حامد کی موت کا جشن

یہ کون لوگ ہیں جو لالہ موسیٰ کے قریب مبینہ طور پر میاں نواز شریف کے قافلے میں شریک کسی گاڑی کے نیچے آکر جاں بحق ہونے والے نو سالہ حامد کی موت کا جشن منا رہے ہیں، ان کی سکرینیں لال ہیں اور چہرے بھی، یہ لالی کامیابی کے جوش کی ہے جسے غصے کی اداکاری میں تبدیل کیا جا رہا ہے، انہیں ایک نعش کے حصول میں کامیابی ہوئی ہے، میں نے اس سے پہلے ایک مردار خور پرندے گدھ کے بارے ہی سنا تھا کہ وہ نعشوں کو نوچتا ہے، بھنبھوڑتا ہے کیونکہ اسے اپنے پیٹ کا جہنم بھرنا ہوتا ہے، ہم میں سے بہت ساروں نے آپا بانو قدسیہ کا ناول ’راجا گدھ ‘پڑھ رکھا ہے، ہم میں سے بہت سارے جانتے ہیں کہ گدھ جاتی کے بہت سارے ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔اس گدھ جاتی میں وہ گروہ بھی ہے جو میاں نوا ز شریف کی مخالفت کرتے ہوئے عوامی حاکمیت کے اصول تک کی نفی کر جاتا ہے، اس کے پیٹ میں درد ہے کہ پانچ ججوں کی طرف سے نااہلی کے قانون دانوں کی نظر میں متنازعہ فیصلے کی عوامی عدالت سے تنسیخ کیوں ہو رہی ہے، وہ عدالتوں میں حکومت لینے کے لئے جاتا رہا ہے۔


حامد مسلم لیگ نون کے کارکن کا بیٹا تھا، وہ اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے جی ٹی روڈ پر آیا تھا اور اسے مبینہ طور پر لمبے جلوس میں شامل کسی تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا تھا جب وہ سڑک پر آگے بڑھا تھا ، اس واقعے کی رپورٹنگ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جب حامد کی گاڑی سے ٹکر ہوئی تواس کے بعد وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں نے جلوس کے ساتھ جانے کو ترجیح دی، ان میں سے کسی نے بھی اسے ہسپتال نہیں پہنچایا حتیٰ کہ کانوائے میں شامل ایمبولینسوں نے بھی کوئی سروس فراہم نہیں کی لہذا حامد کو ہسپتال لے جانے کے لئے رکشہ ڈھونڈا گیا جبکہ دوسری طرف بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ حامد کا ٹکر لگنے کے فوری بعد انتقال ہو گیا ، اسے ہسپتال لے جایا ہی نہیں جا سکا۔ اس رائے سے کوئی سنگدل ہی اختلاف کر سکتا ہے کہ اس وقت جو لوگ گاڑیاں ڈرائیوکرتے ہوئے وہاں سے گزر رہے تھے انہیں حامد کو فوری طبی امداد کے لئے لے جانا چاہئے تھا ، اگر اس بچے کی ہلاکت ہو بھی گئی تھی تو اس کے باوجود والدین کی تسلی کے لئے ایسا کرنااشد ضروری تھا۔


