تو اپنی سرگزشت اب اپنے قلم سے لکھ!

کیپٹن جنید حفیظ اور سپاہی رحم، کل باجوڑ ایجنسی میں آپریشنز کے دوران شہید ہوگئے۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔ کیپٹن جنید حفیظ (پاکستان آرمی نمبر52806) فرنٹیئر کور (نارتھ) کی ایک بٹالین سے منسلک تھے اور 128ویں لانگ کورس کے فارغ التحصیل تھے۔

دورانِ ٹریننگ پی ایم اے میں اپنی کمپنی کے، کمپنی سینئر انڈر آفیسر (CSUO) رہے اور پیشہ ورانہ اور دیگر پہلوؤں میں نمایاں حیثیت سے پاس آؤٹ ہوئے ۔ نہائت نڈر، بے باک اور دلیر آفیسر تھے۔۔۔ شمشیرِشہادت ایسے ہی باکمال افراد کا انتخاب کرتی ہے!


امریکی جرنیلوں اور ان کے صدر کا بظاہر موقف یہ ہے کہ دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے اب بھی فاٹا میں موجود ہیں اور ہمارا کاؤنٹر موقف یہ ہے کہ یہ ٹھکانے پاکستان میں نہیں، افغانستان میں ہیں۔

پاکستان نے بارہا پیشکش کی ہے کہ ہمیں ہارڈ انٹیلی جنس فراہم کی جائے کہ فلاں جگہ فلاں دہشت گرد گروپ موجود ہے تو ہم اس کے خلاف فوری ایکشن لیں گے جس کو امریکہ اگر چاہے تو اپنے طور پر اپنی برتر ٹیکنیکل اہلیت کی بناء پر مانیٹر کر سکتا ہے کہ ہم نے ایکشن لیا ہے یا نہیں۔

امریکہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان کا موقف درست ہے اور دہشت گردوں کے اصل ٹھکانے اور مستورگاہیں (Hide-outs) افغانستان میں ہیں۔

کیپٹن جنید حفیظ اور سپاہی رحم کی شہادتیں اور اس سے پہلے بھی پاکستان کے کئی افسروں اور جوانوں کی شہادتیں اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ جن ٹھکانوں کی امریکہ بات کرتا ہے وہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر افغانستان میں ہیں، پاکستان میں نہیں۔

پاکستان آرمی کی یہ قربانیاں امریکی صدر ٹرمپ کے اس موقف کی تکذیب کر رہی ہیں جو انہوں نے تین ماہ قبل اگست 2017ء میں افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے دنیا کے سامنے پیش کی تھی اور پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ یا تو اپنے ہاں سے دہشت گروں کے ٹھکانے ختم کرو وگرنہ۔۔۔؟ لیکن اب ٹرمپ ہی نہیں، ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکی موقف غلط اور پاکستانی موقف مبنی برصداقت ہے۔


آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اپنی طرف پاک افغان سرحد پر باڑ لگا رہا ہے۔ اس موضوع پر راقم الحروف نے ایک سے زیادہ بار اس باڑ کی تفصیلات بتائی ہیں۔ باجوڑ سے طورخم تک کی ٹیرین چونکہ انتہائی دشوار گزار ہے اور اس کا فطری جھکاؤ (Natural Layout) افغانستان کے حق میں اور پاکستان کے خلاف ہے اس لئے پاکستان کو اس باڑ کی تعمیر میں خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔

جس پوسٹ پر کیپٹن جنید اور سپاہی رحم شہید ہوئے ہیں (اور کئی اور جوان زخمی ہوئے) وہ پاکستان کی اسی زمینی محدودیت (Terrain Limitation)کے سبب ہوئے۔ یہی وہ مقامات ہیں جن کو عبور کرکے افغان طالبان، پاکستان میں دَر آتے اور تباہی مچاتے رہے ہیں۔ آج بھی اس 2600کلومیٹر طویل سرحد پر افغانستان کی طرف کئی سیکیورٹی گیپ ہیں۔ یہ بارڈر چونکہ پورس ہے اس لئے جگہ جگہ سے آمد و رفت ہو سکتی ہے۔

