نواز شریف کا اضطراب!

نواز شریف کا مضطرب ہونا تو بنتا ہے، جس ملک پر وہ تین بار حکمرانی کرچکے ہوں، اُس میں اُن کی کہیں بھی شنوائی نہیں ہورہی۔ ماضی میں تو مشکلات آنے پر کئی راہیں کھلتی رہیں،اب بظاہر سب راہیں مسدود ہوچکی ہیں۔ ایسے میں اگر نواز شریف ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں تو یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ اُنہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جج صاحبان اُن کے خلاف بغض اور عداوت میں بھرے بیٹھے ہیں۔ نواز شریف نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ جج صاحبان آخر کیوں بغض میں بھرے بیٹھے ہیں، ایسی کون سی عداوت ہے، جو نواز شریف کی عدلیہ سے رہی ہے؟۔۔۔ انہوں نے عدلیہ کے ججوں کو بحال کرایا تھا اور اُن کے حالیہ چار سالہ دور میں سپریم کورٹ کے جتنے بھی چیف جسٹس آئے، انہوں نے کبھی یہ تاثر نہیں دیا کہ حکومت عدلیہ کی بات نہیں مانتی، نہ ہی پاناماکیس سے پہلے نواز شریف نے عدلیہ کے بارے میں کبھی ایسے بیانات دیئے، جیسے وہ آج کل دے رہے ہیں، پھر کیا ہوا کہ باد مخالف کی طرح کوئی اور ان دونوں اداروں یعنی انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان آگیا۔ کل ہی چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدلیہ اور آئین کے خلاف باتیں کرنا کیا حب الوطنی کے زمرے میں آتا ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ پر شدید تنقید کے باوجود جج صاحبان حوصلے اور صبر سے کام لے رہے ہیں، کیونکہ عدلیہ کا کام انصاف کرنا ہے، جو ہم کرتے رہیں گے۔


ایک طرف یہ سوچ ہے اور دوسری طرف ایک واضح مزاحمت ہے۔ آخر نواز شریف کو یہ راستہ کس نے دکھایا اور خود انہوں نے کیوں نہیں سوچا کہ آئین اور قانون کے معاملات میں مزاحمت کی بجائے دلیل کاراستہ اختیار کرنا پڑتا ہے؟۔۔۔یہ بات تو اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے کہ پاناما کیس کی سماعت کے دوران نواز شریف تو چپ رہے، مگر اُن کے وزیروں اور مشیروں نے سپریم کورٹ کے باہر خود سپریم کورٹ کے خلاف عدالتیں لگائیں۔ میں اُس زمانے میں بھی لکھتا رہا کہ اس کا فائدہ کم ازکم میاں صاحب کو ہرگز نہیں ہوگا۔ غالباً یہ کسی پالیسی کا حصہ تھا کہ عدالت کو متنازعہ بنادیا جائے، تاکہ فیصلہ آئے تو اسے اسی بنا پر رد کیا جاسکے۔ ایسا سوچنے والے یہ بھول گئے کہ معاملہ کسی خصوصی عدالت یا سول جج کی عدالت کا نہیں، بلکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا ہے، جس کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا کوئی تصور ہی موجود نہیں۔ جج کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا گیا۔ جب فیصلہ آیا تو یہ سوچنے کا مقام تھا کہ یہ مزاحمتی پالیسی بری طرح ناکام ہوگئی، کم از کم فیصلے کے بعد ہی اسے تبدیل کردیا جاتا، مگر اُکسانے والوں نے نواز شریف کو جی ٹی روڈ پر لاکھڑا کیا۔ وہ یہی پوچھتے رہ گئے کہ ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘؟


