یہی پاک فوج اور یہی پاک فضائیہ!

جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں (منگل وار، 6جنوری 2015ء) فوجی عدالتوں کی تنظیم اور ان کے حتمی دائرۂ اختیارات کے بارے میں پارلیمنٹ میں رائے شماری نہیں ہوئی، نہ ہی آرمی ایکٹ میں کسی ترمیم کا کوئی حتمی ڈرافٹ سامنے آیا ہے۔ بہرکیف جب یہ کالم آپ کے سامنے آئے گا تو ’’کَٹّی کَٹّا‘‘ نکل چکا ہو گا!
دہشت گردوں نے ہمارے ہاں کتنا اثرو رسوخ حاصل کر رکھا تھا یا کر رکھا ہے، اس کا شعور تو قوم کو ہو ہی چکا ہے۔ قوم یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ اعلیٰ عدالتوں سے سزائے موت کے مجرموں کو رہائی مل رہی ہے۔ وہ مجرم جن کے لئے پھانسی کا پھندا تیار تھا، وہ بھی عین وقت پر جیلوں سے باہر نکالے جا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کے فرش پر ایک بار پھر اس یقین دہانی کا اعادہ کیا ہے کہ یہ فوجی عدالتیں صرف اور صرف دہشت گردوں کے لئے ہیں۔ ملک کا کوئی عام شہری، تاجر، سرمایہ دار اور صحافی ان عدالتوں میں نہیں بھیجا جائے گا۔مولانا فضل الرحمن کی پارٹی فی الحال مخالفت کر رہی ہے۔ اس کو مدرسوں اور مذہب کو بیچ میں لانے پر اعتراض ہے۔جماعت اسلامی بھی کچھ ایسا ہی خیال رکھتی ہے۔ میڈیا اپنے ٹاک شوز میں ان اختلافات کو بطور خاص اچھال رہا ہے کہ کل کو اگر کسی بھی حوالے سے فوجی عدالتوں کے کسی فیصلے پر عوام میں کوئی ابہام پایا جائے یا ابہام پیدا کرنے کی ازخود کوشش کی جائے تو ان ٹاک شوز کو بطور ثبوت پیش کر دیا جائے کہ دیکھئے ہم نے تو فلاں تاریخ کو فلاں شریک محفل سے فلاں نکتہ ’’اگلوایا‘‘ تھا اس لئے ہماری بیش بینی اور صداقت کی داد دی جائے۔ ہم ایک عرصے سے اِسی ’’داد‘‘ کی وصولی کی تگ و دو کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن اس عمل میں پوری قوم جس بیداد میں گرفتار ہے ہم اس کا ادراک کرنے کے سلسلے میں بے حس ہیں!
یادش بخیر ایک عشرہ پہلے، ’’انڈو پاک‘‘ بریکٹ بین الاقوامی سیاسی ڈکشنری میں سکہۂ رائج الوقت سمجھی جاتی تھی، پھر انڈیا نے خود کو اس بریکٹ سے الگ کر کے چین کے ساتھ ناطہ جوڑ لیا۔ اب ’’انڈو چائنا‘‘ بریکٹ معمول بن چکی ہے اور جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس کو افغانستان سے نتھی کیا جا چکا ہے۔ اب ’’آف پاک‘‘ کی بریکٹ، بین الاقوامی میڈیا میں عام مستعمل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو سیاسی، تعلیمی، سماجی، اقتصادی اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں افغانستان کے مماثل قرار دیا جاتا ہے۔
کیا ہم نے کبھی سو چاہے کہ دنیا کے واحد مسلم نیو کلیئر ملک کو افغانستان جیسے پس ماندہ ملک کے برابر کیوں سمجھا گیا؟۔۔۔ کیا وجہ تھی کہ پاکستان کا میزائلی پروگرام اُس افغانستان کے برابر سمجھ لیا گیا، جس کے کسی اعلیٰ ترین سائنس دان کو بھی کسی ادنیٰ ترین میزائل کی تکنیکی تفصیلات کا کوئی علم نہیں؟۔۔۔ کیا سبب تھا کہ جس افغانستان کی نہ کوئی اپنی باقاعدہ آرمی ہے، نہ ائر فورس، نہ نیوی اس کو دنیا کی پانچویں بڑی آرمی، ساتویں بڑی ائر فورس اور نویں بڑی بحریہ کے برابر سمجھ لیا گیا؟۔۔۔ بین الاقوامی برادری میں مشہور ہے کہ پاکستان، ایک منی افغانستان ہے!
