توہم پرستی اور ہم پاکستانی

ہمارے ثقہ تاریخ دانوں کے مطابق پاکستان کی تشکیل اسلام کے نام پر ہوئی تھی۔ دینِ اسلام میں توہم پرستی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں جادو ٹونے، کالے علم اور اُس کے توڑ کے خود ساختہ ماہرین کی بھر مار ہے۔ کراچی جو پڑھے لکھے پاکستانیوں کا شہر ہے وہاں یہ کاروبار عروج پر ہے۔ چالاک اور دھوکے باز قسم کے عامل روحانیات، استخاروں، وظیفوں، تعویزوں اور قرآنی آئتوں کے ذریعے ہمارے عوام کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کا علاج کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور کمزور عقیدے کے گاہکوں سے ہزاروں روپے ٹھگتے ہیں۔ برطانیہ میں رہنے والے اکثر مسلمانوں کے بارے میں تو ایسا لگتا ہے کہ اُن کا ہر گھر رُوحانی تپِ دق میں مبتلا ہے۔ چالاک اور مکار عاملوں کے اِشتہاروں سے لندن کے اُردو اور انگریزی اخبار بھرے ہوتے ہیں۔ اِن جھوٹے عاملوں میں اَب عیسائی اور ہندو’’بابے‘‘بھی شامل ہو گئے ہیں۔ اِن ’’اشتہاری‘‘ عاملوں کا طریقہ واردات قریباً ایک جیسا ہے۔ مسلمان عامل ’’بڑے شاہ صاحب‘‘ ’’بنگالی‘‘ اور’’ آسامی ‘‘باوے بن کر اپنا تعارف کروائیں گے۔ کسی بھی اشتہار میں اِن عاملوں کا پتہ تحریر نہیں ہوگا۔ کم از کم 4-5 موبائل فون نمبراشتہار کے نیچے درج ہوں گے۔ اوقاتِ کار دیئے ہوئے ہوں گے، تاکہ اِشتہار معتبر لگے۔


مجھے تجسُس ہوا کہ توہم پرستی پاکستانیوں میں کیوں زیادہ ہو رہی ہے، جبکہ یہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور یہ توہم پرستی کہاں سے آئی اور کب سے آئی ہے۔ مختصراً ،توہم پرستی کی تاریخ اِتنی ہی پُرانی ہے جتنی دنیا کے مذاہب کی ۔ جب اِنسان نے قدرتی آفات سے ڈرکر یا قدرت کی دی ہوئی آسائشوں سے خوش ہو کر قدرت کے مظاہر کو پوجنا شروع کیا تو اُسی وقت توہم پرستی نے بھی جنم لیا۔ مذہب کی مختلف شکلیں انسانوں نے اختیار کیں۔ کہیں ارواح پرستی کی شکل میں اور کہیں قدرت پرستی کے رنگ میں۔ الہامی مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام)نے توحید کا راستہ دکھایا یعنی ایک ربّ کا تصور دیا۔ اِن الہامی مذاہب میں توہم پرستی کی کوئی گنجائش نہیں تھی، لیکن ہوا یہ کہ دنیا میں جہاں بھی یہ مذاہب اِختیار کئے گئے وہاں کے مقامی کلچر، رسومات اور ہزاروں سالوں سے جاری اوھام سے عوام محفوظ نہ رہ سکے۔ ظہورِ اسلام سے پہلے عربوں میں بھی توہم پرستی رہی۔ ہر کاروبار شروع کرنے سے پہلے وہ کاھنوں سے یا قبیلے کے مذہبی بڑے سے پیش گوئی لیتے تھے۔ اگر اُس کاروبار میں ناکامی کا کوئی خدشہ ہوتا تھا تو یہ مکّار کاھن اپنے ’’گاہک‘‘ سے ما ل ، زر ٹھگ کر جادو ٹونے کر کے اُس کاروبار کو محفوظ بنا دیتے تھے۔ ظہورِ اسلام کے 1450 سال بعد بھی آج کے سعودی عربیہ میں نیک اور بدشگونی پر یقین ہے۔ مثلاً رات کے وقت ناخن کاٹنے کو سعودی عربیہ میں منحوس سمجھا جاتا ہے۔ زیتون کا تیل اگر زمین پر گِر جائے تو اسے بھی منحوس سمجھا جاتا ہے۔اگر کوئی اُڑتا پرندہ آپ پر بیٹھ کر دے تو اچھا شگون ہے، لیکن اگر کوّا بیٹ کر دے تو یہ بدشگونی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو توہم پرستی کسی منطق کے تابع نہیں ہوتی ، البتہ دینِ اسلام میں نحوست اوربدشگونی سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے کلام کا سہارا ضرور لیا جاتا رہا۔ اس میں کسی بداعتقادی کا شائبہ نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو پڑھنے کے لئے کسی سپیشلسٹ یا’’بڑے شاہ صاحب‘‘ کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ گھر کا کوئی فرد قرآنی آیات پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ مدد بھی کر تا ہے اگرخود اپنے لئے دُعا مانگی جائے۔


