سعودی عرب میں تبدیلی؟

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اٹھائے گئے، حالیہ اقدامات نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب شاہی خاندان کی 11اہم شخصیات کے ساتھ ساتھ شاہی خاندان کے کئی اہم عہدے داروں کی گرفتاریوں کو سعودی سیاست میں اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کی تاریخ میں آٹھ عشروں کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر شاہی خاندان کے افراد کے خلاف کبھی کارروائی نہیں کی گئی۔ گرفتاریوں سے چند گھنٹے پہلے محمد بن سلمان کے حکم سے ایک انٹی کرپشن کمیٹی بنائی گئی، جسے یہ اختیار دیا گیا کہ وہ بغیر کسی ٹرائل یا وارنٹ کے کرپٹ شہزادوں کو گرفتار کرسکتی ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں سعودی عرب بلکہ مشرق وسطیٰ کے امیر ترین شخص شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہیں، جبکہ ولی عہد محمد بن سلمان کے حریف تصور کئے جانے والے سابق سعودی فرمانرواکے چہیتے بیٹے متاحب بن عبداللہ کی گرفتاری کو بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی تینوں سیکیورٹی سروسز، فوج، داخلی سیکیورٹی سروسز اور نیشنل گارڈ کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، گزشتہ آٹھ عشروں سے ان سروسز کا کنٹرول سعود خاندان کی مختلف شاخوں میں تقسیم کیا جاتا تھا تاکہ اقتدار کا توازن قائم رہے۔

کرپشن کے خلاف اس مہم کے ساتھ ساتھ محمد بن سلمان نے کئی ایسے اقدامات بھی اٹھائے ہیں جن کو سعودی معروض میں لبرل اقدامات قرار دیا جا سکتا ہے۔

خواتین کو کار چلانے کی اجازت دینا ان اقدامات میں سے ایک اہم قدم ہے۔ سعودی عرب کے شہزادوں کی کرپشن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ گرفتار ہونے والے شاہی خاندان کے افراد کے بارے میں پہلے سے یہ تاثر موجود تھا کہ یہ نہ صرف سعودی خزانے سے بھر پور مراعات لے رہے ہیں، بلکہ غیر قانونی طور پر ایسی دولت کو بھی لوٹ رہے ہیں جو عوامی بہبود کے منصوبوں کے لئے وقف تھی۔


1932ء سے پہلے سعود خاندان کی تاریخ میں خاندانی اختلافات پر قتل و غارت کے واقعات موجود رہے ہیں، مگر سعودی عرب کے وجود میں آنے کے بعد اس شاہی خاندان نے سیاسی اور معاشی وسائل کو اس طرح سے تقسیم کیا کہ جس سے سعود خاندان کی ہر شاخ کو کچھ نہ کچھ ملتا ہی رہا۔

چند واقعات کو چھوڑ کر سعود خاندان نے ہمیشہ یہی کوشش کی کہ اس کے اختلافات کی خبریں اقتدار کی غلام گردشوں سے باہر نہ جانے پائیں، مگر اب سعود خاندان کے اختلافات سے پوری دنیا آگاہ ہو چکی ہے۔


اس معاملے کا ایک اور سیاسی پہلو یہ بھی ہے کہ موجودہ سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز کا تعلق سعود خاندان کے اندر جس شاخ یا چھوٹے قبیلے سے بنتا ہے، وہ سدیری شاخ ہے۔ سدیری جس کو 7سدیری بھی کہا جاتا ہے۔ کا نام سابق سعودی بادشاہ شاہ فہد بن عبدالعزیزکی والدہ حسہ بنت احمد السدیری سے لیا گیا ہے، شاہ فہد اور ان کے دوسرے 6سگے بھائی حسہ بنت احمد السدیری کے بیٹے تھے۔

سدیری شاخ کے پہلے بادشاہ شاہ فہدتھے اور اب سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز بھی سدیری ہیں۔ سابق شاہ عبد اللہ نے اپنے دور حکومت میں کئی اہم تعیناتیوں کے ذریعے انتہائی اثرورسوخ کی حامل سدیری شاخ کے اثر کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی اور اب سلمان بن عبدالعزیز شاہ عبداللہ کے دھڑے کے اثرورسوخ کو کم کرکے اپنے دھڑے کے اثرورسوخ کو بھی مضبوط کر رہے ہیں۔
اس سال جون میں جب محمد بن سلمان کو ولی عہد بنایا گیا تو اس کو بہت بڑی تبدیلی قرار دیا گیا، کیونکہ سعودی عرب کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ اقتدار سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز السعود کے بیٹوں سے اگلی نسل کو منتقل ہوتا دکھائی دیا۔ ان تبدیلیوں پر معروف مورخ، ادیب اور کئی عشروں تک سعودی عرب کے شاہی نظام پر تحقیق کرنے والے مبصر، رابرٹ لیسی کی جانب سے اہم تبصرے کئے گئے۔ رابرٹ لیسی نے سعودی عرب کے سیاسی نظام پر اپنی تحقیق کو دو شاہکار کتابوںThe Kingdom اورInside the Kingdom کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔

ان تبدیلیوں پر رابرٹ لیسی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب میں اقتدار نئی نسل کو منتقل کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ سعودی فرماں روا شاہ سلمان اور ان کے حامی شہزادوں کو اس با ت کا شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ سعودی عرب کے شاہی نظام میں جمود کا شکار اور سست روی پر مبنی پالیسیوں کو ختم کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اقتدار اگلی نسل کو منتقل کر دیا جائے۔

شاہ عبد اللہ کی وفات کے فوراً بعد سعودی عرب کی انتہائی سست رو، بلکہ جمود کا شکار بیورو کریسی میں جن اصلاحات کو متعارف کروایا گیا اور روایتی ذہن رکھنے والے لوگوں کو برطرف کیا گیا تو ان تبدیلوں کو شہزادہ محمد بن سلمان ہی کی اختراح قرار دیا گیا۔

محمد بن سلمان کو ان اصلاحات کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اس وقت تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی اور مشرق وسطیٰ کی معروضی صورت حال کے باعث سعودی عرب اس وقت سماجی، سیاسی اور معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔

سعودی عرب اپنے کل ریوینو کا 70 فیصد تیل کی آمدنی سے ہی حاصل کرتا تھا، مگر اب ایسا نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ سعودی شہریوں کو دی جانے والی مراعات میں کمی کے ساتھ ساتھ کئی شعبوں میں ٹیکس بھی عائد کرنے پڑگئے ہیں۔

کل سعودی33ملین آبادی میں سے12ملین آبادی ایسی ہے کہ جو دوسرے ممالک سے روزگار کی غرض سے سعودی عرب میں مقیم ہے، مگر اب اس غیر ملکی آبادی کو انتہائی سخت بندشوں کا سامنا ہے، کیونکہ سعودی عرب اپنے شہریوں کی بے روزگاری کو کم کرنے کے لئے غیر ملکیوں پر انحصار کم سے کم کر نا چاہتا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح 12.1 فیصد ہے، مگر آزاد ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح 29 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

24 سے 29 سال کی عمر والی آبادی میں بے روزگاری کی شرح 38 فیصد تک ہے، جبکہ کل سعودی آبادی کا دوتہائی 30 سال سے کم عمر کی آبادی پر مشتمل ہے،گز شتہ سال 33ملین آبا دی میں سے506,000 نوجوان نوکری یا روزگار کمانے کی عمر میں داخل ہوچکے ہیں، مگر سعودی معیشت اتنے بڑے پیمانے پر ان نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے قابل نہیں۔ یہ صورت حال اس بات کی جانب اشارہ کررہی ہے کہ سعودی حکمرانوں کو اب اپنے سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل سے نمٹنے کے لئے بہت سی جو ہری تبدیلوں کو متعارف کروانا پڑے گا۔ ان تمام عوامل کے باعث محمد بن سلمان کو معلوم ہے کہ اب ما ضی کی طرح سعودی شہزادوں کی ہر طرح کی عیاشیوں کا بیڑا سعودی ریاست نہیں اٹھا سکتی۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ’’قومی تبدیلی کا منصوبہ‘‘ کے نا م سے ایک پروگرام کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق سعودی عرب معاشی طور پر 2030ء تک تیل پر انحصار ختم کر دے گا۔ اس منصوبے کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ اب سعودی عرب بڑی اور بھاری صنعتوں پر خصوصی توجہ دے گا۔ تیل، پانی بجلی اور دیگر ضروریات پر بے تحاشہ مراعات کا خاتمہ کیا جائے گا۔ سعودی معیشت میں اس وقت پرائیویٹ سیکٹر کا حصہ 40 فیصد ہے۔ 2020ء تک بڑھا کر 70 فیصد کر دیا جا ئے گا۔ اسی طرح اس وقت سعودی عرب دفاعی ساز و سامان کی ضروریات کا صرف 2 فیصد خود تیار کرتا ہے، 2020ء میں 50فیصد سعوی عرب میں ہی تیار کیا جائے گا ۔
سعودی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس نئے منصوبے کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ منصوبہ ایک طرح سے آئیڈل ازم پر ہی مبنی ہے۔کسی بڑی معاشی اور سیاسی تبدیلی کے بغیر یہ دعویٰ کرنا کہ سعودی معیشت کا تیل پر سے انحصار جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ ایک تصور پسندی ہی سمجھی جائے گی۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی شاہی نظام اقتصادی یا انٖفرا سٹرکچر کی ترقی کا جتنا بڑا دعویدار ہو، مگر یہ حقیقت ہے کہ شاہی نظام عملی طور پر دنیا بھر میں ایک متروک اور مسترد شدہ سیاسی نظام مانا جاتا ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود آج سعودی عرب کو داخلی اور خارجی سطح پر جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں ایسی پالیسیوں کا بھی عمل دخل ہے جو صرف شاہی خاندان کے مفادات کو مد نظر رکھ کر بنائی گئی ہیں۔ اس لئے آخر میں بنیادی سوال یہی ہے کہ دنیا کے سب سے قدیم اور عصر حاضر کے متروک سیاسی نظام یعنی ملوکیت یا بادشاہت میں کیا اتنی گنجائش ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی اساس کو برقرار رکھتے ہوئے ٹھوس سماجی، سیاسی اور معاشی اصلاحات کو متعارف کرواپائے؟