افغانستان کے صدر جناب اشرف غنی کا ایک چونکا دینے والا بیان کل ہی میری نظر سے گزرا۔ انہوں نے افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلاء کے لئے 31دسمبر 2014ء کی تاریخ کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ اس ’’حتمی تاریخ‘‘ کو ’’حتمی عقیدہ‘‘ (Dogma) نہ بنا لیا جائے۔ اتوار کے روز ایک امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک (CBS) میں ان کے ساتھ ایک گھنٹے کا ٹاک شو نشر کیا گیا۔ یہ پروگرام ’’60منٹ‘‘ کے نام سے ہر اتوار کو آن ائر ہوتا ہے۔۔۔ اس پروگرام میں انہوں نے زور دے کر یہ بھی کہا کہ غیر ملکی فورسز کو اپنے انخلائی ایجنڈے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ دوسرے لفظوں میں وہ کہہ رہے تھے کہ:

ابھی نہ جاؤ چھوڑ کہ دل ابھی بھرا نہیں

قارئین کرام! مَیں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ایک وقت میں افغانستان میں ناٹو اور ایساف کے50ملکوں کی 1,30,000ہزار فوج افغانستان میں رہی۔ اس فوج کو فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی۔ڈرون ٹیکنالوجی کا تازہ ترین (Latest) ورشن بھی امریکیوں اور برطانویوں نے کابل و قندھار اور ہلمند و خوست میں استعمال کیا، لیکن وہ لوگ اپنے تمام تر لاؤ لشکر اور تمام تر فوجی طاقت کے باوجود13سال کی مسلسل ذلت کے بعد وہاں سے رخصت ہونے پر مجبور ہوئے۔ یہ مغرب کی سب سے بڑی شکست کہی جا رہی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں تو جرمنی، جاپان اور اٹلی، اتحادیوں کے مقابل تھے۔ لیکن افغانستان کی اس جنگ میں پورے مغربی یورپ اور امریکہ کے مقابل کون لوگ تھے؟ کوئی مانے نہ مانے وہ افغانی طالبان ہی تھے جنہوں نے ناٹو اور ایساف کا اتنا جانی نقصان کیا کہ ان کو بھاگنے کے سوا دوسرا چارہ نظر نہ آیا۔
اب دوسری طرف پاکستان کو دیکھئے۔ فاٹا میں بھی تقریباً اتنی ہی پاک فوج پاکستانی طالبان کے خلاف برسر پیکار ہے، جتنی ناٹو اور ایساف کی افغانستان میں تھی۔ فرق یہ ہے کہ پاک فضائیہ اور ناٹو فضائیہ میں مسابقے یا مقابلے کی کوئی نسبت ہی نہیں۔ ناٹو اور ایساف کا سازو سامانِ جنگ دیکھیں اور پاک فوج کی طرف نظر دوڑائیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ افغانستان کے جن طالبان نے اُس ملک کے کوہ و دمن سے غیر ملکیوں کو بھاگنے پر مجبور کیا، پاکستان کے وہی اور ویسے ہی طالبان، پاک فوج کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔۔۔ کیا یہ بات کسی پاکستانی کی سمجھ میں نہیں آتی کہ شمالی وزیرستان میں پاک فوج اور پاک فضائیہ نے مل کر 6 ماہ میں جو کامیابیاں کی ہیں، وہ ناٹو اور ایساف کی بری اور فضائی افواج 13برسوں میں کیوں حاصل نہ کر سکیں؟
