ذہنی صحت کا عالمی دن اور فاؤنٹین ہاؤس

کالم
ناصربشیر

ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے علاج کے لیے ڈاکٹر رشید چودھری مرحوم کے قائم کردہ ادارے فاؤنٹین ہاؤس کے بارے میں خداجانے ؐکس نے کہا تھا کہ اس میں داخل ہونے کا راستہ تو ہے، لیکن اس سے باہر نکلنے کا راستہ کوئی نہیں جانتا، جو ایک بار یہاں آتا ہے، یہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے، حتیٰ کہ جو ذہنی مریض یہاں علاج کے لئے آتے ہیں، صحت یاب ہونے کے بعد، وہ بھی فاؤنٹین ہاؤس سے اپنا رابطہ منقطع نہیں ہونے دیتے۔ آج سے کچھ برس پہلے میں اس ادارے کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے گیا تو اس کے مکینوں کی محبت، دل میں یوں بیٹھی کہ نکلنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ سو اب جب بھی مجھے فاؤنٹین ہاؤس کے مکین آواز دیتے ہیں، میں عقل والوں کی محفل چھوڑ کر ان کے روبروحاضر ہو جاتا ہوں۔
10اکتوبر کو جہاں دنیا بھر میں ذہنی صحت کا عالمی دن منایا گیا، وہاں ہمارے ملک کے کچھ اداروں نے بھی اس ضمن میں اپنے حصے کا چراغ جلانے کی کوشش کی۔ فاؤنٹین ہاؤس میں برادرم عثمان رشید چودھری نے ذہنی صحت کا عالمی دن منانے کا ڈول ڈالا تو مجھے بھی یاد کرلیا۔ شاید وہ جانتے ہیں کہ آج کے کرپشن، لوٹ مار، ملاوٹ، جھوٹ، بے ایمانی، دغابازی کے دور میں حرف و لفظ، خیال و معنی اور شعر و ادب کی بات کرنے والے جنونی، دیوانے، عاشق اور آشفتہ سر اکٹھے ہوں گے تو ذہنی امراض پر کوئی بہتر نقطۂ نظر سامنے آسکے گا۔ مجھے اپنے دوستوں سے ہمیشہ یہی گِلہ رہا ہے کہ وہ جب کسی مسئلے پر بات کرتے ہیں تو صرف اسی مسئلے کو زیر بحث لاتے ہیں جس طرح کسی بات کا سیاق و سباق ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر مسئلے کا بھی ایک سیاق و سباق ہوتا ہے۔ میرے سائیکالوجسٹ، یعنی ماہرین نفسیات دوست جواس تقریب میں موجود تھے، اُن سب نے نہایت تفصیل سے ذہنی صحت کے مسائل پر گفتگو کی۔ ان کی ماہرانہ رائے سے رتی برابر بھی اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔ میں سائیکالوجسٹ تو نہیں، البتہ سائیکلوجیکل ضرور ہوں۔اگر دکان دار میرے ہزار روپے میں سے اپنی چیز کی رقم کاٹ کر دو چار سو روپے زیادہ باقی دے دے تو میں فوراً واپس کردیتا ہوں۔ بینک جاؤں تو چاہے، کاؤنٹر پر میرا جاننے والا کوئی شخص ہی بیٹھا ہوا کیوں نہ ہو ہمیشہ قطار میں کھڑا ہوتا ہوں۔ اپنے سرکاری فرائض پوری تن دہی سے انجام دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ سچ بول کر نقصان اٹھا لیتا ہوں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑی بڑی خوشیاں کشید کر لیتا ہوں۔ ایسا آدمی سائیکلوجیکل کیس نہیں تو پھر کیا ہے؟ میں اپنے جیسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو عقل والوں کی نظر میں پاگل ہیں، دیوانے ہیں، مجنوں ہیں، آشفتہ سر ہیں، لیکن درحقیقت یہی اصل لوگ ہیں جو خاندانوں، قوموں اور ملکوں کا چہرہ ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن پچھلی دو تین دہائیوں میں ہمارے معاشرے نے دولت کی وہ ریل پیل دیکھی ہے کہ ساری اقدارہی بدل کررہ گئی ہیں۔ جو جتنا مال دار ہے، اتنا ہی معزز اور بہتر انسان سمجھا جاتا ہے۔
ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت بھی ضروری ہے، لیکن ہمارے ہاں لوگوں نے جسمانی صحت ہی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ کسی شخص کو جسم کے کسی حصے پر زخم لگ جائے تو دیکھنے والے اسے ترحم کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اسے سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسے ہسپتال لے جاتے ہیں تاکہ مرہم پٹی کروا کے اس کے درد کو کم کیا جاسکے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جسمانی زخموں کے علاج کے لئے ہمارے ملک میں اداروں کا جال بچھا ہوا ہے، لیکن اگر ہم کسی ایسے شخص کو دیکھیں جس کو کوئی ذہنی مرض لاحق ہو تو اسے ہم ترحم کی نظر سے نہیں، بلکہ تضحیک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کی ذہنی کمزوری پر قہقہے لگاتے ہیں۔ ہنسی اڑاتے ہیں۔ خود سے کم ترجانتے ہیں۔ اسے پاگل کہتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاگل وہ نہیں، ہم ہیں۔ وہ اگر ذہنی طور پر بیمار ہے تو اس سے کہیں زیادہ ہم بیمار ہیں۔ اس سے پہلے ہمارا علاج ہونا چاہیے۔ عثمان رشید چودھری صاحب جب ذہنی صحت کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم لوگوں کو یہی شعور اور آگاہی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کیا جائے۔ ان سے پیار کیا جائے نہ کہ اُن پر طنز کا وار کیا جائے۔
آج اگر ہمارا معاشرہ خرابیوں کا شکار ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ بظاہر جو لوگ معقول، معزز اور محترم نظر آتے ہیں، وہ دراصل بعض ایسے ذہنی امراض میں مبتلا ہیں جو انہیں پیسے، اقتدار اور جائیداد کی محبت میں قید کئے ہوئے ہیں۔ فاؤنٹین ہاؤس میں علاج کے لئے آئے ہوئے ذہنی مریض دراصل وہ لوگ ہیں جو اس معاشرے میں کسی ایک خرابی کے بھی ذمے دار نہیں۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جو اس معاشرے کی خرابیوں کو دیکھ کر پٹڑی سے اُتر گئے ہیں۔ میرے خیال میں عثمان رشید چودھری جیسے ماہرین نفسیات کو ان سیاست دانوں اور حکمرانوں کے دماغوں کا علاج کرنا چاہیے جو کرپشن، لوٹ مار اور کمیشن کو سیاست سمجھتے ہیں۔ انہیں ان نام نہاد مذہبی وڈیروں کا علاج کرنا چاہیے جو ہر مرض کا علاج بارود سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں ان عالمی ٹھیکیداروں کا علاج بھی کرنا چاہیے جو غریب، لیکن غیرت مند ملکوں اور قوموں کی خودمختاری سلب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمارے حکمران عالمی سطح کے ذہنی مریضوں کے پیروکار ہیں، اس لیے ان سے اچھے کی اُمید رکھی ہی نہیں جاسکتی۔ ہمارے سروں پر سوار لوگ چاہتے ہی نہیں کہ لوگوں کو اصل ذہنی امراض سے آگاہی حاصل ہو۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ اُن کی طرف مڑ کر دیکھنے کی کوشش ہی نہ کریں۔ بس یہ اپنا کام کرتے رہیں۔ میں نے عثمان رشید چودھری کے سامنے یہ تجویز رکھی ہے کہ آپ دماغی صحت کے زیادہ سے زیادہ ادارے بنانے کا مطالبہ مسلسل کرتے رہیں، کیونکہ جسمانی زخم تو کسی ایک شخص کو درد دیتا ہے یا ایک گھرانے کو متاثرکرتا ہے، لیکن ذہنی مرض میں مبتلا شخص قوموں اور نسلوں کے حال اور مستقبل کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے۔
ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے کی اس تقریب میں میرے دوستوں مظہر سلیم مجوکا، ڈاکٹر طارق جاوید، ڈاکٹر امجد طفیل اور عابد سلطان عابد نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں مجھے فاؤنٹین ہاؤس کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب کا ذکر کرنا ہے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب اگر بیمار نہ ہوتے تو یقیناً اس تقریب میں موجود ہوتے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کے کاندھوں پر اخوت اور فاؤنٹین ہاؤس کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کے کئی مالیاتی اداروں کا بوجھ بھی ہے۔ ان سے پہلے ڈاکٹر رشید چودھری مرحوم کے درد مند فرزندِ ارجمندہارون الرشید فاؤنٹین ہاؤس کے معاملات کو دیکھ رہے تھے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے چھوٹے بھائی عثمان رشید چودھری میں بھی وہ ساری خوبیاں اور صلاحیتیں موجود ہیں جو اس ادارے کو بلندیوں پر لے جاسکتی ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی ان خوبیوں اور صلاحیتوں سے کماحقہ، فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جارہا؟