موجودہ بحران: لیڈر شپ کا امتحان

سابق وزیر اعظم نوازشریف نے اپنے جی ٹی روڈ مارچ میں جو بیانیہ اختیار کیا، اس کا لبِ لباب یہ ہے کہ ملک میں عوام کے ووٹوں کا احترام موجود نہیں، وہ جسے اپنے ووٹ کی پرچی دے کر وزیر اعظم بناتے ہیں، کبھی فوج اور کبھی عدلیہ اسے آئینی مدت پوری کرنے سے پہلے چلتا کر دیتی ہیں۔ انہوں نے ستر برسوں سے چلے آنے والے اس قصے کو ملک کی بدنصیبی قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ اب وہ اس کے خلاف مزاحمت کریں گے، گھر نہیں بیٹھیں گے۔ ان کا یہ بیانیہ اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ ہماری تاریخ یہی رہی ہے۔ مگر نواز شریف نے جو کچھ کہا، وہ ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو انہوں نے بیان نہیں کیا کہ اس سارے عمل میں سیاسی قوتوں کا کیا کردار رہا ہے؟ کیا وہ واقعی اس کے خلاف اسی طرح خم ٹھونک کر کھڑی ہوئیں؟ جیسے آج نوازشریف کھڑے ہیں یا وہ خود اس سارے عمل کا حصہ بنتی رہی ہیں؟ بدقسمتی سے پہلی بات کے مقابلے میں دوسری بات ہی بڑا سچ ہے۔ نوازشریف کوئی نئے سیاستدان نہیں؟ وہ 32 برسوں سے سیاست کے میدان میں موجود ہیں۔ وہ خود کو تاریخ سے علیحدہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی ماضی کے واقعات سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ وزرائے اعظم کو ڈیڑھ سال بعد گھر بھیجا جاتا رہا تو وہ خود بھی گئے اور دوسروں کوبھیجنے میں بھی انہوں نے اپنا کندھا پیش کیا۔ محمد خان جونیجو اور بے نظیر بھٹو کی وقت سے پہلے وزیر اعظم ہاؤس سے رخصتی تو ان کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔ پھر پیپلزپارٹی کے آخری دور میں انہوں نے سید یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجنے کے لئے پورا زور لگایا اور کامیاب بھی رہے، اب آج اگر وہ سپریم کورٹ کے حکم سے نااہل ہونے کے بعد اپنے بیانیہ کو ایک نیا لبادہ اوڑھا رہے ہیں تو اچھی بات ہے۔ ملک میں جمہوریت کو مستحکم ہونا چاہئے اور وزیر اعظم کے منصب کی توقیر کو یقینی بنانے کے لئے ہر اقدام اٹھانا وقت کی ضرورت ہے۔


مسئلہ یہ ہے کہ صورتِ حال اتنی سادہ نہیں کہ صرف ایسے بیانیہ سے اس کا حل نکل آئے۔ عوام کے ووٹ کی جس پرچی کا نوازشریف ذکر کر رہے ہیں، پہلے تو اس کی توقیر بحال کرنا ضروری ہے۔ ہم ابھی تک نظام انتخاب کی چولیں ہی نہیں کس سکے۔ ڈھیلا ڈھالا اور بے اعتبار نظامِ انتخاب پہلے دن سے کئی شکوک و شبہات چھوڑ جاتا ہے۔ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات ستر برسوں میں کون سی حکومت ہے جس پر نہیں لگے۔ پہلے تو نوازشریف اس بات کا عہد کریں کہ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ختم کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے مل کر کوئی لائحہ عمل بنائیں گے۔ انتخابات کی شفافیت پر مہر لگ جائے تو وزیر اعظم بھی مضبوط ہو جائے گا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ عوام کے ووٹ کی پرچی سے منتخب ہونے کے بعد عوامی نمائندوں کا رویہ عوام کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟۔۔۔ یہ کہنا تو بہت آسان ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا گیا، مگر اصل غورطلب مسئلہ تو یہ ہے کہ منتخب وزیر اعظم عوام کے ووٹ کا تقدس کس حد تک برقرار رکھتا ہے؟ سیاسی تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ ایک بار منتخب ہونے کے بعد عوام کو یکسر بھلا دیا جاتا ہے۔ خود نوازشریف حکومت نے چار برسوں میں یہی کیا کہ عوام سے رابطہ بالکل منقطع کر لیا۔ حکومت میں آنے کے فوراً بعد بجلی کے نرخ دوگنا کئے اور پھر کبھی اس کی تلافی نہیں کی۔ خود نوازشریف قومی اسمبلی میں جانا اپنی ذمہ داری ہی نہیں سمجھتے تھے، حالانکہ عوام کے ووٹوں کی سب سے بڑی علامت تو قومی اسمبلی ہی ہے۔ انہوں نے بیرونی دورے زیادہ کئے اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کم کی۔ پھر اپنی حکومت سازی میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والوں کی بجائے غیر نمائندہ افراد کو اپنا مشیر رکھا۔ گویا اپنی عوامی بنیاد کو خود کمزور کرتے چلے گئے۔ اگر تو آپ یہ ارادہ بنائے ہوئے ہیں کہ آپ نے سویلین بالا دستی کو یقینی بنانا ہے تو پھر سیاسی قوتوں سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے پر توجہ دیں، لیکن یہاں تو یہ تاثر اُبھرتا رہا کہ نوازشریف ون مین شو کے طور پر حکومت چلانا چاہتے ہیں۔