میاں نواز شریف کا قافلہ جی ٹی روڈ سے کیوں گزر رہا تھا، اس بات کو صرف وہی جانتے ہیں جو آئین، قانون، جمہوریت، ریاست ، سیاست اور عوامی حاکمیت جیسے الفاظ اور اصطلاحات کی اہمیت اورحرمت سے واقف ہیں۔ ایک اخبار نے شہ سرخی جمائی کہ میاں نواز شریف کاقافلہ دو جانیں لے گیا، اس میڈیا گروپ کی طرف سے سابق وزیراعظم کو مسلسل ’ تاحیات نااہل وزیراعظم‘ لکھا اور کہا جا رہا ہے، یہ صحافت کی وہ قسم ہے جو ہمیں صحافت سے تعلق نہ رکھنے والے کاروباری مالکان کی طرف سے میسر ہوئی ہے۔ یہ لوگ بہرصورت ریلی کوناکام دیکھنا چاہتے تھے مگر جب راولپنڈی ، جہلم اور گجرات میں تاریخ ساز اجتماعات دیکھے تو یہ اپنی ہی بوٹیاں نوچتے ہوئے صاف نظر آ رہے تھے ۔ انہیں ریلی پر تنقید کرنے کے لئے مرچ مصالحہ چاہئے تھا۔ انہوں نے حامد کی حادثے میں ہلاکت کو قتل بنا دیا اور خود مقتول کے والی وارث بن گئے۔ ا ن میں مخصوص میڈیا گروپس کے نام نہاد دانشور ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ نون کے سیاسی مخالفین بھی شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جوزندہ ، جیتے جاگتے حامد کو جاہل اور پٹواری کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے ۔ سوچنے والی بات ہے کہ کیا مسلم لیگ نو ن کے قائدین ، کارکنوں یا سیکورٹی اہلکاروں نے اس بچے کو ہی قتل کرنا تھا جو میاں نواز شریف کادیوانہ تھا، ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے آیا تھا۔ یہ یقینی طور پر ایک حاد ثہ تھا اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ اس حادثے کو اپنے گھٹیا سیاسی مفادات کے لئے استعمال نہیں کر رہے ، وہ سفید جھوٹ بول رہے ہیں۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ون ون ٹوٹو کا شعبہ اطلاعات عامہ روزانہ پنجاب بھر میں ہونے والے حادثات کی تفصیلات جاری کرتا ہے اور بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک دن میں درجن بھر یا اس سے بھی زائد لوگ حادثات میں جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ مختلف اخبارات میں یہ خبر عمومی طور پر صفحہ نمبر دو پر یا کبھی کبھار صفحہ آخر پر شائع کردی جاتی ہے مگر کوئی ٹی وی چینل اس خبر کو اتنا اہم نہیں سمجھتا کہ اپنی ہیڈ لائنز تو ایک طرف رہیں، نیوز بلیٹن میں ہی جگہ دے۔ مجھے یوں لگا کہ اس حادثے پر پیشہ ور ماتمیوں کو کرائے پر حاصل کر لیا گیا ہے اور ان کا مقصد وہی ہے جو دیہات میں ان کا ہوتا ہے یعنی شریکوں کی پگ اتارنا۔


پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ جوماں سے بڑھ کے روئے وہ پھپھے کٹن ہوتی ہے، مسلم لیگ نون کے کارکن حامد کی حادثے میں ہلاکت پر پی ٹی آئی والے مگر مچھ کے آنسو بہا رہے تھے تو کیا انہیں اپنا ملتان کا جلسہ یاد نہیں آ رہا تھا جہاں جلسے کے ناقص انتظامات کے باعث شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران دم گھٹنے سے کم سے کم سات افراد موت کے گھاٹ اترگئے تھے، درجنوں بھگڈر مچنے پر زخمی ہو گئے تھے اور سب سے بڑا ظلم تو یہ تھا کہ ڈی جے بٹ کی طرف سے نشاندہی کے باوجود شاہ محمود قریشی نے تقریر اور جلسہ روکنے سے انکار کر دیا تھا، لوگ مرتے جا رہے تھے اورپی ٹی آئی کے رہنما تقریر یں کرتے چلے جا رہے تھے اور دوسرا ستم یہ ہواکہ اس بدترین سانحے کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے قائد نے مرنے والوں سے تعزیت تک نہیں کی تھی حالانکہ و ہ ان کے سرگرم کارکن تھے مگر اس وقت اس حادثے کو پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین کی طرف سے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ مجھے اپنے سیاسی مفادات کے لئے نعشوں کا انتظار کرنے والی ذہنیت سے خوف محسوس ہو رہا ہے اور دعا کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میاں نواز شریف اور ان کے کارکنوں کو محفوظ رکھے، انہوں نے لاہور پہنچنے کے بعد ایک نئے سفر کا آغاز کرنا ہے۔ باخبر صحافتی حلقے جانتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دھرنے کے دوران بھی نعشیں چاہتے تھے۔ ان کی خواہش اتنی شدید تھی کہ ایک موقعے پر جب بلیو ایریا میں زبردستی گھسا جا رہا تھا، پارلیمنٹ پر حملہ کیا جا رہا تھا تو انہوں نے نعشوں کے حصول میں کامیابی کے نعرے بھی لگا دئیے تھے۔ شیریں مزاری کے علاوہ ان کے ترجمان چینلوں نے ایک سے دو درجن لوگوں کے مر جانے کی خبریں بریکنگ نیوز کے طور پر چلا دی تھیں مگر اس وقت بھی ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی تھی کیونکہ یہی میرے رب کی مرضی تھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ لوگ نعشیں ڈھونڈتے ڈھونڈٹے پمز تک پہنچ گئے تھے اور پھر الزام لگایا تھا کہ حکومت نے لاشیں بھی غائب کر دی ہیں، ان سے پوچھا گیا تھا کہ جو لوگ لاپتا یا قتل ہوئے ان کے نام، ایڈریس اور وارثوں کا ہی بتا دو،تب یہ سب اپنا سا منہ لے کے رہ گئے تھے۔