یہی پاک فوج اور یہی پاک فضائیہ اگر یہ عہد کر رہی ہے کہ پاکستان میں ایک بھی دہشت گرد کو باقی رہنے نہیں دیں گے اور یہ بھی کہہ رہی ہے کہ چھ سال ماہ قبل جو IDPs شمالی وزیرستان سے بے گھر ہو کر خیموں میں رہنے پر مجبور کر دیئے گئے تھے ان کو اگلے ماہ (فروری 2015ء میں) واپس اپنے گھروں میں بھیج دیا جائے گا۔ اور یہ بھی کہ نہ صرف واپس بھیج دیا جائے گا بلکہ ان کی آباد کاری میں بھی مدد کی جائے گی۔
یہی پاک فوج اور یہی پاک فضائیہ قوم سے وعدہ کر رہی ہے کہ پاکستان کو منی افغانستان ہونے سے بچایا جائے گا۔ اسے آف پاک(Of-Pak) کی بریکٹ سے الگ کیا جائے گا اور اسے پھر سے امن و امان کا گہوارہ بنانے کے لئے ان دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا جو پاکستان کے جوڈیشل یا سیاسی نظام کی بعض کمزوریوں اور کوتاہیوں کے سبب ابھی تک ’’برائے نام‘‘ قید ہیں۔ یہ گویا سپیشل قیدی ہیں۔ ان کو جیلوں میں بھی ایسی ایسی مراعات حاصل ہیں جو مَیں اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔
ایک طرف افغانستان کے اربابِ اختیار، ناٹو اور ایساف کو کہہ رہے ہیں کہ31دسمبر 2014ء کی ڈیڈ لائن کو عقیدہ نہ بنائیے اور باقی جو13000غیر ملکی فورسز کابل اور اس کے گردو نواح میں موجود ہیں، ان کو بھی2016 ء کے اختتام پرواپس لے جانے کا خیال ترک کر دیجئے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کو اس فوج کی ضرورت ہے۔۔۔ اس کی اپنی ساڑھے تین لاکھ فوج اور ڈیڑھ لاکھ پولیس تو موجود ہے، لیکن اس کے باوجود وہ افغانستان کی ’’پاک سرزمین‘‘ پر افرنگیوں کے ’’ناپاک قدم‘‘ دیکھنے کا مطالبہ اور درخواست کر رہے ہیں تو کیوں کر رہے ہیں؟ ذرا سوچئے کہ افغانستان کا دشمن کون ہے؟۔۔۔ اگر امریکہ اور ناٹو اس کے دشمن تھے تو وہ تو جا چکے ہیں۔ اب وہاں دن رات خود کش دھماکے کیوں ہو رہے ہیں؟
ہم کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر پاک فوج فاٹا میں گزشتہ چھ ماہ تک دہشت گردوں کا سامنا نہ کرتی، پاک فضائیہ حرکت میں نہ آتی تو ہمارا حال بھی آج افغانستان جیسا ہوتا۔ وہاں ہر روز بچے کچھے امریکی ٹروپس پر روزانہ حملے کئے جا رہے ہیں۔۔۔ ابھی کل(5جنوری 2015ء) ہی ایک خود کش بمبار نے کابل میں ’’یورپین یونین پولیس مشن‘‘ کی ایک کانوائی کو نشانہ بنایا۔ یہ پولیس مشن، افغان نیشنل پولیس(ANP) کو تربیت دینے پر مامور ہے۔ اس حملے میں ایک شخص مارا گیا اور کئی زخمی ہو گئے۔۔۔
طالبان کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ہمارا 2015ء میں یورپی پولیس مشن پر ’’پہلا حملہ‘‘ ہے۔۔۔۔ آگے آگے دیکھنا ہم کیا کرتے ہیں۔
یہی پاک فوج اور یہی پاک فضائیہ ہے، جو پاکستان کو منی افغانستان بننے سے روکے ہوئے ہے۔ اس نے اگر فوجی عدالتوں کا مطالبہ کیا ہے تو کیا وہ اپنے کسی ذاتی مفاد کے حصول کے لئے کر رہی ہے؟۔۔۔ کیا ماسوائے دہشت گردوں کے قلع قمع کے کوئی دوسرا ایجنڈا بھی افواج پاک کے پیش نظر ہے؟۔۔۔
فوجی عدالتوں کے مخالف سیاست دانوں سے میری درخواست ہے کہ براہ کرم ایسا تاثر نہ دیجئے کہ چور کی داڑھی میں تنکے والی ضرب المثل یاد آنے لگے!