کل کوئی یوم سیاہ تھا؟

بارہ اکتوبر کا دن پاکستان کی تاریخ میں اہمیت کا حامل ہے، اتنی ہی اہمیت کا حامل جتنی اہمیت کے حامل سات اکتوبر یا پانچ جولائی ہوسکتے ہیں بلکہ ان دونوں سے بھی کچھ زیادہ کہ یہ زخم زیادہ تازہ ہے۔ سات اکتوبر 1958 کو پاکستان کی تاریخ کا پہلا اور پانچ جولائی 1977کو ووسرا باقاعدہ مارشل لاء لگا تھا، ا س دوران ایک مارشل لا ئی حکمران سے دوسرے مارشل لائی حکمران تک کا سفر بھی طے کیا گیا تھا۔ اس بارہ اکتوبر کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف اس وقت بھی یہ سوال پوچھتے پھر رہے ہیں کہ انہیں کیوں نکالا تو سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ یہ سوال کس سے پوچھ رہے ہیں۔ان کے قریبی حلقے یہ تاثر دینے میں بالکل عار محسوس نہیں کرتے کہ جس سوچ کے حامل افرادنے انہیں اٹھارہ برس پہلے اقتدار سے محروم کیا تھا، اب بھی انہیں وزیراعظم ہاوس سے نکالنے میں انہی کے فکری جانشینوں کا کردار ہے مگر وہ کھل کر اسی طرح نام نہیں لیتے جیسے کھل کر یوم سیاہ نہیں منایا جاتا، ہاں، بیانات میں ووٹ کے تقدس اور عوامی حاکمیت کی بات ضرور کی جاتی ہے۔ جب کھل کر سازش کرنے والوں کانام نہیں لیا جاتا اور بارہ اکتوبر جیسا دن بھی خاموشی کے ساتھ گزار لیا جاتا ہے تو بعض ٹی وی چینلوں کے تجزیہ نگار یہ تاثر دے دیتے ہیں کہ وہ کسی بیک ڈور چینل سے معاملات کی بہتری کے خواہاں ہی نہیں بلکہ کوشاں بھی ہیں۔ بارہ اکتوبر جیسے اہم دن پریس کانفرنس کرنے والے اسی پارٹی کے لوگ جھک جانے میں بلندی کے راستے بھی دکھاتے ہیں۔


بارہ اکتوبر آیا تو خیال آیا کہ مسلم لیگ نون والے عوامی حاکمیت اور ووٹ کے تقدس پر ضرور بات کریں گے، اس وقت ملک میں کوئی مارشل لاء نہیں مگر وہ آج سے اٹھارہ برس پہلے لگنے والے مارشل لاء کو ضرور یاد کریں گے، محض عہدے سے ہٹانے پر آئین اور جمہوریت کا بستر لپیٹ دینے والے طالع آزما پرویز مشرف اور اس کے حواریوں کے خلاف احتجاج کریں گے ، یوم سیاہ مناتے ہوئے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے،چھتوں اور سڑکوں پر سیاہ پرچم لہرائیں گے اورمذاکروں میں اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کریں گے۔ پاکستان میں طالع آزماوں نے کوئی اچھی تاریخ رقم نہیں کی، یہی وہ موقع تھا جب غیر آئینی حکمرانی اور فوجی آمریت کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جا سکتی تھی، لوگوں کو بتایا جا سکتا تھا کہ جہاں آمریتیں دنیا بھر میں رواج میں نہیں رہیں وہاں پاکستان میں بھی آئین اور جمہوریت کے چاہنے والے موجود ہیں اوروہ کہہ سکتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ ، دہشت گردی ، فرقہ واریت اور بے روزگاری سمیت بہت سارے مسائل کی جڑیں غیر منتخب حکمرانوں کے ادوار سے جڑی ہیں۔ ہوسکتاہے کہ سیمینار اور مذاکرے بہت ساروں کے لئے گپ شپ اور چائے شائے کے حوالے سے اہم ہوں مگر انہی سے رائے عامہ ہموار ہوتی ہے۔ یہ رائے عامہ ہموار کرنا یوں بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں طویل مارشل لاوں کی وجہ سے اس نظام کے حامیوں کی نمایاں تعداد موجود ہے،میں نے سوشل میڈیا پر ہی وہ گروپس اور پیجز دیکھے ہیں جہاں سینکڑوں اور ہزاروں کی طرف سے جمہوریت کی نفی کرتے ہوئے مارشل لاء کو دعوت دی جا رہی ہے۔


