اسماء الحسنیٰ

ڈاکٹر مسعود اقبال ساجد آنکھوں کے ڈاکٹر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رزق بینائی اور بصارت کے مسائل کے علاج سے وابستہ کر رکھا ہے،لیکن ان کی شہرت دِل میں اللہ کا خوف رکھنے والے معالج کی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاتھوں مریض لٹتے کم اور شفایاب زیادہ ہوتے ہیں۔جن ڈاکٹروں کی نظر اعمال صالح پر ہو، اُن کے دِل انسانیت کے درد سے مامور رہتے ہیں،جو ڈاکٹر بے سہارا مریضوں اور غم کے مارے انسانوں کی چارہ گری دولت کے لالچ میں نہیں کرتے، اللہ کریم ایسے ڈاکٹروں کو حد سے زیادہ نوازتا ہے۔مسعود اقبال ساجد بھی ایک ایسے ہی ڈاکٹر ہیں۔

اللہ کا یہ احسانِ عظیم ہے کہ مسعود اقبال ساجد کو قدرت نے بڑی فیاضی سے علم و حکمت اور شعور و فراست کی دولت سے بھی نوازا ہے۔ وہ ایک شاعر ہیں اور ان کا خزان�ۂ علم و دانش اللہ کی حمد لکھنے کے لئے وقف ہے۔ان کا مجموعۂ کلام اسماء الحسنیٰ ایک سو حمدیہ نظموں پر مشتمل ہے۔ مسلمانوں کے معبود برحق کا ذاتی نام اللہ ہے اور فرمانِ رسولؐ ہے کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اللہ کے بہت ہی اچھے اچھے نام ہیں اور تم ان ہی کے ذریعے اللہ کو پکارو۔ اللہ کے ہر نام کی اپنی اپنی الگ فضیلت ہے۔ان ناموں میں اللہ کی صفات بیان ہوئی ہیں۔مسعود اقبال ساجد کی منظومات پڑھتے ہوئے قاری کے دِل و دماغ میں اللہ پاک کی صفات کھلتی جاتی ہیں اور سینہ نورِ ایمان سے روشن ہو جاتا ہے۔مَیں نے بھی اپنے دِل کو سکون کی دولت سے مالا مال کرنے کے لئے کئی بار ڈاکٹر مسعود کی اِس کتاب کا مطالعہ کیا ہے۔دِلوں کو سکون اللہ کے ذکر ہی سے ملتا ہے اور آفات و عذاب سے محفوظ رہنے کے لئے بھی یہ نسخ�ۂ کیمیا ہے کہ آپ اللہ کے پیارے پیارے ناموں کو اپنے دِل کی دھڑکنوں میں بسا لیں۔فیض احمد فیض نے کہا تھا:
رات یوں دِل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
مسعود اقبال ساجد کی حمد کے اشعار پڑھ کر میرے دِل کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہو جاتی ہے، کیونکہ اللہ کے ذکر میں خیر ہی خیر ہے، سلامتی ہی سلامتی ہے۔ڈاکٹر مسعود کے اسلوبِ بیان کی خوبصورتی، برجستگی اور بے ساختگی، پھر موضوع سخن بھی اللہ کی صفات ہوں تو روح کا چمن رنگ و بو سے مہکتا ہُوا کیوں محسوس نہیں ہو گا۔ اللہ کی ذات انسان کے فکر و احساس کی محافظ ہے۔ اگر انسان اپنے جان و دِل اور روح اللہ کی نگہبانی میں دے دے تو وہ ساری زندگی بھٹک نہیں سکتا۔