ستر برسوں میں جو کھچڑیپکی ہے اسے محض باتوں سے تو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ہمارے ہاں طاقت کے ایک سے زیادہ مراکز ہیں اور وہ ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔ ایسا نہیں کہ آپ ایک صبح سو کر اٹھیں اور یہ اعلان کر دیں کہ اب عوام کے ووٹوں کے سوا کسی کی نہیں چلے گی یا تو آپ خود ہر عیب سے بالکل مبرا ہوں۔ آپ کے دامن پر کوئی داغ نہ ہو اور آپ نے ایک شفاف حکومت کو یقینی بنادیاہو۔۔۔ جب ایسا نہیں تو پھر آپ اپنا دفاع کیسے کرسکتے ہیں؟ نواز شریف لاکھ یہ کہتے رہیں کہ انہیں کس جرم میں نکالا گیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی شفافیت کو ثابت نہیں کرسکے۔ ان کی مالی بے ضابطگیوں کے اتنے زیادہ شواہد سامنے آئے کہ وہ خود بھی ان کا دفاع نہ کرپائے۔ عوام کے ووٹوں کا ایک احترام یہ بھی تو ہے کہ آپ قومی سرمائے کی حفاظت کریں۔ اس پر کسی کو شب خون نہ مارنے دیں۔ اگر آپ ملک و قوم کے لئے کوئی انقلابی کام کرنا چاہتے ہیں توپھر آپ کو ایسی آلائشوں سے بہت بلند ہونا پڑتا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں کہ آپ ایک ایسے ملک میں، جہاں تیس برسوں تک جرنیلوں کی حکومت رہی ہو، سویلین بالادستی کا نعرہ لگائیں اور یہ بھی سوچیں کہ اس کا ردعمل کوئی نہیں آئے گا۔

اگر خود آپ کے معاملات درست نہیں تو آپ کی اپنی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرآپ کو نشانِ عبرت بنادیا جائے گا۔ نواز شریف اس حقیقت کو تسلیم کریں۔ یہ نہ کہیں کہ مجھے کیوں نکالا گیا؟ یہ سوچیں کہ میں نے ایسی کمزوریاں کیوں چھوڑیں کہ جن سے فائدہ اٹھا کر مجھے گھر بھیجنے کا قانون ڈھونڈ لیا گیا۔ کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا ناسور ہے۔ یہ الزام کسی پر لگ جائے تو عوام اسے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ نوازشریف کو یہ مان لینا چاہئے کہ وہ اپنے اور خاندان پر لگنے والے الزامات کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے اس مشورے کو اہمیت نہیں دی کہ وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے عوام کے پاس جائیں اور نیا مینڈیٹ لیں۔ وہ کمزور بیٹنگ کے ساتھ ایک ناہموار وکٹ پر سنچری بنانے کی کوشش کرتے رہے اور بالآخر آؤٹ ہو گئے۔ آؤٹ ہونے کے بعد کھلاڑی پیولین کی طرف جاتا ہے، وہ عوام کی طرف آئے ہیں۔


نوازشریف نے اسلام آباد سے لاہور واپسی کے سفر میں یہ ثابت کیا ہے کہ عوام اب بھی ان کے ساتھ ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگ نوازشریف کو چاہتے ہیں، لیکن جو بیانیہ انہوں نے اختیار کیا ہے، وہ ان کی شخصیت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ وہ قانون اور عدالت کو نشانہ بنا رہے ہیں، حالانکہ انہیں عمومی انداز میں اس کا ذکر کرنا چاہئے کہ انہیں وقت سے پہلے نکال دیا گیا ہے اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ عوام کی جمہوری طاقت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ یہ کہنا کہ بیس کروڑ عوام کے فیصلے کو 5 ججوں نے باہر پھینک دیا، ایک بے تکی بات ہے، سپریم کورٹ کا تو ایک جج بھی کافی ہے، کیونکہ اس کے پاس آئین کا دیا گیا اختیار موجود ہے۔ ان باتوں سے نوازشریف کی شخصیت کا منفی تاثر ابھر رہا ہے اور وہ ایک ایسے کردار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں جو اپنی وزارتِ عظمیٰ چھن جانے کے بعد سب کچھ تباہ کرنا چاہتا ہے۔ نوازشریف کی تقاریر کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ان سے طاقت کے توازن کی بحث شروع ہوئی ہے۔ بہت عرصے سے ایک نیا عمرانیہ لکھنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اتفاق سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے بھی سول و عسکری قیادت میں ایک مکالمے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ نوازشریف ایک طاقتور فریق کے طور پر اس سارے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم اس بات پر کوئی دو رائے نہیں کہ معاملات کو پوائنٹ آف نورٹرن تک نہیں جانا چاہئے۔ اچھی لیڈر شپ وہی ہوتی ہے جو گہری تاریکی میں سے بھی روشنی کی کوئی نہ کوئی کرن ضرور نکال لیتی ہے اور موجودہ بحران آج کی لیڈر شپ کا ایک بہت بڑا امتحان ہے۔