حالانکہ یہ سوال انہیں عدلیہ کی بجائے اپنے اُن نادان دوستوں سے پوچھنا چاہیے تھا جو عدلیہ پر تنقید کے نشتر برساتے رہے اور میاں صاحب کو یہ تاثر دیتے رہے کہ وہ لوہے کا چنا ہیں، جسے چبانا آسان نہیں، وہ انہیں پوچھتے کہ اگر تم صحیح کہتے تھے تو مجھے نکالا کیوں گیا؟ آج وہ سارے وزیر مشیر حکومت کے مزے لوٹ رہے ہیں، چہرہ دکھانے کے لئے نواز شریف کے سامنے آجاتے ہیں، مگر اُن میں کوئی ایسا مردِ میدان نہیں جو اپنی وزارت سے استعفیٰ دے اور کہے کہ عدلیہ کے فیصلے پر بطور احتجاج وہ اپنی وزارت سے مستعفی ہورہا ہے۔آج میاں صاحب کو خود اپنی زبان سے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ وہ جیل جاسکتے ہیں۔ یہ ایک بہت ناخوشگوار صورت حال ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعت کا مقبول لیڈر کرپشن کے الزامات میں جیل جائے تو اسے نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت میں ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اُن کی اس حوالے سے کوئی مدد کرنے سے معذور ہے، کیونکہ معاملہ قانون اور عدالت کا ہے۔ جب ایسی عجیب و غریب صورت حال ہو تو حواس قائم رکھ کر مناسب فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ نواز شریف اس حوالے سے تہی دست رہے ہیں۔ وہ چیزوں کو وقت سے پہلے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، بلکہ اُن خوشامدیوں سے رہنمائی لیتے ہیں جو اُن کے اِردگرد موجود ہیں۔


یہ بہت پہلے کی بات ہے، جب پاناما کیس کے بعد یہ سب کو نظر آنے لگا تھا کہ شریف فیملی کے اثاثے ثابت ہوگئے ہیں، اب اسے اُن کا حساب دینا ہے۔ یہ وہ موقع تھا جب اس معاملے کو تناور درخت بننے سے روکنے کے لئے جرأت مندانہ فیصلوں کی ضرورت تھی۔ مثلاً میاں صاحب کو یا تو اس مسئلے پر پارلیمانی کمیٹی بنادینی چاہئے تھی یا پھر یہ فیصلہ کرنا چاہئے تھا کہ تحقیقات تک وہ اپنے منصب سے علیحدہ ہورہے ہیں، اگر ایسا ہوجاتا تو شاید بات سپریم کورٹ تک جاتی ہی ناں،مگر اُن کے بے لچک رویے اور پاناما کیس کو سنجیدہ نہ لینے کے عمل نے ایک ایسے ایشو کو، جسے پارلیمنٹ کے اندر بآسانی حل کیا جاسکتا تھا، سپریم کورٹ تک پہنچادیا۔ گویا بات سیاستدانوں اور خود حکمرانوں کے ہاتھ سے نکل گئی۔ اب اگر میاں صاحب یہ کہتے ہیں کہ جج صاحبان بغض سے بھرے بیٹھے ہیں تو پہلے وہ اس نکتے پر تو غور کریں کہ ججوں تک یہ معاملہ پہنچایا کس نے ؟۔۔۔انہی وزیروں مشیروں نے جو میاں صاحب کو یہ مشورہ دیتے رہے کہ پاناما کے ایشو پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں، چند دنوں تک یہ معاملہ خود ہی قصۂ پارینہ بن جائے گا۔

