کراچی میں آرمی چیف کا تازہ خطاب!

دو روزپہلے (بدھ وار، 11اکتوبر 2017ء) ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی کے گالف کلب میں ایک نہایت اہم یک روزہ سیمینار منعقد ہوا جس کا اہتمام پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور آئی ایس پی آر نے مل کر کیا تھا، اس لئے اس میں تجارت و صنعت کے ’’بڑے‘‘ بھی مدعو تھے اور کراچی کے دفاعی اداروں کے ’’بزرگ‘‘ بھی۔۔۔ جن دوستوں کو اس گالف کلب میں جانے کا اتفاق ہوا ہے وہ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ یہ کلب ایک نہائت نفیس اور شاندار عمارت ہے اور اس کا رکن بننے کے لئے مالدار اور سمجھدار اشرافیہ میں ہونا ایک پیشگی شرط ہے۔۔۔ اس اجلاس کا موضوع تھا: ’’دفاع اور معیشت‘‘۔۔۔ اور میرے خیال میں آج کے پاکستان کے حال و مستقبل کے تناظر میں یہ اہم ترین موضوع ہے۔

ایک عرصے سے یہ بحث چل رہی ہے کہ دفاع (سیکیورٹی) پہلے ہے یا معیشت (اکانومی) پہلے ہے۔ بعض حلقے اس کو ’انڈہ پہلے یا مرغی پہلے‘ کے فرسودہ کلیہ کا مترادف قرار دیتے ہیں جس کے حق اور مخالفت میں وہی نسبت ہے جو ابھی چند روز پہلے ہماری پارلیمان میں 38کے مقابلے میں 37ووٹوں کی صورت میں قوم کو دیکھنے کو ملی۔برسبیل تذکرہ اب جب یہ فیصلہ قانون بن چکا ہے تو اس کی مخالفت میں ایسی قراردادیں پاس کی جا رہی ہیں جن کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں۔۔۔ لیکن جی پشوری کرنے میں کیا حرج ہے۔۔۔ وہ اسلام آباد میں بھی بیٹھ کر کیا جا سکتا ہے اور پشاور میں بھی۔

میرے نزدیک سیکیورٹی پہلے یا اکانومی پہلے کا فیصلہ غزوۂ بدر میں آج سے 1440ہجری سال پہلے ہو چکا تھا جس میں 313والے سیکیورٹی اہلکاروں نے 1000سے زائد اکانومی والوں کو شکست فاش دے کر ثابت کر دیا تھا کہ دفاع پہلے ہے اور معیشت بعد میں ہے۔ اور ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی ہو گیا تھا کہ دفاع کا مطلب صرف کسی فوج کا قیام یا سلاحِ جنگ کے انبار اکٹھے کرنانہیں بلکہ اس لافانی مقولے کی صداقت کا نام ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ ’’توپ نہیں، توپ کے پیچھے بیٹھا توپچی فیصلہ کرتا ہے کہ جنگ کا انجام کیا ہونے جا رہاہے‘‘۔۔۔ ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں کہ عربوں کے پاس پیسہ بھی ہے، فوج بھی ہے اور جدید ترین ہتھیاروں کے ڈھیر بھی ہیں۔

لیکن یہ سب اس لئے بے کار ہیں کہ ان کی افواج کے پاس ان ہتھیاروں کو جنگ میں استعمال کرنے کا فن نہیں۔ گویا یہ دکھاوے کی افواج اور نمائشی ہتھیار ہیں۔ خدا نے اگر حُسن دیا ہو تو وہ کسی زیور کا محتاج نہیں ہوتا۔ فوج کا حسن اس کے فنِ جنگ و جدال کا تجربہ ہے۔ یہ نہ ہو تو پھر نتیجہ وہی نکلتا ہے جو 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں مصر، اردن اور شام کا یہودیوں کے ہاتھوں نکلا تھا۔ آج عرب۔ اسرائیل کی اس تیسری جنگ کو نصف صدی بیت چکی ہے لیکن آج بھی مسلمانوں کا قبلہ ء اول اسرائیلیوں کے قبضے میں ہے اور شام میں جولان کی وہ پہاڑیاں بھی انہی کی دسترس میں ہیں جہاں سے تل ابیب اور حیفہ کی اسرائیلی بندرگاہیں صاف دکھائی دیتی ہیں!