جب مسلمان ہندوستان میں آئے اور یہاں کی مقامی ہندو آباد ی مسلمان ہوئی تو وہ اپنے ساتھ اپنی رسومات، جادُو ٹونے سے جڑئے ہوئے عقیدے ، چڑیلوں اور بھوتوں کے تصورات بھی لائے۔ اُن دِنوں سائنس اور نفسیاتی علوم کا کوئی خاص وجود بھی نہ تھا۔ کسی بھی بیماری ، جسمانی یا روحانی تکلیف کو کالے علم سے جوڑ دیا جاتا تھا۔ نو مسلم ہندو دینِ اسلام اور قرآن مجید کو سمجھ کر مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ وہ تو اولیاء کرام کی شفقت اور اُن کے بہترین اِنسانی سلوک سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے تھے۔ اولیاء کرام سے وابستہ کرامتوں کو مرید ین بڑھا چڑھا کر بھی پیش کرتے تھے، تاکہ کم علم مسلمان اُن مریدوں کے مُرشد کے مزاروں پر مال و دولت کے چڑھاوے پیش کریں۔جس طرح ہمارے ہاں مذہبی فرائض کو کمرشیلائیز کر دیا گیا ہے اُسی طرح روحانیات کو بھی ’’مال پانی‘‘ بنانے کا ذریعہ بنالیا گیا ہے۔ ہمارے 127 کیبل چینلز میں 2-3 چینلز 24 گھنٹے اِستخارے کرنے اور ختم قرآن کرنے کی خدمات بذریعہ اشتہار پیش کرتے رہتے ہیں۔ اِن روحانی خدمات کے بدلے میں ہدیہ بھی طلب کیا جاتا ہے۔ جس طرح ہندوستان میں بڑے بڑے مندر ہزاروں من سونے چاندی کے مالک ہیں، اِن مندروں کی ملکیت میں سینکڑوں ایکڑ اراضی ہوتی ہے جسے مندروں کے پروھت ٹھیکے پر دے کر مزید دولت بٹورتے ہیں۔ قریباً ایسی ہی واردات ہند و پاک کے بڑے بڑے مزاروں اور خانقاہوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اِن خانقاہوں کے پیروں کی اضافی آمدنی تعویز گنڈوں سے ہوتی ہے۔ ہمارے غریب اور جاہل عوام اِن پیروں کو نذرانے پیش کرتے ہیں۔ نذرانوں سے حاصل کی ہوئی دولت سے یہ پیر اور سجادہ نشین سیاسی طاقت حاصل کرتے ہیں کیونکہ اُن کے مرید اُن کی مٹھی میں ہوتے ہیں۔ پاکستانی جمہوریت میں پیروں اور مخدوموں کی طاقت مزاروں سے کمائی ہوئی دولت میں پوشیدہ ہے اور اُس پر طرّہ ہے اندھی تقلید کرنے والے مریدوں کے ہجوم کا ۔ ہمارے ملک کی ہر بڑی سیاسی پارٹی میں مخدوم اور سجادہ نشین ضرور موجود ہوں گے، کیونکہ وہ ہر صورت میں اپنی دولت، اپنے معتقدین کے ووٹوں کی طاقت سے الیکشن جیت جاتے ہیں۔


