غنڈہ آرڈیننس1959ء

فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں متعارف کروائے جانے والے قوانین کی فہرست کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک دلچسپ قانون یعنی غنڈہ آرڈیننس 1959پر نظر پڑی تو تجسس پیدا ہوا کہ اس کی تفصیلات دیکھی جائیں کہ آخر ایسا قانون بنانے کی کیوں ضرورت پڑی ۔ اس آرڈیننس کی ورق گردانی کرتے ہوئے اس کی شق 13پر نظر پڑی جس کے مطابق کوئی بھی ایساشخص غنڈہ قرار دیا جا ئے گا،جو-:
1نشے میں دھت رہتا ہو اور عوامی امن تباہ کرنے کے درپے ہو
2پبلک میں گندی زبان اور گالم گلوچ کا استعمال عام کرتا ہو
3 18سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو شراب نوشی، جوایا غیر اخلاقی رویہ اختیار کرنے کی طرف راغب کرتا ہو
4لوگوں، بالخصوص 18سال سے کم خواتین یا افراد، کو تنگ کرتا ہو اور ان کی بے حرمتی پر آمادہ ہو
5خواتین کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتا ہو ، ان پر آوازے کستا ہو یااشارے کرتا ہو، ان کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتا ہو
6پرائے پنگوں میں ٹانگ اڑا کر دنگا فساد کا عادی ہو


7لوگوں کو یا کسی ایک گروہ کو خوفزدہ کرنے کے لئے زبانی یا تحریری دھمکیاں دیتا ہواورجھوٹی باتیں ، افواہیں یا رپورٹیں گھڑتا ہو
8تعزیرات پاکستان کی دفعہ 503کے مطابق مجرمانہ دھمکیاں دیتا ہو
9لوگوں کو ڈرا دھمکا کر رقومات یا جائیدادیں بٹور تا اور ناجائز نوازشات پر زندگی بسر کرتا ہو
10عمومی طور پر قانون شکن ہو اور عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کا عادی ہو
11کسی غنڈے کو پناہ دیتا ہو۔


غنڈہ آرڈیننس 1959کے مطابق ایسے کسی بھی شخص کو جس میں متذکرہ بالا خباثتیں بدرجہ اتم موجود ہوں لازمی طور پر غنڈہ قرار دیا جائے گا اور اس کا نام بھی غنڈوں کی سرکاری فہرست میں شائع کیا جائے گا۔ آرڈیننس کی دفعہ 13کی اس کارروائی کے بعد دفعہ 14کے مطابق سرکاری طور پر غنڈہ قرار دیئے جانے والے شخص کے لئے لازمی ہوگا کہ وہ مچلکہ بھر کر دے کہ وہ علاقے میں اچھا رویہ اپنا کر رکھے گا۔نابالغ ہونے کی صورت میں اس کو ضمانتی بھی فراہم کرنا پڑے گا۔ ضمانتی شخص غنڈے کے جملہ رویے کا ذمہ دار تصور کیاجائے گااور اگر غنڈہ مچلکہ بھرنے سے انکاری ہو یا ضمانت فراہم کرنے سے قاصر ہو تو اسے تھانے میں بند کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے تا آنکہ وہ مطلوبہ قانونی تقاضے پورے کر دے۔


آرڈیننس کے تحت غنڈوں کو خاص حدود سے باہر جانے کی اجازت نہ ہوتی تھی ۔عدالتی حکم کے تحت انہیں مخصوص علاقے تک محدود رہنا پڑتا تھا ۔ وہ بغیر تحریری اجازت کے سکولوں، کالجوں اور دیگر ایسی جگہوں پر نہیں جاسکتے تھے جہاں 18سال سے کم عمر نوجوان یا خواتین زیر تعلیم ہوں یا کوئی تربیت لے رہے ہوںیا پھر عارضی یا مستقل بنیادوں پر مقیم ہوں۔ جو شخص بھی غنڈہ قرار دے دیا جاتا تھا وہ تین سال تک تھیٹر، سینما، میلوں، پارکوں سمیت دیگر عوامی تفریحی مقامات ، عوامی ہالوں، ریستورانوں، چائے خانوں، سرکاری اور نجی پارکوں اور باغوں، کھیل کے میدانوں، عوامی اجتماعات اور میلوں ٹھیلوں میں شریک نہیں ہوسکتا تھا ۔


غنڈہ آرڈیننس 1959کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قانون بنانے والوں کا مطمح نظر معاشرے کے نوجوانوں اور خواتین کو بداخلاقی، یاوہ گوئی ، بے ہودگی اور دیگر قباحات سے محفوظ رکھنا ہوتا تھا لیکن آج کے معاشرے پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر کوئی یاوہ گوئی ، بہتان تراشی، الزامات کے پراپیگنڈے اور جھوٹ کے کاروبار میں گھٹنوں گھٹنوں لت پت ہے ۔معاشرے کا ہر طبقہ بشمول سیاستدان، وکلاء، صحافی، علماء، اساتذہ، تاجر ، سرکاری وہ غیر سرکاری ملازمین کی اکثریت غنڈہ آرڈیننس 1959کی زد میں آتی ہے اور قابل گرفت ہے۔ہمارا معاشرہ چور اچکا چوہدری تے غنڈی رن پردھان کی عملی تصویر بنا ہوا ہے۔


یادش بخیر راقم نے ایک مرتبہ معروف کالم نگار اور تجزیہ کار(جو اپنی بے باکی اور بازاری زبان کی وجہ سے شہرہ رکھتے ہیں ) کو انٹرویو کیا۔ہمارا اصرار تھا کہ موصوف نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے عوام کی زبان خراب کردی ہے کیونکہ موصوف ہر بات میں گھٹیا، ذلیل، بے شرم، بے حیا ، حرامی اور خداجانے کون کون سے بازاری الفاظ عام استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا اصرار تھا کہ یہ معاشرہ اسی قابل ہے ۔ ان کے ہمراہ ان کی کم سن صاحبزادی بھی تشریف رکھتی تھیں، راقم نے اس سے دریافت کیا کہ بیٹی کبھی آپ نے اپنے بابا سے کہا ہے کہ تم بکواس کرتے ہو، جھوٹ بکتے ہو ۔ ابھی اتنا ہی پوچھا تھا کہ وہ مجھ پر چڑھ دوڑے کہ اس بچی سے ایسا سوال مت کرو، ابھی اس کی عمر ایسی نہیں ہے کہ ان سوالوں کا جواب دے سکے ، میرا جواب تھا کہ جناب نے میرے موقف کی تائید کردی کہ معاشرے میں سارے طبقے اس زبان درازی کے متحمل نہیں ہوسکتے جو انہوں نے اختیار کررکھی ہے ۔
ذرا بتائیے تو ملک کا کون سا سیاستدان غنڈہ آرڈیننس 1959کی دفعہ 13میں درج شرائط پر پورا اترتا ہے؟