سازشی تھیوریاں۔۔۔۔نئی حلقہ بندیوں کا’’کیچ‘‘

’’کپتان عمران خان چھ ماہ کی مدت کیلئے کسی ٹیکنوکریٹس سیٹ اپ کی حمایت کیلئے تو آمادہ ہیں لیکن ان کے اوپر دباؤ ہے کہ وہ کم از کم دو سال کی طوالت پر محیط کیئر ٹیکر سیٹ اپ کی حامی بھریں تو بات آگے چل سکتی ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں ‘‘۔ بھائی کیا یہ بے پرکی اڑا رہے ہیں کپتان نے کس فورم پر اس کا اظہار کیا ہے ؟ ہمیں تو ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں!میں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’ کپتان عمران خان کے ایک انتہائی قریبی معتمد نے چند دوستوں سے ملاقات میں یہ انکشاف کیاہے‘‘۔ اس اہم ملاقات سے واقف حال نے نہایت رازداری سے مجھے اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا ، میں نے اس واقف حال سے پھر استفسار کیا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ جیسی تیسی ایک حکومت ملک میں موجود ہے حکومت اپنی آئینی مدت پوری کریگی تو آئینی طریقے سے قائم شدہ نگران سیٹ اپ کے تحت آئندہ عام انتخابات کا انعقاد ہوجائیگا ۔’’زیر زمین ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ‘‘ کی تجویز کس طرح قابل عمل ہوگی ؟اس کا آئینی جوازکیسے ممکن ہے ؟واقف حال نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’جناب آپ بے خبری کا شکار ہیں ، حکومت روز بروز اپنی تاثیر کھورہی ہے ، ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے بطن سے ایک آئینی بحران جنم لے گاجس کی بناء پر ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ آجائیگا ‘‘، میں نے بات کاٹتے ہوئے پوچھا ‘‘ مثلاً! واقف حال نے جواب دیا مثلاً یہ کہ ’’ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر تابڑ توڑ الزامات کا سلسلہ بڑھ جائیگا، پارلیمنٹ کے اندر ایک بحران پیدا کیا جائیگا، اپوزیشن اس ضمن میں آلہ کار کا کردار ادا کریگی ، صورتحال اس حد تک خراب ہو جائیگی کہ صدر مملکت کو بالآخر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا آئینی مطالبہ کرنا پڑیگا، پھر کیا ، جو گرز تیار ہیں سیٹی بجنے پر 40جوگروں کے جوڑے بھی استعمال ہوگئے تو کام بن جائیگا ایک ایسا بحران پیدا ہوگا کہ ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ کی راہ ہموار ہوجائیگی ‘‘۔


اس طرح کی سینہ گزٹ معلومات کی شیئرنگ اور اس پر تبصرے و تجزیے دارالحکومت میں ہر شخص کر رہاہے ،میں نے پارلیمنٹ میں ایک جہاں دیدہ شخصیت کی رائے جاننے کیلئے تبصرہ کیا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ لاہور اور رائے ونڈ کے تناظر میں اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی بات تو ایک افواہ ہی ثابت ہوئی ، میں نے بات بڑھاتے ہوئے کہا کہ رائے ونڈ اجلاس کے بعد شریف خاندان کے قریبی اور بااعتماد وزیر خواجہ سعد رفیق نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بات پر شدید تنقید کی ہے ،اس شخصیت نے کچھ دیر کے توقف کے بعد جواباًکہا کہ اگر اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کی جھوٹی باتیں چل پڑی ہیں تو ایسی باتوں کا پاکستان کے معروضی سیاسی حالات میں سینیٹ انتخابات سے قبل سچ ہوجانا خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ،پاکستان پیپلزپارٹی اس حوالے سے اہم مہرا ثابت ہوسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایم کیو ایم اورپاک سر زمین پارٹی کے مابین جبری شادی کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا ،شائد ایم کیو ایم اور پاک سر زمین پارٹی کے سیاسی بندھن کی اہم پیشرفت پاکستان پیپلزپارٹی کیلئے غیر متوقع تھی شائد اسی لئے پیپلزپارٹی کے رد عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انہیں اس ملاپ سے صدمہ ہوا لیکن انہوں نے وثوق سے کہا کہ اس واقعے کے باوجود پاکستان مسلم لیگ ن کے حوالے سے پیپلزپارٹی این آر او ٹو کی طرف پیش قدمی جاری رکھے گی ،کیونکہ پیپلزپارٹی کی سیاسی تال کا میل بھی اسی سر کے ساتھ ہے جس پر ایم کیوایم اور پاک سر زمین پارٹی نے راگ الاپا۔


تاہم دارالحکومت میں بعض لوگ یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی مقتدر حلقوں کے ساتھ کوئی سنجیدہ انڈر سٹینڈنگ نہیں لیکن یہ پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن کی محاذ آرائی کی پالیسی کے نتیجہ میں پیدا ہونیوالی صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے اپنے آپ کوشرف قبولیت کیلئے پیش کررہی ہے ، پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ کراچی کی حالیہ سیاسی شکست و ریخت کے تناظر میں وہ سندھ سے کم ازکم 40قومی اسمبلی کی نشستیں جیب میں رکھ کر آئندہ انتخابی مہم میں نکلیں گے اگر باقی تینوں صوبوں سے 10سے 20نشستیں حاصل کر لیتے ہیں تو وہ آئندہ کے سیٹ اپ میں ایک اہم پاور پلیئر ہونگے ، دور کی کوڑیاں لانے والے تو آئندہ ایک ممکنہ معلق پارلیمنٹ میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مابین کسی مفاہمت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دے رہے، یہی وہ پس منظر ہے جس کی بنا پر پاکستان پیپلزپارٹی کے نئی مردم شماری کے نتیجہ میں نئی حلقہ بندیوں کے معاملہ پر پارلیمنٹ میں ایک spoiler کے کردار کو سمجھا جاسکتاہے ۔


دارالحکومت میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ آئندہ کے بنتے بگڑتے حالات کا سارا ’’کیچ ‘‘نئی انتخابی حلقہ بندیوں میں ہی ہے یہ ایشوہر دو صورت میں متنازعہ رہے گا اور اس کے نتیجہ میں پیدا کردہ صورتحال سے نپٹنے کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا نے کی ضرورت پیش آسکتی ہے ، نئی مردم شماری کے نتیجہ میں تازہ حلقہ بندیوں کا معاملہ ایک ایسا پھندا ہے جس کی زد میں حکومت، اسمبلیاں اور الیکشن کچھ بھی آسکتاہے اور بوقت ضرورت ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ کے قیام کا دیرینہ خواب پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔


اسلام آباد میں سازشی تھیوریوں کی گہری گھٹا چھائی ہوئی ہے، بعض حلقوں میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر حکومت دسمبر گزارگئی تو پھر سینٹ الیکشن کے انعقاد کے امکانا ت بڑھ جائیں گے ،تاہم سینٹ الیکشن تک کے سفر میں ن لیگ کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے ،کراچی میں ایم کیو ایم اور پاک سرزمین کے مابین جبری سیاسی بندھن جیسی مزید پیش رفت بھی سامنے آسکتی ہیں۔سینٹ اورآئندہ عام انتخابات تک بہت سے نئے غیر متوقع ایونٹس برپاہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں ملکی سیاست کوئی نیا رخ بھی اختیار کرسکتی ہے۔