیا ہوا ہے۔ہم انفرادی طور پر ایسا بھی کر سکتے ہیں کہ ہر روز کسی ایک بھوکے کو کھانا کھلا دیا کریں....کسی ”رُوڑی“ (Dust Bin)پر جا کر دیکھیں تو آپ کو ایسے بچے عام مل جائیں گے جو اس رُوڑی سے کھانے کی گلی سڑی چیزیں نکال کر پیٹ کی آگ بجھا رہے ہوں گے....آپ بھی اپنے ساتھ صرف ایک وقت کا کھانا کسی شاپر میں ڈال کر ایسے بچے /بچی کی تلاش کیجئے کہ :
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں، انسان کے انساں