بات ہو رہی تھی تو ہم پرستی کی۔ گو اسلام میں تو ہم پرستی کی کوئی جگہ نہیں ہے، لیکن یہ دنیا کے ہر ملک میں کسی نہ کسی شکل میں نظر آئے گی۔ غیر مسلم ممالک بھی توہم پرستی میں زیادہ مبتلا ہیں۔ تھائی لینڈ، نیپال، بھارت، جاپان اور چین بہت زیادہ بدشگونیوں پر یقین رکھتے ہیں۔ سیاہ رنگ کا لباس تو دنیا کے ہر ملک میں سوگ کی نشانی سمجھا جاتا ہے، لیکن یورپ میں یہ رنگ جادو ٹونے کی بھی علامت ہے۔ پاکستانی ’’عامل روحانیات‘‘بھی سیاہ لباس زیب تن کر کے اپنے گاہکوں کو متاثر کرتے ہیں۔ کالے جادو کی اِبتدا برصغیر میں ہندوؤں کے ایک فرقے تنتارک (Tantaric) سے منسوب ہے۔ یہ فرقہ اکثریتی ہندو طبقے سے مختلف ہے۔ اس فرقے میں جنس مُدھرا(شراب)اور کالی ماتا (بھوانی)کی بہت اہمیت ہے۔ ہندوؤں میں پُراسرار بیماریوں کے علاج کے لئے ابھی بھی تنتارکRituals کئے جاتے ہیں۔ یہ علاج نہیں، بلکہ غلیظ اور نجس قسم کے ڈھونگ کا مجموعہ ہوتا ہے۔


پاکستان کی زیادہ آبادی اگرچہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، لیکن ہمارے ہاں بھی بَد روحوں ، جن، بھوت اور چڑیلوں پر یقین رکھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دین کی مُبادیات سے نابلد عوام توہم پرستی میں زیادہ مبتلا ہیں بہ نسبت پڑھے لکھے لوگوں کے۔ برطانیہ اور ناروے میں رہنے والے پاکستانی 60 کی دھائی میں یہاں آئے تھے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ اور برطانیہ کو ہر قسم کے مزدوروں کی ضرورت تھی۔ اِن ملکوں میں ہجرت کرنے کے لئے ابھی ویزے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ ہمارے دیہاتی اور اَن پڑھ لوگ جوق درجوق برطانیہ اور یورپ کے چند ملکوں میں پہنچنے شروع ہو گئے۔ اُنہوں نے دِن رات محنت کر کے معاشی اور کچھ کچھ سماجی ترقی تو کر لی، لیکن دین کے بارے میں اُن کی معلومات صرف نماز، روزے اور حج تک ہی محدود رہیں۔اِن تارکینِ وطن کی اولاد اپنے ماں باپ سے بھی کم تر فہمِ دین رکھتی تھی۔ اسی عرصے میں اِن تارکینِ وطن کی ’’دینی تربیت‘‘کے لئے ہمارے ہاں کی دیہاتی مسجدوں کے نیم خوانداہ اِمام مسجد بھی اِن مغربی ملکوں میں پہنچ گئے اور اپنے ساتھ مَسلک اور فرقہ واریت کا زہر بھی لائے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ ’’وظیفوں‘‘ اور ’’دَم درُود‘‘اور تعویذ گنڈے کے ذریعے طریقہ علاج بھی اپنے ساتھ لائے۔ آہستہ آہستہ کاروباری ’’عامِل‘‘ جادو ٹونے کا توڑ کرنے والے بنگالی اور آسامی ’’باوے‘‘ چلّوں اور تعویزوں کے ’’ماہر‘‘ استخاروں اور وظیفوں کے ذریعے ’’مستقبل کا حال‘‘بتانے والے پیر اور ’’بڑے شاہ صاحب‘‘بھی برطانیہ، ناروے اور یورپ کے اُن ممالک میں جہاں پر نیم خواندہ پاکستانی مزدور رہائش پذیر ہیں، اپنے ڈیرے ڈالنے پہنچ گئے۔ ہمارے اِن معصوم تارکینِ وطن کی ’’مشکلات‘‘ پُراسرار بیماریاں اور ازدواجی مسائل کے حل کے لئے دُھوکے بازوں نے اُردو اور انگریزی کے اخباروں میں اِشتہار بازی شروع کر دی۔ کمزور عقیدے کے ’’گاہک‘‘ تو پہلے سے موجود تھے، روحانی ٹھگ بازی کا دھندا خوب چل نکلا۔ ابھی یہ دھندا امریکی پاکستانیوں میں اِتنا مقبول نہیں ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔

