انٹری ٹیسٹ کے نام پر ذہین طلبہ کا استحصال کب تک؟

ڈاکٹر بننا بیشتر بچوں کا خواب ہوا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایف ایس سی کرنے کے خواہش مند بچے نویں کلاس سے ہی کتابی کیڑے بننا شروع ہوجاتے ہیں،دسویں کلاس پہلا پُل صراط قرار پاتی ہے اس کو عبور کرنے کے لئے بچے بچیاں عزیز واقارب کے ساتھ ساتھ گھر والوں کے لئے بھی اجنبی بن جاتے ہیں ان کا جنون ہوتا ہے، کہ کسی طرح 1000سے زائد نمبر حاصل کریں جس طرح گزشتہ چند برسوں سے بچے بچیاں دسویں میں نمبرلے رہے ہیں وہ ہمارے جیسے افراد کے لئے کسی عجوبے سے کم نہیں، ہم اپنے زمانے کے ہونہار اور ذہین کہلانے کے باوجود ان بچے بچیوں کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے، جس انداز میں وہ میٹرک میں نمبر لے رہے ہیں اِس بات میں بھی کوئی مبالغہ نہیں، آج کا طالب علم بہت زیادہ مدبر اور دور اندیش اور زمانہ شناس ہے، زیادہ نمبرز لینے والوں میں ایک دو طالب علم نہیں، بلکہ اگر کہا جائے کہ سب ہی ایک جیسے محنتی اور لائق ہیں تو یہ بھی غلط نہ ہو گا۔لاہور کے کالجوں میں ایف ایس سی کے داخلوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جو میرٹ بچیوں کے کالجوں کے سامنے آئے عام آدمی کیا بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔آخری لسٹ کا میرٹ1050 نمبر اگر آئے اور پھر بچے بچیاں میٹرک کے پل صراط کے بعد ایف ایس سی کے دوسرے پُل صراط میں بھی اسی عزم سے اسے عبور کر لیں،دوسرے پل صراط کے لئے والدین اور بچے دونوں کس کرب اور اذیت سے گزرتے ہیں اس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ صبح7بجے سے2 بجے تک کالج میں 4 بجے سے رات9بجے تک اکیڈمی میں 10بجے تک، گھر پہنچ کر بچے ہوم ورک کرتے نظر آتے ہیں، 12 بجے بچے سو کر صبح5بجے اٹھتے ہیں تو ویگن ان کی منتظر ہوتی ہے۔ FSC پہاڑ جیسا مرحلہ احسن انداز میں عبور کرنے کے بعد جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ ابھی انٹری ٹیسٹ پاس کرنا باقی ہے اس کے بعد ایم بی بی ایس میں داخل ہو سکیں گے۔ آدھے طالب علم تو ہمت ہار دیتے ہیں، کچھ والدین حوصلہ دیتے ہیں،لیکن بچے بچیاں جب والدین سے کہتے ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے ہم میٹرک اور ایف سی میں ساڑھے دس سو نمبر لیں اور انٹری ٹیسٹ میں800والا بھی ہمارے ساتھ بیٹھے اور 1000 نمبر،1050 نمبر، 1090 نمبر والا بھی اسی لائن میں ہو اور 750 اور800 نمبر لینے والا بھی اسی لائن میں بیٹھا ہو۔ لمحہ فکریہ نہیں تو کیا ہے۔ میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانی نظام میں اگر خامیاں ہیں تو دور ہونی چاہئیں، مگر دن رات ایک کرنے والے بچے بچیوں کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہونا چاہئے۔اس سال حج کی سعادت کے بعد سات اکتوبر کو واپس آیا تومیرے مربی اور محسن رانا طارق سرور جن کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور زرعی یونیورسٹی کے ذہین طالب علموں میں ان کا شماررہا ہے اِس وقت بھی اپنی کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں، کا فون آیا میاں صاحب آپ کو حج کی مبارک ہو، ہم لاہور ہائی کورٹ میں ہیں اِس سال انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہو گیا تھا ہم نے کیس کیا ہوا ہے۔ میرے دوست ڈاکٹر عاطف میرے ساتھ ہیں ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں، ہمارا وقت طے ہوا، دفتری مجبوری آڑے آئی ہم مل نہ سکے، مگر انہوں نے فون پر ساری تفصیل سے آگاہ کیا۔