اسلامی نظریاتی کونسل ادارہ جاتی پس منظر اور کارکردگی (2)

فصل دوم کا عنوان ’’قرار داد اور مقاصد‘‘ ہے۔12 مارچ1949ء کو مجلس دستور ساز کا اجلاس مولاناتمیز الدین کی صدارت میں ہوا، جس میں قرار داد مقاصد لیاقت علی خان نے پیش کی جو بحث مباحثے کے بعد منظور ہوئی۔باب پنجم میں تذکرہ ہے کہ1955ء میں نئی دستور ساز اسمبلی نے نئے آئین کا مسودہ تیار کیا۔آئین کا مسودہ جب عوام کے سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ اس میں کچھ باتیں قابل اعتراض ہیں۔ ان کے خلاف دینی ذہن رکھنے والی جماعتوں نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔ یہ اظہار مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں جگہ ہوا اورانہوں نے بعض ترامیم تجویز کیں۔اس طویل بحث کے نتیجہ میں قیام پاکستان کے 8 برس بعد29 فروری1956ء کو پاکستان کا آئین پاس ہو گیا۔ باب ششم کا عنوان ’’دستور 1956ء کے تحت قائم ہونے والے نظریاتی ادارے‘‘ ہے۔ فصل اول میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے قیام کا فیصلہ۔اس کے مقاصد اور طریق کار اور حدود کا ذکر ہے۔فصل سوم میں بین الاقوامی اسلامی کانفرنس کی بحث کی گئی ہے۔اس کے بعد اگلے تین ابواب، یعنی باب ہفتم، ہشتم اور نہم میں اسلامی نظریاتی کونسل کی مرحلہ وار تشکیل اور کارکردگی پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔اس میں ان سر توڑ مساعی کا بھی ذکر ہے جو ملک کے علمائے کرام نے اسلامی نظام قائم کرنے کے لئے سر انجام دیں۔اس حوالے سے مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کی وہ خط و کتابت بھی شامل ہے جومولانا شبیر احمد عثمانی کے ایماء پر وزیراعظم پاکستان جناب چودھری محمد علی کے درمیان ہوئی۔یہ خط و کتابت بہت اہم ہے جس میں پاکستان کی تشکیل کا ہدف متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔


پوری رپورٹ کو پڑھنے کے بعد اس بات کا احساس پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ تشکیل پاکستان کے فوری بعد تمام پاکستانی مسلمانوں میں اسلامی نظام کے نفاذ اور زندگیوں میں عملی انقلاب برپا کرنے کی تڑپ شدت سے موجود تھی۔ شروع کے اقدامات اسی بات پر دلائل ہیں، لیکن آہستہ آہستہ قائدین کی کہہ مکرنیوں اور سیاسی مفادات کی وجہ سے جذبات میں سرد مہری آتی گئی، لوگ مایوس ہو گئے اور اب تو یہ حالت ہے کہ نژاد نو تو قیام پاکستان کے اصلی مقصد کو بھی بھلا چکی اور حصول پاکستان اور قیام پاکستان کا مقصدذہنوں سے ماند پڑ گیا اور اب کیفیت یہ ہے کہ جمہوریت ہی پاکستان کا ہدف بن کر ذہنوں پر مستولی ہو چکا ہے۔ جب ہدف ہی بے ہدف ہو جائے تو صراط مستقیم کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔رپورٹ کے مطالعہ سے مجموعی تاثر یہ ابھرتا ہے کہ اسلامی نظام حیات کی طرف پیش رفت لیاقت علی خان کی وزارت عظمیٰ تک تو پورے جوش سے جاری رہی، لیکن ان کی شہادت کے بعد اس رفتار میں وہ تیزی برقرار نہ رہی، اگرچہ اس حوالے سے کچھ کام دھیرے دھیرے ضرور ہوا اور سقوط مشرقی پاکستان کے بعد تو رفتار کار زیرو ہو گئی اور سیاست کاروں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے سہارے تخلیق پاکستان کے مقصد کو قصداً دھندلا کر کے رکھ دیا۔