امریکہ کا پاکستانی وہاں اعلیٰ تعلیم کے لئے گیا تھا۔ امریکہ میں اُن کی اکثریت ہے، گو نیو یارک، واشنگٹن اور شکاگو میں اَن پڑھ پاکستانی پہنچ گئے ہیں، لیکن امریکہ کے پاکستانیوں کی مذہبی سمت (Orientation) پڑھے لکھے پاکستانیوں کے ہاتھ میں ہے، اسی وجہ سے میرا یہ پختہ خیال ہے کہ اِسلام کی نشاۃ ثانیہ امریکہ اور کینیڈا سے ہو گی کیونکہ وہاں ابھی تک مسلکی زہر نہیں پھیلا ہے۔ وہاں بھی مسلک ہیں، لیکن فرقہ واریت کی طرح نہیں ہیں۔


پاکستان میں بھی توہم پرستی زوروں پر ہے، لیکن بڑی معصوم سی ہے۔ کاروں کے پچھلے شیشے پر عموماً آپ اللہ تعالیٰ کا نام، پورا کلمہ طیبہ یا پنجتن پاک کا پنجہ دیکھتے ہوں گے۔ ویگنوں اور بسوں کے ڈرائیوروں نے گاڑی کے پیچھے کالا کپڑا باندھا ہوگا۔ ڈرائیور کی سیٹ کے اوپر آیت الکرسی یا چاروں قل سنہری حرفوں سے کارڈ پر چھپے ہوئے لٹکے ہوں گے یاروضہ ء رسولؐ کی تصویر لٹکی ہو گی۔ خواہ ڈرائیور کی کار کسی غلط اور گناہ کے کام میں استعمال ہو رہی ہوگی۔ یہ معصوم جہالت برکت حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے، لیکن اِن ڈرائیوروں یا (مالکانِ کار) کی گفتگو، ساتھ بیٹھی سواریوں کی خر افات ، حرکات اور سکنات با برکت نہ ہوں گی۔ ہمارے دیہات میں البتہ جادو ٹونہ پورے زور سے جاری ہے۔ غربت، جہالت اور کمزور عقیدے کے مالک ہمارے دیہاتی عوام، اپنا جانی اور مالی نقصان کروا لیتے ہیں۔ اِن عاملوں کے پیچھے لگ کر۔ ’’عملیات‘‘ کا سلسلہ مختلف مدارج پر پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ اگر دم کئے ہوئے پانی اور تعویزوں سے مرض کا علاج نہیں ہوا تو پھر قبرستانوں میں بوسیدہ قبروں پر ’’چلّا‘‘ کھینچا جاتا ہے جس کے لئے ’’عامل‘‘بڑی بڑی رقمیں گاہک سے وصول کرتے ہیں۔ جب تک ہمارے عوام میں جہالت ہے، غریبی ہے اور دین سے عدم آگاہی ہے، دھوکے باز پیر اور سجادہ نشین اُنہیںیوں ہی لوٹتے رہیں گے۔