خواب نہیں ،تعبیر کا وقت

0


                                                                                                    چند روز ہوئے ایک سیاسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے غیر جانبدار اور شفاف الیکشن کے بارے میں بحث کا اہتما م کیا گیا ،ہم بھی مدعو تھے ،لیکن ہمارے ساتھ ایک ایسا دوست بھی تھا جو کبھی بھرپور سیاسی ورکر تھا،پھر آمریت کی سختیوں سے دلبرداشتہ ہو کر گھر بیٹھ گیا ۔پروگرام ختم ہوا تو ہم دونوں دوست لاہور کے لکشمی چوک میں اچھی چائے کی تلاش میں جا بیٹھے۔چائے کی چسکیوں کے ساتھ ہمارا دوست آہستہ آہستہ بولنے لگا،وہ کہہ رہا تھا : ”جس ملک میں 21ویںصدی میں بھی پیدائش سے پہلے بیٹی کو ونی کر دیا جائے،جہاں پنچائتوں میں انسانوں کو زندہ جلا دیا جائے ، جہاں کاروباری طبقہ عوام کے کپڑے اتار لے،جہاں عدالتوں، کچہریوں میں دن دیہاڑے قتل و غارت ہو،جہاں زندگی کے ہر شعبے میں کرپشن ہو،رشوت حق سمجھ کر لی اور دی جاتی ہو،وہاں تم تبدیلی کے خواب دیکھ رہے ہو۔۔۔ہاہاہا۔“ہمارے دوست نے ہمیں چڑاتے ہوئے کہا،مگر ہم بھی چپ رہنے والے کہاں تھے ،دوست کی حقیقتوں سے بھر پورمثالوں کو ایک طرف پھینک کر بولے:”ارے یار! برائیاں کس معاشرے یا سماج میں نہیں ،غربت، جہالت، فسادات،دیرینہ دشمنیاں، پنچایتوں کے اچھے برے فیصلے، کرپشن،لوٹ مار،رشوت کا لین دین تو ہر سماج اور ہر ملک میں کسی نہ کسی سطح پر ہے، لیکن کیا اس کو جواز بنا کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ تبدیلی ممکن نہیں اور جمہوریت ثمر آور نہیں ؟“
بس ہمارا یہ کہنا تھا کہ دوست آگ بگولہ ہو گیااور نجانے کیا کچھ کہتا چلا گیا ۔”ارے بھائی! تو کن خوابوں میں رہتا ہے ،جہاں جب فوج نے چاہا اقتدار پر قبضہ کر لیا ہو،جہاں ذوالفقارعلی بھٹو جیسے جمہوری لیڈر کو دن دہاڑے سولی پر چڑھا دیا گیا ہو،جہاں ایک نسل کو جیلوں ،کوڑوں کی نذر کر دیا گیا ہو،جہاں اچھے ادب کے شائع ہونے پر پابندی ہو،جہاں جمہوری حکومتوں کے خلاف رات کے اندھیروں میں آپریشن ہوتے ہوں ،جہاں سیاسی کارکنوں کو شاہی قلعوںکے عقوبت خانوں میں غرق کر دیا گیا ہو،جہاں موت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہو،جہاں محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی مقبول لیڈر کو سڑک پر لاوارثوں کی طرح شہید کر دیا گیا ہو،جہاں جمہوریت کے پروان چڑھنے میں آج بھی روڑے اٹکائے جا رہے ہوں ،جہاں عمران خان جیسے نئے نویلے لیڈر یہ کہہ کر ووٹروں کی توہین کر رہے ہوں کہ مَیں اگر کھمبے کو بھی ٹکٹ دوں گا تو وہ جیت جائے گا،جہاں ایجنسیوں کے پروردہ لیڈر آج بھی دھڑلّے اور ڈھٹائی سے سیاست کر رہے ہوں ،جہاں مظلوم سیاستدانوں کو بے جرم و خطا لمبے عرصے کے لئے سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا ہو،جلاوطن کیا گیا ہو،جہاں ادارے اپنی حدود سے نکل کر دوسرے اداروں کو کام نہ کرنے دے رہے ہوں ،جہاں میڈیا کبھی اپنی آزادی کی بھیک مانگتا رہا ہو،پھر جمہوریتوں کو غلام بنانے کی کوشش میں اپنی ساکھ، عزت اور وقار تباہ کر بیٹھا ہو ،اس سماج ،معاشرے ، اداروں اور ایوانوں میں تم جمہوریت اور غیر جانبداری کی باتیں کر رہے ہو ،حیرت ہوتی ہے مجھے تم جیسے لکھاریوں اور صحافیوں پر ،جو کھلی آنکھوں سے ایسے خواب دیکھتے ہیں، جن کی تعبیر دور دور تک نہیں“۔