تفصیلات سن کر سکتے میں آگیا، معاشرے کی ناہمواریوں سے آگاہ ہونے کے باوجود اس حد تک یقین نہیں تھا کہ ہم من حیثیت القوم کرپٹ اور بے ایمان ہو چکے ہیں،ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران اور بعد میں ایسے ایسے انکشافات ہوئے، ہر سنجیدہ فرد خون کے آنسو روتا ہے، میرے بہت ہی پیارے برخوردار نوجوان صحافی سید سجاد کاظمی، سینئر صحافی میاں افضل، فرزانہ چودھری، شاہد اسلم کی رپورٹنگ نے مجھے گہرے صدمے سے دوچار کیا، جب انکشاف ہوا کہ انٹری ٹیسٹ کے نام پر ہونے والے ڈراموں کے پرچے لیک ہونے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ یہ مکروہ دھندہ گزشتہ دس گیارہ سال سے جاری ہے، سلام پیش کروں گا، خادم اعلیٰ کو جنہوں نے کمیٹی بنائی اور جب کمیٹی مشکوک ہوئی تو پھر ایکشن لیا اور پھرنئی کمیٹی بنائی، اس وقت تک فالو اپ کیا جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو گئیں،مَیں سلام پیش کرتا ہوں لاہور ہائی کورٹ کو جس نے پنجاب بھر کے65ہزار سے زائد بچے بچیوں کی آواز بن کر صحیح فیصلہ دیا۔20اگست2017ء کو پنجاب کے 13امتحانی سنٹروں میں63ہزا412 طلبہ و طالبات نے انٹری ٹیسٹ دیا اور اسی شام سوشل میڈیا پر پروفیسر حسیب نامی شخص کی جانب سے انٹری ٹیسٹ کا پیپر لیک ہونے کی افواہ منظر عام پر آئی، جس پر پنجاب حکومت کی انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کی روشنی میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت پروفیسر حسیب اور ایک طالب علم گرفتار ہوئے، جب تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا تو پنڈورا بکس کھلتا چلا گیا اس مکروہ دھندے میں بڑے بڑے عالم فاضل استاد اکیڈمی مالکان وائس چانسلر ڈپٹی کنٹرولر، ڈاکٹر ملوث پائے گے، یہ گھناؤنا کھیل انٹری ٹیسٹ تک محدود نہیں، سی ایس ایس تک کروانے والا گروہ بھی موجود ہے جو صرف10لاکھ لے کر سی ایس ایس کروا دیتا ہے۔
انٹری ٹیسٹ سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد چھ ڈاکٹروں سمیت9 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ ایک دفعہ پھر مٹی پاؤ گروہ پوری طاقت سے سامنے آ گیا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بدنام ہو جائے گا اس کو دبا دیا جائے۔میرے خیال میں انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آؤٹ ہونے کے اور سی ایس ایس کروانے والے گروہ کے نام سامنے آنے کے بعد ملک بھر کے دانشور، اینکر، تجزیہ نگار سمیت پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو سب کام چھوڑکر اس مکروہ دھندے کے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کردار ادا کرنا چاہئے تھا، مگر افسوس ایسا نہیں ہوا،20 لاکھ روپے لے کر میڈیکل کالجوں میں داخلہ دلانے کا وعدہ کرنے والی اکیڈمیوں کے نام بھی سرکار کو سامنے لانا چاہیں۔دو ارب روپے سالانہ اکٹھے کرنے والی اکیڈمیوں کے مالکان کو تو سرعام چوکوں پر پھانسیاں دینا چاہئیں،ان اکیڈمیوں کو ہمیشہ کے لئے بلیک لسٹ کر دینا چاہئے۔ ڈاکٹر،ماسٹر،کلرک،ڈپٹی کنٹرولر جو بھی ہو اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے۔اگر کوئی میڈیا،کوئی دانشور میدان میں نہیں آتا، تو چیف جسٹس آف پاکستان کو از خود نوٹس لینا چاہیے، جس معاشرے کا تعلیمی نظام زخمی ہو جائے اس ملک کا مستقبل تاریک ہو جایا کرتا ہے۔اب28 اکتوبر کو انٹری ٹیسٹ پھر ہونے جا رہا ہے،حالانکہ خوفناک سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد65فیصد طلبہ میں سے ہزاروں طلبہ اِدھر اُدھر داخلہ لے چکے ہیں۔پنجاب حکومت کی28اکتوبر کو ہونے والے انٹری ٹیسٹ میں فیس نہ لینے کی ترغیب بھی کارگر نہیں ہو پا رہی اس کی بنیادی وجہ بچے بچیوں میں پھیلی مایوسی ہے جس کی لپیٹ میں والدین بھی آ چکے ہیں وہ اِس ناانصافی پر خون کے آنسو رو رہے ہیں وہ ذہین بچے بچیوں کے انٹری ٹیسٹ کے نام پر ہونے والے استحصال پر سخت پریشان ہیں،کوئی بڑا مستقبل کے معماروں کو انصاف دلا سکے۔انٹری ٹیسٹ کے نام پر جاری ڈرامے کا ڈراپ سین کر سکے۔65ہزار بچے بچیوں کی داد رسی کون کرے گا۔ یہ سوال ہے جو ساڑھے گیارہ کروڑ کی آبادی کی، ہر گلی اور محلے سے اُٹھ رہا ہے؟انٹری کے نام پر ذہین طلبہ طالبات کا استحصال کب تک؟