1971ء کے بعد1976ء تک کونسل میں سیاسی عمل دخل بہت زیادہ بڑھ گیا۔ ارکان کا چناؤ بھی سیاست اور سیاسی اغراض ہی کا شکار ہو کر رہ گیا۔ پھر جنرل ضیاء الحقؒ کے زمانے میں اس ادارے کی نشاۃ ثانیہ شروع ہوئی اور بہت سے صاحب علم حضرات کو اس ادارے میں تعینات کیا گیا، جس سے اس ادارے میں خاصی چستی پیدا ہوئی اور قابل قدر پیش رفت سامنے آئی۔اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے شائع ہونے والی کتاب بلاشبہ بہت اہم اور معلوماتی ہے۔ پاکستان میں اسلامی نظام کی پیش رفت کے حوالے سے کوئی ادارہ اس کتاب کے مطالعے سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔رپورٹ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کونسل جیسے ادارے کی رپورٹ ہی نہیں، بلکہ اس سیاسی اتھل پتھل کی داستان بھی ہے جو ملک کے اندر سیاسی مداریوں نے برپا کر دئیے تھے جو بالآخر ملک میں 1958ء میں برپا ہونے والے مارشل لاء پر منتج ہوئے اورپاکستان مستقل سیاسی انتشار کی طرف بڑھتا رہا اور پاکستان اپنے تخلیقی اہداف حاصل کرنے میں دور بلکہ بہت دور ہوتا چلا گیا اور ستر برس گزرجانے کے باوجود اپنی منزل کو نہیں پا سکا ۔ ایک ہندو عورت کو یہ کہنے کی شہ ملی کہ ہم نے اس نظریے کو بحیرۂ ہند میں ڈبو دیا ہے جس پر پاکستان کو علیحدہ ملک بنایا گیا تھا۔ پاکستان میں اس وقت تین طبقے ہیں۔۔۔ ایک طبقہ سرے سے اسلامی شرعی قوانین کے نفاذ کا قائل ہی نہیں، گو وہ زبانی طور پر اس بات کے اظہار کی جرأت نہیں رکھتا۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اسلامی شرعی قوانین کے نفاذ کا اظہار کرتا ہے لیکن سنجیدگی کے ساتھ کوشاں نہیں۔ یہ طبقہ کثیر تعداد میں ہے۔تیسرا طبقہ وہ ہے جو اسلامی شرعی قوانین کے نفاذ کے لئے پوری طرح سنجیدہ بھی ہے اور مقدور بھر کوشش بھی کرتا ہے۔ یہ طبقہ تعداد میں بہت ہی تھوڑا ہے۔


اصل لڑائی اول الذکر اور آخر الذکر طبقات کی ہے۔دونوں دھڑے اپنے اپنے مؤقف کو منوانے میں پورے پورے مستعد ہیں۔رکن کونسل محمد عبداللہ کے بقول نظریاتی کونسل محض ایک دفتر نہیں، بلکہ ایک تحریک ہے، جو اپنے پیچھے صدیوں کی تاریخ رکھتی ہے جو آئندہ کے لئے ایک امید ہے کہ شاید کبھی وہ وقت آ جائے کہ کونسل کا کام کسی حاکم یا حکومت کے کام آ سکے اور ابھی تو بہت کام کرنا ہیں، جواسلامی ریاست کی تشکیل کے لئے ضروری ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کی مذکورہ رپورٹ پڑھ کربخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس رپورٹ کے کچھ حصے مطالعہ پاکستان کے لازمی نصاب میں شامل کرنا جانے ضروری ہیں، جن کی تدریس کے بغیر مطالعہ پاکستان کا ہدف بھی پورا نہیں ہو سکتا۔یہ رپورٹ کسی محکمے کی عام روایتی رپورٹ نہیں، بلکہ اس کتاب کے اندر تشکیل پاکستان کے اہداف کا تاریخی پس منظر اور ریاستی مقصد تشکیل، جدوجہد، اسباب وجوہات، ضرورت و اہمیت و دیگر امور کا مفصل خاکہ سمٹ آیا ہے جن سے 14 اگست 1947ء کے بعد جنم لینے والی نژاد نو کو روشناس کرانا ازحد ضروری ہے۔ وگرنہ نسل نو اہداف تو ایک طرف نشان منزل بھی کھو بیٹھے گی۔ مولانا زاہد الراشدی کے مطابق پاکستان میں علمی رہنمائی کی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کے لئے سنجیدگی کی ضرورت ہے اور ہمیشہ یہ غیر سنجیدگی ہی شرعی قوانین کے نفاذ میں حائل رہی ہے۔ (ص:21 )(ختم شد)