مسلم لیگ نون ایک بڑی جماعت ہے اور اس میں یقینی طور پر سب ماجھے گامے نہیں ہوں گے، کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو سوچتے،سمجھتے اورلکھتے بھی ہوں گے۔پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد یہ جماعت چار ، سوا چار برسوں سے مرکز اورنو، سوا نو برسوں سے پنجاب میں حکمران ہے۔ مجھے کہیں بھی یہ نظر نہیں آیا کہ اس پارٹی کی طرف سے آئینی نظام کے تسلسل کی اہمیت کو واضح کرنے یا جمہوری فکر کو فروغ دینے کے حوالے سے کسی دانستہ اور سوچی سمجھی مہم کا آغاز کیا گیا ہو۔ کسی دانشوریا کسی سیاسی کارکن نے کوئی کتاب لکھی ہو اور پھر اس کی تقریب رونمائی ہوئی ہو جس میں مسلم لیگ نون کے ان قائدین نے شرکت کی ہو جنہیں پرویز مشرف کے مارشل لاء میں کوئی سبق سیکھا ہو اور وہ اس سبق کو اپنے نوجوانوں اور بچوں تک پہنچانا چاہتے ہوں۔ میرا گمان تھا کہ درسی کتب میں ایسے اسبا ق شامل کئے جائیں گے جو آئین ، جمہوریت اور عوام کے حق حاکمیت کی اہمیت کو بچوں کے ذہن میں راسخ کریں گے مگر یہ میرا خیال اور گمان ہی رہا۔12 اکتوبر کا سانحہ محض اٹھارہ برس پرانی بات ہے جبکہ پیپلزپارٹی کا زخم اس سے بائیس برس زیادہ پرانا ہے مگر وہ اس زخم کو کریدتی رہتی ہے اور شائد ہی کوئی ایسا پانچ جولائی آیا ہو گا جب پیپلزپارٹی نے کسی سیمینار ، مذاکرے یا تقریب کا اہتمام نہ کیا ہو۔ یہ کام نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی میں بھی ہوتا رہا اور اب آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی پیپلزپارٹی میں بھی باقاعدگی سے ہو رہا ہے۔دلچسپ امر ہے کہ دونوں جماعتوں کے اپنے اپنے مارشل لاء اور اپنے اپنے آمر ہیں جنہیں وہ اپنی اپنی پروپرائٹر شپ میں ہی برا بھلا کہہ سکتے ہیں۔یہ درست کہ مسلم لیگ نون کے بہت سارے رہنماوں نے اس حوالے سے بیانات جاری کئے ہیں، ابھی ٹی وی کے ٹاک شوز میں بھی وہ جمہوریت کا مقدمہ لڑتے ہوئے نظر آئیں گے مگر اس کے باوجود جب مسلم لیگ نون بطور جماعت وفاقی اور صوبائی سطح پر یوم سیاہ مناتی ہوئی نظر نہیں آتی، کوئی مظاہرہ ، کوئی جلسہ ، کوئی جلوس، کوئی سیمینار اور کوئی مذاکرہ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تو پاکستان کے ووٹروں کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت کے اب تک کے تجربات اور اس بنا پر تشکیل پانے والی سیاسی فکر بارے بہت سارے سوالات وزنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔


میں کب محاذ آرائی کا حامی ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ ملک کے سب سے تجربہ کار سیاستدان میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت دیوار کو ٹکر مارے اور اپنا بدن ہی کچل ڈالے مگر بنیادی نظریات اور حکمت عملی ضرور واضح ہونی چاہئیے، چلیں، آپ میں اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ آپ آمروں کی خرابیاں بیان کرسکیں کہ یہ ایسی کوئی حرکت آپ کو درپیش صورتحال کو بد سے بدترین بنا سکتی ہے تو کیا آپ اس روز اپنی کمیوں، کوتاہیوں اور خامیوں کا جائزہ بھی نہیں لے سکتے ، کیامشکل ترین وقت میں ساتھ دینے والے کارکنوں کو خراج تحسین بھی نہیں پیش کر سکتے، جی، یہ بات مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ان کارکنوں کو جمہوریت کے تمغے دئیے جا چکے جنہوں نے پرویز مشرف کی آمریت میں ماریں کھائی تھیں اور اب ہر برس انہیں سر پر چڑھانے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے مگر اس کے باوجود اتنا کہنا ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لئے سب سے بڑااثاثہ ان کے پس پردہ مقتدر حلقوں سے تعلقات کی بجائے ان کے کارکن ہی ہوتے ہیں کہ اگر اول الذکر کو اثاثہ مان لیا جاتا تو اس وقت سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ قاف ہوتی اور بے چاری جماعت اسلامی کوبھی اس کی خدمات کے پیش نظرکسی نہ کسی انعام سے نوازا جا چکا ہوتا۔ اب، جبکہ، مسلم لیگ نون نے اس مشکل صورتحال میں بارہ اکتوبر کو عملی طور پر یوم سیاہ نہ منا کے ایک بہت ہی مثبت پیغام دینے کی کوشش کی ہے تو میری کوشش بھی یہی ہے کہ حکومت میں ہونے کے باوجو د اپوزیشن کی مشکلات برداشت کرنے والی اس مظلوم جماعت کا پیغام مطلوبہ جگہ تک پہنچ جائے۔ کہتے ہیں خاموشی کی بھی ایک اپنی زبان ہوتی ہے اور اس حکمران جماعت کی خاموشی کی زبان بھی سنی جانی چاہئے، اس زبان کو سن کے وہ بہت سارے لوگ جو اس کے نام پربھنویں تان لیتے ہیں شائد ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آجائے اور یہ مسکراہٹ ان کے حسن اور سحر میں مزید اضافے کا باعث بنے۔