امریکہ۔بھارت دفاعی اشتراک؟ (2)

مَیں نے دِل ہی دِل میں خوش ہونے کی جس چوتھی وجہ کا ذکر کل کے کالم کے آخر میں کیا تھا اس کا تعلق ایک عالمگیر صداقت (یونیورسل ٹروتھ) اور زبان زدِ خاص و عام ضرب المثل سے ہے جو اس طرح ہے کو گن نہیں بلکہ گن کے پیچھے فائر کرنے والا توپچی ہوتا ہے جو کاؤنٹ کرتا ہے اور نتیجے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔۔۔۔اگر اسلحہ جدید ترین ہو اور اس کو استعمال کرنے اور چلانے والا اس کو آپریٹ کرنے پر قادر نہ ہو تو اس اسلحہ کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔

تاریخِ جنگ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن میں ماڈرن ویپن کو چلانے والا اگر ویپن کے طریقِ استعمال سے واقف نہ ہو تو اس کا اثر الٹا ہوتا ہے۔یہ درست ہے کہ انڈیا کو امریکہ کی طرف سے بہت سا جدید اسلحہ مل رہا ہے اور مستقبل میں اور بھی ملنے والا ہے۔ انڈین وزیر دفاع نے کئی بار یہ بیان دیا ہے کہ ان کے ملک کا دفاعی انفراسٹرکچر پرانے روسی فوجی سازو سامان پر منحصر ہے اور وہ اُسی پرانے اسلحہ کے استعمال ہی کے لئے قائم کیا گیا تھا، لیکن سوویت یونین نے دُنیا کی دوسری سپر پاور ہونے کا اعزاز تو 1980ء کے عشرے ہی میں کھو دیا تھا۔ اس کی وجہ اگرچہ زیادہ اقتصادی تھی،لیکن ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ مغربی ممالک خاص کر امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کے چار عشروں میں اسلحہ سازی کے فن کو جس طرح ماڈرنائز کیا اس کا مقابلہ سوویت اسلحہ سازوں سے نہ ہو سکا۔ اسی لئے ان سے سپر پاور ہونے کا عالمی اعزاز چھن گیا اور وہ ایک علاقائی قوت بن کے رہ گئے۔اگر انڈیا بھی مستقبل قریب میں جدید امریکی اسلحہ خریدتا رہتا ہے اور اس کو وقفے و قفے سے تبدیل اور ماڈرنائز نہیں کرتا تو اس کی مثال بھی عرب ممالک جیسی ہو گی۔عربوں کے پاس سرمائے کی کمی نہیں اس لئے امریکہ ان کو جدید اسلحہ سے ’’مالا مال‘‘ کر چکا ہے اور امریکہ ہی پر منحصر نہیں،اس بندر بانٹ میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی خوب خوب ہاتھ رنگے ہیں، لیکن جب اس جدید اسلحہ کو آزمانے کا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ ان عربوں کی افواج اس اسلحہ کے اصل پوٹینشل کو ایکسپلائٹ کرنے پر قادر نہیں تھیں۔جب یمن پر جوابی وار کرنے کا وقت آیا تو عربوں نے پاکستان کی طرف دیکھا اور بعد میں سعودی فضائیہ نے جو امریکہ سے خریدے ہوئے جدید طیارے حاصل کئے تھے ان کو آپریٹ کرنے کے لئے امریکی اور مغربی قوتوں کی افرادی اور ٹیکنیکل سپورٹ کا سہارا لینا پڑا۔


جب صدام حسین کا عراق، امریکی یلغار کے سامنے گھٹنے ٹیک رہا تھا تو چاہئے تو یہ تھا کہ سعودی عرب آگے بڑھتا اور اپنے دیرینہ اتحادی کی یلغار سے پیدا ہونے والا خلا پُر کرتا لیکن ہم نے دیکھا کہ سعودی ٹک ٹک دیکھتے رہے اور ایران نے اس خلا کو پورا کر دیا۔آج بھی بغداد، موصل، کرکوک اور بصرہ پر کسی سعودی اثرو رسوخ کا کوئی نشان نہیں ملتا جبکہ ایرانی غلبہ ہر جگہ نمایاں ہے۔جب تک سعودی مسلح افواج جدید خطوط پر ٹریننگ حاصل نہیں کرتیں اور مرنے مارنے کے سخت امتحان سے نہیں گزرتیں تب تک امریکہ سے درآمد کیا جانے والا جدید ترین اسلحہ بھی ان کے کسی کام نہیں آ سکے گا۔

مغرب کے تاجر تو اسلحہ فروش ہیں، انہوں نے تو سامانِ جنگ فروخت کر کے مزید اور بہتر سامانِ جنگ تیار کرنا ہے اِسی لئے وہ لوگ کسی بھی ایشیائی یا افریقی ملک کو جدید اسلحہ تو دے سکتے ہیں لیکن اس کے استعمال کے لئے جو محنت اور جو قربانیاں ضروری ہوتی ہیں، وہ لوہے کے ڈھیر اور فولاد کے انبار خرید کر حاصل نہیں کی جا سکتیں۔


