اے میڈیا تُو بھی سنجیدہ ہو جا

ایم کیو ایم نے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھایا، سمندر کنارے بسنے والوں کا غصہ بھی دکھاوے کا ، پیار بھی دکھاوے کا، عرش صدیقی نے کہا تھا:
لکھا ہے میرا نام سمندر پہ ہوا نے!
اور دونوں کی قسمت میں سکوں ہے نہ وفا ہے
ایم کیو ایم تو خیر ہے ہی ایسی ، ہمارے مین سٹریم میڈیا کو کیا ہوا کہ خبرنامہ تک بھول گیا اور ایک گھر کی لڑائی کی لائیو ٹرانسمیشن کو موضوع سکرین بنا کر قوم کا وقت برباد کیا گیا، آخر میں ایم کیو ایم پارٹی تو 25سیٹوں کی ہے ، کتنا بھی زور لگالے حیدرآباد سے آگے پھٹپھٹی بن جاتی ہے ، کراچی میں ہیڈآفسز ہونے کا مطلب یہ کب ہوا کہ پاکستان کی چوتھی جماعت کو پہلی جماعت کے طور پر پراجیکٹ کیا جائے ، آخر ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے اتحاد یا انضمام سے پاکستانیوں کی صحت پر کیا اثر پڑنے جا رہا تھا، یہ تماشا کب تک ہوتا رہے گا، کب تک ہماری توجہ اصل مسائل کی جانب سے ہٹائی جاتی رہے گی!


کون نہیں جانتا کہ ایم کیو ایم کس نے بنائی تھی، کون نہیں جانتا کہ ایم کیو ایم کو ایک مائع شکل سے دوسری مائع شکل میں کون ڈھال سکتا ہے ، اس پر اس قدر وقت صرف کرنے کی کیا ضرورت تھی ، آپا زبیدہ کے گھریلو ٹوٹکوں کی طرح کیا اب ڈاکٹر فاروق ستار کی والدہ وطن عزیز کو سیاسی ٹوٹکوں سے نوازا کریں گی، اس گھر کے جھگڑے کو ملک کا جھگڑا بنانے پر مین سٹریم میڈیا کا کردار قابل مذمت ہے!
ڈاکٹر فاروق ستار ہوں یا مصطفیٰ کمال دونوں الطاف حسین کی پیداوار ہیں ، کراچی کا میڈیا ان کا قد کھینچ کر کتنا بھی لمبا کیوں نہ کرلے بلکہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے اوپر بھی کھڑا کرلے تو بھی انہیں الطاف حسین کے قد برابر نہیں لا سکتے، یہ الگ بات کہ الطاف حسین نے وطن عزیز اور اس کے اداروں کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی اس کے بعد ان کا قد ڈیڑھ بالشت رہ گیا ہے لیکن ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال (جنھیں اردشیر کاؤس جی مصطفی کدال لکھا کرتے تھے) کا مشترکہ قدر تو سوا بالشت بھی نہیں بنتا ہے۔ پاکستانی قوم کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے ، ان کو اپنے لیڈر کیونکر نہیں چننے دیئے جا رہے ، ان پر لیڈرشپ مسلط کیوں کی جاتی ؟


پراپیگنڈے کی بڑی طاقت ہوتی ہے ، آصف زرداری اس کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں ، وہ اب سونے کے بھی بن کر آجائیں تو بھی لوگ انہیں تانبے کا ہی شمار کریں گے ، نیب والے چاہے کہتے رہیں کہ ان کے خلاف کرپشن کے ثبوت محض فوٹو کاپیاں ہیں ، ان کی شہرت کو جو نقصان ہونا تھا، ہو چکا ۔ 2014کے بعد سے نواز شریف کو ایسے ہی طاقتور پراپیگنڈے کا سامنا ہے ، عمران خان کی زبان میں پس پردہ قوتوں نے تواتر کے ساتھ نواز شریف کو کرپٹ ثابت کرنے کا پراپیگنڈہ کیا ہے اور اگر ایک آدھ ٹی وی چینل نے ساتھ نہیں دیا تو اس کے خلاف بھی ملک دشمنی کی کھلم کھلا مہم چلائی گئی ہے ۔ گزشتہ چار برسوں کے پراپیگنڈے کا نتیجہ ہے کہ آج جب سپریم کورٹ ایک کمزور نکتے (یعنی اقامہ )کی بنیاد پر نواز شریف کو نااہل کرتی ہے تو عوام جی ٹی روڈ پر نکلنے کے باوجود ان پر الزامات کی تکرار کو اختیار کرتے جارہے ہیں جس سے نواز شریف کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے ، تاآنکہ وہ اس پراپیگنڈے کے خلاف کمربستہ ہو کر نکل نہ پڑیں۔ میڈیا کا بڑا حصہ انہیں کرپٹ نہیں تو نااہل کہہ کر ویسے ہی پراپیگنڈے کا حصہ بنا ہوا ہے جیسے کبھی آصف زرداری کے خلاف بنا ہوتا تھا۔ ہمارے ایک مربی نے بڑی خوبصورت بات کہی کہ اس لڑائی میں یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا بلکہ یہ دیکھو کہ کون یہ لڑائی کس طرح لڑتا ہے ۔


ڈاکٹر فاروق ستار نے تین گھنٹے کا ڈرامہ رچا کر مین سٹریم میڈیا پر جتنا وقت لیا ، عمران خان نے اس سے بڑا ڈرامہ رچا کر گزشتہ تین برسوں سے ٹی وی چینلوں کا وقت لیا ہوا ہے ۔ ملک کو کب ایسے ہی تماشوں میں الجھایا ہوا ہے اور وہ بھی محض اس لئے کہ ہم اپنے بابے کی ٹانگ نیچے نہیں لگنے دینا چاہتے، ہم جتنا آگے بڑھتے ہیں ، اتنے ہی ہمارے قدم پیچھے جا پڑتے ہیں ، الطاف حسین بھی یہی کرتے تھے، ڈاکٹر فاروق ستار بھی وہی کچھ کر رہے ہیں ، یہ ایم کیو ایم کا مینوفیکچرنگ فالٹ لگتا ہے ، اس مینوفیکچرنگ فالٹ کے ساتھ کون کھیل رہا ہے ، پاکستان کے سنجیدہ طبقوں کو کھل کر اس روش اور اس کے پیچھے کارفرما قوتوں کی مذمت کرنی چاہئے اور مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا سے کہنا چاہئے کہ اے میڈیا تُو بھی سنجیدہ ہو جا!