بہرکیف کراچی کے اس سیمینار کی بات ہو رہی ہے جس میں پاکستان کے کئی چوٹی کے اقتصادی ماہرین بھی شریک تھے جن میں جناب عشرت حسین سابق گورنر سٹیٹ بینک، جناب سلمان شاہ سابق وزیر (مشیر) خزانہ اور جناب اشفاق حسن خان جیسے ماہرین اقتصادیات کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل ڈی جی FWO اور کراچی کی عسکری قیادت تشریف فرما تھی۔ ان سب حضرات میں سے اکثر نے اس سیمینار سے خطاب کیا اور پاکستان میں سیکیورٹی اور اکانومی کی موجودہ صورتِ حال کا ایک مختصر لیکن بھرپور جائزہ پیش کیا۔


ہمارے بعض نیوز چینل دہائیاں دے رہے ہیں کہ پاکستان اقتصادی اعتبار سے دیوالیہ ہونے جارہا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اربابِ اختیار کے بیانات کے حوالے دئے جا رہے تھے ہیں اور 20کروڑ عوام پر فی کس قرضوں کے بوجھ کا وہ ’’مژدۂ جانفرأ‘‘ سنایا جاتا ہے جو ٹیلی ویژن کے سارے ناظرین و سامعین کو معلوم ہو چکا ہے۔۔۔ اس پس منظر میں جب آخر میں اس سیمینار میں ہمارے آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ کو دعوتِ کلام دی گئی تو انہوں نے نہائت نپی تلی اور پُر مغز گفتگو کی اور کہا:’’پاکستان کی اکانومی ملے جلے اشاریوں کی خبردے رہی ہے۔

لیکن قرضہ جات آسمانوں کو چھو رہے ہیں۔ اگرچہ انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبوں میں بہتری کے آثار ہویدا ہیں لیکن بیرونی تو ازنِ تجارت ہمارے حق میں نہیں جارہا۔ ٹیکسوں کی اساس وسیع کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مالی نظم و ضبط پر کڑی نظر رکھنے اور ملک کی اقتصادی پالیسیوں کو تسلسل دینے کے تقاضے بھی ناگزیر ہیں‘‘۔


آرمی چیف، اگرچہ دفاع کے چیف ہیں، معیشت کے چیف نہیں لیکن ان کی باتوں میں دفاع اور معیشت دونوں کے صحت مندانہ امتزاج کی تجزیاتی جھلکیاں نمایاں تھیں۔ انہوں نے حاضرین کو بتایا کہ ماضی میں یہ کہنا ایک طرح کا فیشن بن گیا تھا کہ معیشت نے دفاع کو گہنا دیا ہے لیکن آج سب کی آنکھیں کھل چکی ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ ریاست کا اولین فریضہ اور بزنس، دفاع ہے۔

انہوں نے یہ کہہ کر سب حاضرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی کہ :’’ مجھے یہ کہنے دیجئے کہ جب بھی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس ہوتے ہیں تو ان میں ہماری سب سے بڑی پریشانی (Concenn)اور قابل توجہ موضوع پاکستان کی اکانومی ہوتی ہے‘‘۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے ایک دو جملوں میں پوری کتاب کا گویاخلاصہ بیان کردیا : ’’پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو سٹرٹیجک اعتبار سے چیلنج زدہ ہے جس میں ملک سے باہر بیٹھے ایکٹر، ریاست پر قبضہ کرنے اور اسے زیر کنٹرول لانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور ہماری ان دفاعی ترجیحات کو ڈکٹیٹ کر رہے ہیں جن کے ڈانڈے ریاست کے مستقبل کی معیشت سے جڑے ہوئے ہیں۔۔۔ چنانچہ اس صورتِ حال میں ہماری تمام کوششوں کا مرکز و محورCPEC ہے‘‘۔


قارئین کو یاد ہو گا کہ گزشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس (James Mattis) نے کانگریس کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ:’’امریکہ اس لئے CPEC کی مخالفت کرتا ہے کہ یہ راہداری، متنازعہ علاقے سے گزرتی ہے‘‘۔۔۔۔ اپنے ان کالموں میں، مَیں ایک سے زیادہ بار امریکہ کی اس نئی ’’درفطنی‘‘ کا حوالہ دے چکا ہوں۔لیکن اگر مجھے اس کا سو بار حوالہ بھی دینا پڑے تو گریز نہیں کروں گا کہ چمن اگر سو بار بھی مہکے اور بہار سو بار بھی آئے تو امریکی محبوبہ کے دِل کی تنہائی وہی رہے گی جو ہے اور پاکستان کی رونق انشاء اللہ پہلے کی طرح قائم و دوائم رہے گی۔