انڈین ملٹری کو اگرچہ پروفیشنل اعتبار سے عرب ملٹری سے تشبیہہ نہیں دینی چاہئے کہ انڈین ملٹری فورسز، آج کے جدید اسلحہ کو آپریٹ کرنے کی بنیادی اہلیت سے ایک حد تک مسلح ہیں لیکن انڈین ملٹری کا سوادِ اعظم (بڑا حصہ) ابھی اس لیول پر نہیں پہنچ سکا جو جدید ترین اسلحہ اور سازو سامانِ جنگ سے ہم قدم ہو سکے۔اس لئے انڈین ملٹری آنے والے کئی برسوں تک امریکی ٹیکنیکل ٹریننگ اور ٹیکٹیکل علم و فن(Know-how)کی محتاج رہے گی۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ محتاجی کا یہ دورانیہ اور سکیل عربوں اور افریقی افواج کے مقابلے میں کم ہو گا لیکن پھر بھی انڈیا، یورپی افواج کی ہمسری نہیں کر سکے گا اور جب تک نہیں کر سکے گا اُس وقت تک امریکی دائرہ اثر سے باہر نہیں نکل سکے گا۔۔۔پاکستان کو اس کا تلخ تجربہ ہے۔۔۔۔مَیں قارئین کے سامنے 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی ایک مثال رکھنا چاہوں گا:

1965ء کی جنگ پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے لیکن اس کے بعض ایسے پہلو اور بھی ہیں جو بوجوہ پوری طرح پاکستانی پبلک کے سامنے نہیں رکھے گئے۔ان میں ایک پہلو یہ کہ پاکستان اگرچہ انڈیا سے افواج کی تعداد، گولہ بارود کی مقدار اور رقبے اور آبادی کے حجم کے تناظر میں چار پانچ گنا کمتر تھا لیکن ایک برتری ایسی تھی جس کو اگر پوری طرح ایکسپلائٹ کیا جاتا تو اس جنگ کا نتیجہ پاکستان کے حق میں نکل سکتا تھا۔

سب جانتے ہیں کہ اس دعوے میں کوئی کلام نہیں کہ پاکستان کو ائر اور آرمر میں انڈیا پر ٹیکنیکل برتری حاصل تھی۔ پاک فضائیہ نے تو اپنی برتری ثابت کر دی اور انڈین ائر فورس کو آگے نہ نکلنے دیا،بلکہ ایسی لازوال مثالیں اور داستانیں رقم کیں جو آنے والی پاکستانی نسلوں کا لہو گرماتی رہیں گی۔لیکن پاکستانی آرمر (ٹینک فورس) کو جو برتری انڈین آرمر پر حاصل تھی اس سے کما حقہ فائدہ نہ اٹھایا گیا۔ پاکستان نے 8ستمبر 1965ء کو فرسٹ آرمرڈ ڈویژن سے کھیم کرن کے راستے امرتسر کی طرف جو جوابی یلغار کی تھی اگر وہ کامیاب ہو جاتی تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا جنگ کا نتیجہ پاکستان کے حق میں نکلتا۔


قارئین سے گزارش کروں گا کہ وہ 1965ء کی جنگ کی اس جوابی یلغار کی تفصیل ضرور پڑھیں جو 8،9 اور 10ستمبر 1965ء کو قصور۔ کھیم کرن محاذ کی طرف سے امرتسر کے خلاف لانچ کی گئی تھی۔ بقول کسے اس جوابی حملے کی کامیابی میں صرف ایک آنچ کی کسر باقی رہ گئی تھی۔ اور تو اور اس آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ہربخش سنگھ نے اپنی کتاب War Despatches میں جو کچھ لکھا ہے وہ ہمارے لئے چشم کشا بھی ہے اور سبق آموز بھی۔۔۔۔ جنرل ہربخش اس جنگ میں انڈیا کی ویسٹرن کمانڈ کے کمانڈر انچیف تھے۔ لاہور اور سیالکوٹ کے اہم ترین محاذوں پر یہ جنگ پاکستان کے خلاف انہوں نے ہی لڑی۔