جس کو اللہ ہدایت کی راہ دکھا دے وہ گمراہ بھی کیسے ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اللہ رب العزت کے توصیفی ناموں کا ورد اپنا معمول بنا لیں تو اللہ خود آپ کی گفتار اور کردار کی حفاظت کرے گا اور جس انسان کے کردار و گفتار کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ قبول کر لیں پھر روزِ محشر وہ انسان سب سے زیادہ عدل و انصاف کرنے والے رب کی بارگاہ سے انعام و بخشش ہی کا مستحق ہو گا۔جس شخص کا یہ پختہ ایمان ہے کہ اُس نے ایک دن اپنے عدل پرور اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، وہ دُنیا میں اپنا ہر عمل میزان میں رکھ کر کرے گا اور کبھی افراط و تفریط کا شکار نہیں ہو گا۔۔۔ڈاکٹر مسعود اقبال ساجد کی اسماء الحسنیٰ پر لکھی ہوئی نظمیں ہمارے لئے سر چشمۂ رشد و ہدایت بھی ہیں۔اللہ کے ہر کام کی صفتیں،فضائل اور تاثیر بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر مسعود ہمیں یہ بھی بتاتے چلے جاتے ہیں کہ اگر ہم خطا کاری و سرکشی کے مرتکب ہوں گے تو پھر یہ یاد رکھنا ہو گا کہ اللہ کا ایک نام القہار بھی ہے،لیکن جو لوگ گناہ گاری اور غلط کاریوں کے بعد بھی احساس ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے سروں کو اللہ کی اطاعت میں جھکا دیتے اور اپنے کردار کی اصلاح کر لیتے ہیں تو پھر اللہ کی شان کریمی اور صفتِ رحیمی جوش میں آ جاتی اور ایسے لوگوں کے جرم و قصور معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے۔ ہمارے خالق کو کب یہ گوارا ہے کہ اس کا شاہکار یہ انسان دوزخ میں جائے۔وہ ہم ہی ہیں جو اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے ہیں،لیکن اللہ رحیم و کریم پھر بھی ہم پر رحم فرماتا ہے۔انسان پر اللہ کی عنایات اور مہربانیوں کی کوئی حد ہی نہیں،اللہ جو الوہاب بھی ہے، اس کی عطاؤں اور سخاوتوں کا شمار ممکن نہیں۔ذرا اللہ کی صفتِ رزاقی پر غور کریں۔ ربِ کریم کی فیاضیوں اور دلنوازیوں کا حساب لگائیں کہ وہ جب رزق تقسیم کرتا ہے تو پھر نیک و بد اور مومن و کافر میں تمیز نہیں کرتا۔اللہ جب سورج کو طلوع کا حکم دیتا ہے تو اس کی روشنی سے سارا عالم مستفید ہوتا ہے۔اِسی طرح جب اللہ دھرتی سے اناج اُگاتا ہے تو پھر کافر ہو یا مسلمان ، سب کی جھولیاں بھر دیتا ہے،لیکن اللہ تعالیٰ اگر کسی کو عقل و دانش اور ایمان کا رزق دے دے تو اس سے بہتر اور کوئی رزق نہیں۔جس کو ایمان کا رزق مل گیا پھر وہ رزقِ حلال پر ہی قناعت کرے گا۔