یہ طبقہ بہت خوفناک ہے جسے سیاست میں لاشوں کی تلاش ہے، ان کے مقابلے لئے لئے دوا اور دعا دونوں ہی ضروری ہیں۔مجھے اپنے میڈیائی حملہ آوروں سے بھی پوچھنا ہے کہ جس وقت حامد کی گاڑی سے ٹکر ہوئی، ان کے بقول وہ گاڑی قافلے میں شامل ایلیٹ فورس کی گاڑی تھی، ہمارے یہ مہربان جہاں یہ قرار دے رہے ہیں کہ مسلم لیگ نون کی ریلی میں کرائے کے چند لوگوں اور پرانی گھسی پٹی باتوں کے سوا کچھ نہیں ہے وہاں وہ اس امر پر بھی برہم ہے کہ کارواں والوں نے حامد کو ہسپتال نہیں پہنچایا۔ کیا میں یہ سوا ل بہت ہی ادب اور احترام سے پوچھ سکتا ہوں کہ جب آپ کے میڈیا گروپوں کی اس قافلے کی کوریج کے لئے متعدد گاڑیاں وہاں موجود تھیں، ڈی ایس این جیز کے علاوہ ایک سے زائد رپورٹر بھی میڈیا گروپوں کی گاڑیوں میں سفر کر رہے تھے، آپ نے حامد کی ٹکر اور پھر اس کے گھر تک لے جانے کی لمحہ بہ لمحہ کوریج کی تو ایک لمحے کے لئے آپ کے فلسفے سے اتفاق کر لیا جائے کہ مسلم لیگ نون والے تو اپنے کارکن کو جان بوجھ کر قتل کرنا چاہتے تھے تاکہ آپ کو تنقید کا موقع دے سکیں مگر سوال یہ ہے کہ آپ لوگوں نے حامد کو ہسپتال تک کیوں نہیں پہنچایا، میں پھر کہوں گا کہ آپ اس کارکنوں کے بغیر کرائے کے لوگوں کی ناکام ریلی اور گھسی پٹی پرانی باتوں پر مشتمل تقریروں کی مسلسل کوریج کیوں کرتے رہے، کیا آپ کے سینے میں دل نہیں تھا یا آپ کی خواہش اور ایجنڈاایک عظیم مقصد کے لئے شروع کی جانے والی تحریک میں نعش حاصل کرنا تھا جو کر لی گئی اور پھراس کامیابی پر سکرینیں لا ل ہو گئیں اور چہرے بھی۔