اب وہ موقع ہے کہ جہاں نواز شریف کو پھر ایک بڑا فیصلہ کرنے کا مرحلہ درپیش ہے، سبھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں جذبات کی بجائے عقل و شعور کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔ اُن کے پاس دو راستے کھلے ہیں، چاہیں تو اُسی راستے پر چلتے رہیں، جس پر وہ چل رہے ہیں، روزانہ عدلیہ کے خلاف جلے کٹے بیانات دیں، سازشوں کا تذکرہ کریں، مزاحمت اور انقلاب کی نوید سنائیں۔۔۔ اس راستے کا حاصل وصول کچھ نہیں سوائے خود کو تنہا کرنے کے۔۔۔ شاید آنے والے دنوں میں اُن کی اپنی جماعت بھی اُن کا ساتھ دینے سے قاصر نظر آئے۔ میاں شہباز شریف جیسا اُن کا مخلص بھائی اور دست راست بھی اس معاملے میں اُن کی حمایت کرنے کو تیار نہیں اور اُن کے ہر بیان کے بعد وہ اپنے بیان کے ذریعے اس آگ پر پانی ڈالتا رہا ہے۔ سنا ہے کہ نواز شریف اب جلسے کرنے جارہے ہیں۔۔۔ جلسے کریں یہ اُن کا حق بھی ہے اور آنے والے انتخابات کے لئے اُن کی پارٹی کے لئے ضروری بھی، لیکن اے کاش وہ اپنا بیانیہ تبدیل کرلیں۔ فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنانے کی بجائے وہ اُن کے احترام کی بات کریں اور ساتھ ہی اپنا یہ عزم بھی دہرائیں کہ وہ پاکستان میں ایک مضبوط جمہوریت کے قائل ہیں اور اُس کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ یہ جو اپوزیشن کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ نواز شریف خود کو بچانے اور مظلوم ثابت کرنے کے لئے ملک میں مارشل لاء لگوانا چاہتے ہیں، اسی لئے اداروں کے خلاف علم بغاوت بلند کررہے ہیں، نواز شریف کو اس کے خلاف اپنے عملی فیصلوں سے ایک ایسا تاثر پیدا کرنا چاہیے کہ وہ جمہوریت کے سب سے بڑے داعی نظر آئیں۔ اُن کے بیانیہ میں تبدیلی آئے گی تو ملک میں کشیدہ سیاسی فضا میں بھی تبدیلی آئے گی۔


انہوں نے نااہلی کے بعد سے اب تک جو مزاحمتی بیانیہ اختیار کیا ہے، وہ ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ اس نے انہیں کیا دیا ہے؟ کیا ان کے خلاف فیصلہ واپس ہوگیا، کیا کیس رک گئے، کیا فیصلہ دینے والے جج صاحبان برخاست کردیئے گئے، کیا عوام میں اُن کی مقبولیت پہلے سے بڑھ گئی؟۔۔۔ میرا خیال ہے، ان میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں ہوئی، اُلٹا وہ مزید مسائل کی دلدل میں اُترتے چلے گئے ہیں۔اس کی بجائے اگر وہ ایک مدبر سیاستدان کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔ مقدمات کا سامنا کرنے کے لئے پورا زور لگادیں۔ یہ بیانیہ اختیار کریں کہ انہیں عدلیہ سے کوئی گلہ نہیں، بلکہ انصاف کی توقع ہے اور وہ ہر فیصلہ خوشدلی سے قبول کرنے کو تیار ہیں، کیونکہ اُن سے زیادہ آئین اور عدلیہ کا احترام اور کوئی نہیں کرتا، تو اُن کا اضطراب بھی بڑی حد تک ختم ہو جائے گا اور اُن کی مقبولیت بھی پہلے سے بڑھ جائے گی۔ سیاسی رہنماؤں کی زندگی میں اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، مگر جو چیز انہیں ہر بحران سے نکال دیتی ہے، وہ اُن کا عزم، حوصلہ اور قانون و آئین کے ساتھ احترام کا اٹوٹ تعلق ہوتا ہے۔ میاں صاحب اب دوسرا راستہ چھوڑ کر اس طرف آئیں تو انہیں بہت سی بند راہیں کھلتی ہوئی نظر آئیں گی اور اُن کے چہرے سے جو حقیقی مسکراہٹ روٹھ گئی ہے، وہ بھی اپنی پوری زندگی کے ساتھ واپس لوٹ آئے گی۔