وہ رزقِ حلال جس کا حصول بجائے خود عبادت ہے۔ جو شخص اللہ کو پورے ایمان و یقین کے ساتھ الرزاق اور الباسط تسلیم کر لے، اُس کی نظر رزقِ حرام کی طرف نہیں اٹھتی،کیونکہ رزق کے سارے اسباب پیدا کرنے والا تو اللہ ہے۔ روزی کی وسعت و فراخی اور تنگی اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو اللہ خوشحالی اور شادمانی سے نواز دے پھر بھی وہ اگر رزقِ حرام کی اپنے دِل میں ہوس رکھے تو یہ ایک طرح سے کفرانِ نعمت ہے۔

ڈاکٹر مسعود کی حمدیہ نظموں کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ آپ کا اللہ کی صفات پر اعتقاد پختہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اللہ کے بابرکت ناموں کے فضائل اتنے دلکش پیرائے میں بیان کئے ہیں کہ ان نظموں کے ذریعے جو پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے، وہ خودبخود دِلوں میں اُترتا چلا جاتا ہے۔یہاں مَیں صرف اللہ کے ایک نام الخافض کی مثال دینا چاہتا ہوں۔۔۔ الخافض کے معنی ہیں پست کر دینے والا، ذلیل و خوار کرنے والا۔۔۔ڈاکٹر مسعود نے اللہ کے اِس نام کی تشریح و تفسیر کے لئے جو نظم کہی ہے،مَیں اس کا خلاصہ نثر کی صورت میں لکھ رہا ہوں۔’’اللہ چاہے تو بادشاہ ایک پَل میں فقیر ہو جائے اور بڑے بڑے نامور بے نشان ہو جائیں اور کیسے کیسے آسمان خاک میں مل جائیں۔اللہ چاہے تو پست کو سربلند کر دے اور سربلند کو پست کر دے۔ مفلس کو تو نگر کر دے اور امیر کو اس حد تک تباہ حال کر دے کہ وہ بے بسی اور بے کسی کی تصویر بن جائے۔ اللہ چاہے تو بڑے سے بڑے فرعونوں،شدادوں اور اصحاب فیل تک کو نشانِ عبرت بنا دے‘‘۔


ڈاکٹر مسعود کی یہ نظم تکبر،غرور اور نخوت سے بھرے ہوئے ہمارے حکمرانوں کے لئے بھی اپنے اندر ایک پیغام لئے ہوئے ہے کہ اللہ کو تکبرّ و غرور ہر گز پسند نہیں۔ قرآن میں فرعون،نمرود اور اصحابِ فیل کے واقعات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ایک پَل میں انہیں ذلیل و خوار کر دیا۔ جس طرح اللہ پست کرنے پر قادر ہے، اِسی طرح بے سہاروں اور کمزوروں کو رفعتیں اور عظمتیں بخشنے کی قدرت بھی اللہ ہی کے پاس ہے،کیونکہ وہ الرافع بھی ہے۔ اِسی طرح عزت و تکریم دینے والی ذات بھی اللہ کی ہے اور متکبر اور نافرمانوں کو ذلت کی سزا دینے والا بھی اللہ ہے۔

جاہ و منصب سے محروم کرنے والا بھی اللہ ہے اور جاہ و منصب سے معزول ہونے والوں کو بحال کرنے کا اختیار بھی اللہ ہی کو حاصل ہے۔اللہ کی ذات ہی حاکم مطلق ہے۔باقی دُنیا کے سارے حکمرانوں کی حکومتیں ناپائیدار،غیر مستحکم اور ٹوٹ جانے والی ہیں۔ یہ نکتہ اگر ہماری سمجھ میں آ جائے تو ہماری ساری کج روی دور ہو جائے۔۔۔آخر مَیں اللہ کے ایک صفاتی نام ’’الشکور‘‘ کا ذکر کر کے اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں۔اللہ اپنے بندوں کی بڑی قدر کرنے والا ہے اور وہ تھوڑے سے عمل پر بھی بے پناہ اجر دیتا ہے۔اگر ہم تھوڑا سا ہی خود کو اللہ کے احکام کے مطابق بدل لیں تو اللہ ہمیں خوشیوں کی ایسی جاگیر بخشے گا جس کے مقابل یہ دُنیاوی جاگیریں، یہ کارخانے، یہ محل چوبارے، یہ عارضی اقتدار اور یہ ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کے انبار سب کچھ آپ کو ہیچ اور بے کار نظر آئے گا۔وہ بے پناہ اور بے شمار دُنیاوی دولت، جس کا انجام کار ذلت کے سوا کچھ اور نہ ہو، آخر اس کا کیا فائدہ؟ اللہ سے کچھ مانگنا ہے تو اس سے اعمال صالح کی دولت مانگو اور جو مال و دولت اللہ نے تم کو دے رکھا ہے، وہ اللہ کی مجبور و بے بس مخلوق میں تقسیم کر کے دیکھو پھر اللہ کے جود و کرم کی بارش تم پر کیسے ہوتی ہے؟۔۔۔جو طلب کرنا ہے، اس رب کریم سے طلب کرو، جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ڈاکٹر مسعود اقبال ساجد کے منظوم کئے ہوئے اسماء الحسنیٰ کا بار بار ورد کر کے میری سمجھ میں تو یہی پیغام آیا ہے۔