آرمی چیف کی تقریر اگرچہ فی البدیہہ نہیں تھی اور پہلے سے لکھی ہوئی تھی لیکن جس نے بھی لکھی تھی اس کا درجِ ذیل حصہ سو بار مہکتا رہے گا:’’یہ راہداری (CPEC) محض نئے بجلی گھروں کی تنصیب اور انفراسٹرکچر کے قیام کا نام نہیں،بلکہ یہ تعمیر و ترقی کے ایک جامع اور مکمل پلیٹ فارم کا نام ہے۔

اس راہداری میں ایسے امکانات (Potentials) موجود ہیں جو ہمارے وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے اس خطے میں باہمی ڈویلپمنٹ کا ایک نہایت مضبوط سپرنگ بورڈ ثابت ہوں گے‘‘۔۔۔(سپرنگ بورڈ اس تختے کو کہا جاتا ہے جس پر کھڑا ہو کر تیراک پانی کے تالاب میں کود جاتا ہے اور پھر یہ جا وہ جا۔۔۔)۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد آرمی چیف نے چند لحظے توقف کیا اور پھر کہا:’’ تاہم اس عظیم منصوبے کی تکمیل اور پاکستان کے لئے اس میں سماجی اور اقتصادی خوشحالی کا دارو مدار جس ایک لفظ پر انحصار رکھتا ہے وہ صرف اور صرف سیکیورٹی ہے!اور اس کے لئے ہمیں نیشنل ایکشن پلان (NAP) پر من و عن عمل کرنا ہو گا۔‘‘۔۔۔


اس کے بعد نیشنل ایکشن پلان کی یاد تازہ کرتے ہوئے انہوں نے جن امور و نکات کی تکمیل اور انجام دہی پر زور دیا وہ پولیس ،عدلیہ اور مدارس کی اصلاحات تھیں۔ ان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا: ’’مدارس کی اصلاحات بہت اہم ہیں۔ہم اپنی آبادی کے ایک بڑے اور نوجوان طبقے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ مدارس کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ اپنے طلباء کو اس قابل بنائیں کہ وہ مستقبل میں معاشرے کے مفید شہری بن سکیں‘‘۔۔۔۔ ان اندرونی مسائل پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو درپیش خارجی خطرات کا ذکر بھی کیا۔۔۔ہرچند کہ وہ ذکر بہت مختصر تھا۔


انہوں نے کہا:’’ہمارے مشرق میں ہمارا حریف انڈیا بیٹھا ہوا ہے اور مغرب میں ایک ایسا افغانستان ہے جو غیر مستحکم ہے۔ ہم اپنے ان دونوں ہمسایوں سے اچھی ہمسائیگی کے تعلقات چاہتے ہیں۔لیکن تالی تو دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے!‘‘


یہ سن کر مجھے شیخ سعدی کا ایک مشہور مقولہ یاد آیا کہ: ’’ہرچہ بقامت کہتر بہ قیمت بہتر‘‘۔۔۔ یعنی جو چیز سائز میں چھوٹی ہوتی ہے وہ قیمت میں بڑی ہوتی ہے۔۔۔۔جنرل باجوہ کا یہ آخری جملہ کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، بہت مختصر سہی لیکن بہت جامع اور معنی خیز تھا۔پاکستان کا ہر فوجی اور سویلین حکمران بھارت اور افغانستان کو یہی جملہ کہتا آیا ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ لاتوں کے بھوت۔۔۔؟


جنرل قمر جاوید باجوہ کے اِس خطاب میں مجھے جو بات سب سے زیادہ اطمینان افزاء معلوم ہوئی وہ یہ تھی کہ ہمارے مخالفین ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا لیں تو وہ CPEC کی تعمیر و تکمیل کو روک نہیں سکتے ۔۔۔ یہی بات جنرل باجوہ کے پیشرو نے کہی تھی اور یہی جنرل باجوہ کے جانشین بھی کہتے رہیں گے۔