وہ 1913ء میں پیدا ہوئے اور 35سال تک انڈین آرمی میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ اکتوبر 1947ء میں ان کی بٹالین (فرسٹ سکھ بٹالین) سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتری۔ اس وقت وہ بطور لیفٹیننٹ کرنل اس بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر تھے۔ وہ اگر اس کشمیر وار میں اپنی پروفیشنل مہارت کا مظاہرہ نہ کرتے تو کشمیر آج انڈیا کے پاس نہ ہوتا۔ اسی طرح قدرت نے دوسری بار ہربخش سنگھ کو 8ستمبر 1965ء میں ایک دوسرے موقع پر انڈیا کی ہاری ہوئی جنگ کو تعطل (Stalemate) میں تبدیل کرنے کا چانس دیا۔ یہ وہ دن تھا کہ انڈین آرمی چیف، جنرل چودھری نے خود انبالہ میں آکرمشورہ دیا تھا کہ پاکستان کی طرف سے فرسٹ آرمرڈ ڈویژن کی جوابی یلغار کی وجہ سے انڈین آرمی پر جو دباؤ ہے وہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اپنی کمانڈ کو اس محاذ پر ری ایڈجسٹ کرکے پیچھے لے جائیں۔ اگر ہربخش اپنے چیف کی یہ تجویز مان لیتے تو انڈین فوج کو اس محاذ پر یقینی پسپائی کا سامنا ہوتا اور پوری جنگ کا منظر نامہ تبدیل ہو کر رہ جاتا۔لیکن ہربخش سنگھ ڈٹ گئے۔ قدرت نے بھی ان کی مدد کی۔۔۔ اور اس مدد میں وہ عنصر بھی شامل تھا جو اس کالم کا موضوع ہے یعنی اگر اسلحہ جدید ہو اور ٹیکنیکل نوعیت کی باریکیوں سے لیس ہو تو اس کو آپریٹ کرنے والوں کے لئے ویسی ہی مہارتِ تامہ بھی درکار ہوتی ہے۔

پاکستان کے پاس فرسٹ آرمرڈ ڈویژن میں جوٹینک فورس تھی وہ پیٹن (Patton) اور چیفٹن ٹینکوں پر مشتمل تھی جن کے مقابلے کا کوئی ٹینک، انڈین آرمی میں نہیں تھا۔پاکستان کو جب یہ ٹینک امریکہ نے دیئے تھے تو ان میں رات کی تاریکی میں بھی آپریٹ کرنے کی صلاحیت تھی۔تاہم انفرا ریڈ ٹیکنالوجی کی برتری سے کام نہ لیا گیا (یا نہ لیا جا سکا)جس کو سمجھنے اور اس پر قدرت حاصل کرنے میں پاکستانی ٹینک عملہ ناکام رہا۔۔۔ یہ ایک طویل داستان ہے۔۔۔
نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ہمارے ٹینک جب امرتسر کی طرف بڑھ رہے تھے تو ایک تو راستے میں انڈیا نے اپنی ایک نہر توڑ کر ٹینک ایڈوانس کی راہ میں ایک آبی رکاوٹ حائل کر دی اور اس بھاری بھر ٹینک(Patton) کو کیچڑ میں پھنس کر رہ جانا پڑا اور دوسرے ٹینک کے ڈرائیوروں اور توپچیوں کو مختلف ٹیکٹیکل صورتوں میں پیٹن کو استعمال کرنے کا وہ طریقہ سلیقہ نہ آیا،جس کی ضرورت تھی اور جس کے نتیجے میں ہمارے فرسٹ آرمرڈ ڈویژن کے 75پاکستانی پیٹن اور چیفی ٹینک انڈین ٹینک شکن توپخانے کا شکار ہو گئے!۔۔۔ یہ لڑائی9ستمبر1965ء کو ’’اسل اتر‘‘ کے مقام پر لڑی گئی تھی۔ بعد میں بھارتیوں نے اپنے اس گاؤں کا نام ’’پیٹن نگر‘‘ رکھ دیا۔۔۔ پاکستانی آرمر کو اسل اتر کی اس لڑائی میں جس ناکامی کا سامنا ہوا اس کی اصل وجہ یہی تھی کہ باوجود اس کے کہ یہ ٹینک دنیا کا مانا ہوا اور جدید ترین ٹینک تھا لیکن چونکہ پاکستانی ٹینک کریو (Tank Crew) اس کو پوری طرح آپریٹ کرنے کا اہل نہ تھا اس لئے یہ ہتھیار بجائے اثاثہ (Assett)کے ذمہ داری (Liability)بن گیا۔


یہی ’’حادثہ‘‘ مستقبل میں انڈین ملٹری کو بھی پیش آ سکتا ہے۔ انڈین ملٹری کی اساس ابھی تکنیکی لحاظ سے اس لیول تک نہیں پہنچی کہ جدید ترین اور سٹیٹ آف دی آرٹ امریکی اسلحہ کو کماحقہ استعمال اور ایکسپلائٹ کر سکے۔ میں سمجھتا ہوں اگر انڈین آرمی کو چین اور پاکستان کی مشترکہ افواج کا سامنا ہوا تو انڈیا کا یہ اربوں ڈالر کا جدید اسلحہ اس کے گلے کا ہار بھی بن سکتا ہے۔۔۔ اس لئے بھارتی مشتری کو ہوشیار رہنا چاہیے!