صاحبو! ہمارا دوست یہ سب کہتا،ہم پر لعن طعن کرتا اور بڑبڑاتا اٹھ کر چلا گیا ،لیکن اس کی باتوں سے ہمارے خوابوں کا شیرازہ نہ بکھر سکا ،ہم چپ چاپ اپنی نشست پر بیٹھے رہے اور سوچتے رہے کہ ہاں! ہم میں بہت برائیاں ہیں ،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے ہمیشہ برائیوں میں ہی رہنا ہے ،آگے نہیں بڑھنا۔یقینا ہم آگے بڑھ رہے ہیں ،ہمارے ہاں ایک خالص جمہوری حکومت نے اپنی مدت پوری کی ہے ،اب نئی جمہوری حکومت کام کر رہی ہے۔ ٹھیک ہے ہماری سیاست میں ایجنسیوں اور مختلف اداروں کا کردار رہا ہے ،لیکن کیا ہم یہی سوچتے مر جائیں کہ سیاسی و معاشرتی ترقی ہمارے بس کا روگ نہیں ؟بالکل بھی نہیں ،ایسی سوچ گناہ ہے اور ہم یہ گناہ نہیں کر سکتے ،ہم سوچتے رہے کہ بار بار کی آمریتوں کے بعد اب ہماری افواج نے تہیہ کر لیا ہے کہ سیاست ان کا کام نہیں ،لہٰذا اس میں کودنے کی ضرورت نہیں ۔
جہاں تک ایجنسیوں کا معاملہ ہے، وہ بھی ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ پرویزمشرف دور کے بعد ایجنسیوں کا کہیں کوئی کردار نہیں ،میموگیٹ کمیشن جیسے اکا دکا واقعات کے علاوہ ایسی کوئی مثال منظر عام پر نہیں جس سے اندازہ ہوسکے کہ ایجنسیاں کل کی طرح آج بھی متحرک ہیں ۔ایوان صدر سے لے کر اسمبلیوں تک کہیں کوئی ایسا مقام نہیں ،جہاں کسی سازش کی بو آتی ہو، بلکہ ہر طرف نئے الیکشن کے بعد جمہوریت کا دور دورہ ہے۔آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی ایجنسی یا اہم سرکاری عہدیدار کسی کے پیچھے نہیں۔وہ دن گئے جب یہاں سیاست کے نام پر دوسروں کی زبانیں بند کی جاتی تھیں۔آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ سب کو بولنے کی آزادی ہے،سب کو حق مانگنے کی چھوٹ ہے،عوام نے ووٹ کے حق سے اس بنجر زمین کا تھور ختم کر دیا ،جہاں جمہوریت کی فصل نہیں اُگتی تھی،آج ہر کسی کو بولنے کا حق حاصل ہے،ہمیں اپنے دوست علی افتخار جعفری کی نظم ”سکوت جرم ہے“یاد آرہی تھی،جس کی چند لائنیں پیشِ خدمت ہیں :
سدا بہار کچھ تو بول۔۔۔زمیں پہ تھور جم گیا۔۔۔دلوں پہ برف جم گئی
سدا بہار !چشم نم کا حوصلہ جواب دے گیا
زمین تھک گئی بدن کے چیتھڑے سنبھالتے سنبھالتے
یہ وقت ہے خروج کا
سدا بہار !کلام کر۔۔۔قیام کر
جی ہاں ! صاحبو !! آج ”سدا بہار “کلام کرنے میں آزاد ہے ،مستقل قیام کے لئے آمادہ ہے،آج جمہوری ادوار کا چھٹا سال ہے ،ہم آہستہ آہستہ اس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں ،جو خوشحالی اور امن کی قیام گاہ ہے۔سچ پوچھئے تو یہ” دیر آید،درست آید “کے مترادف ہے۔نجانے کیوں لگ رہا ہے کہ اب ہمارے بدن کے چیتھڑے سنبھالنے والی زمین پر امن و آشتی کے پھول کھلنے والے ہیں ۔دہشت گردی کی بجائے انرجی اور وسائل کا دور آنے والا ہے،چولستان میں 10ہزار ایکڑ پر سولر انرجی پارک کی تعمیر شروع ہو چکی ہے،تھر کول پر تیزی سے کام ہو رہا ہے،نئے ڈیموں کی تعمیر اب خواب نہیں ،بلکہ سچ ہے،اب خوابوں کی تعبیر کا وقت ہے۔     ٭