ان خفیہ اور ظاہرا، راستوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ مگر جب دو سال بعد یہ باڑ مکمل ہو جائے گی تو صرف 16راستے ایسے ہوں گے جن کو باآسانی مانیٹر کیا جا سکے گا۔ اب اس باڑ پر واقع متعدد (975) قلعے (Posts) جو زیر تعمیر ہیں، ان میں دہشت گردوں کو اپنی موت نظر آ رہی ہے۔

ان پر یہ حقیقت اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کہ جب یہ باڑ اور یہ قلعے مکمل ہو جائیں گے تو ان کا وہ کھیل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا جو وہ اور ان کے آباؤ اجداد ایک طویل مدت سے کھیلتے آئے تھے۔ پاکستانی پوسٹوں پر یہ حملے افغان مزاحمت کاروں کے بجھتے چراغ کی آخر لو بھی کہے جانے چاہیں۔

پاکستان آرمی نے وہ علاقہ بھی جس میں کل یہ شہادتیں واقع ہوئی تھیں، دہشت گردوں سے کلیئر کروا کر وہاں مزید کمکی دستے بھیج دیئے ہیں۔ اس باڑ اور ان پوسٹوں کی مستقل نگرانی کے لئے فرنٹیئر کور کے 73نئے ونگ (یونٹیں) کھڑے کئے جا رہے ہیں۔

ان علاقوں میں آج کا یہ دورِ پُرآشوب گویا ایک عبوری دور ہے اور اس میں اسی طرح کے حادثات متوقع تھے بلکہ قوم کو مزید ایسی قربانیوں کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا۔

پاکستان آرمی اور قوم کی یہ قربانیاں آنے والی نسلوں کو یاد دلاتی رہیں گی کہ اس فتنہ انگیز دور میں اس کے بزرگوں نے اپنے حال کو اپنے مستقبل پر کس طرح نچھاور کر دیا تھا!افغانستان اپنی جانب کے ان سرحدی علاقوں میں ایسے اقدامات نہیں اٹھا رہا جو اس سرحد کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ اس کی مشکلات کا ہمیں بھی احساس ہے۔


افغانستان کو اپنی طرف کی اس دہشت گردی ختم کرنے میں ایک اور قسم کی مشکل کا سامنا بھی ہے۔ یہ مشکل مطلوبہ کاؤنٹر فورس کی عدم فراہمی ہے۔ ستم یہ بھی ہے کہ اس مشکل کا مستقبل قریب میں کوئی حل بھی افغانستان یا امریکہ کے پاس نہیں۔

میں اگلے روز ایک انگریزی روزنامے میں ایک سٹوری دیکھ رہا تھا جو برسلز سے کسی نامہ نگار نے فائل کی ہے۔ برسلز، بلجیم کا دارالحکومت اور ناٹو فورسز کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان فورسز کی قوت اور جمعیت کا جتنا قلیل سکیل اور کمتر لیول اس وقت موجود ہے اتنا 2001ء میں اس جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک کبھی نہیں تھا۔طالبان ، امریکی ٹروپس کے مقابلے میں آج ایک ایسی فورس بن چکے ہیں جس کا سامنا کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس نفری کی وہ تعداد موجود نہیں جو اس جنگ کے کسی مثبت نتیجے کا باعث بن سکے۔

گزشتہ ہفتے، افغانستان میں امریکہ کے سینئر ترین کمانڈر، جنرل نکولسن جونیئر، برسلز میں تھے۔ انہوں نے وہاں جا کر ناٹو ہیڈکوارٹر میں یہ رونا رویا کہ ان کو مزید ٹروپس دیئے جائیں کیونکہ موجودہ ٹروپس لیول، طالبان فورسز کی ’’سرکوبی‘‘ نہیں کر سکتا۔۔۔


ہائے اس زودپشیماں کا پشیماں ہونا۔۔۔ (دیکھئے دی نیو یارک ٹائمز 13نومبر 2017ء صفحہ نمبر7)
امریکی وزارت دفاع کے مطابق اس وقت افغانستان میں غیر ملکی فورسز (امریکی اور ناٹو) کی تعداد 14000ہے جس میں 6500ٹروپس ناٹو ممالک کے ہیں اور 7500امریکی ہیں۔

امریکہ اس سے زیادہ ٹروپس کابل میں نہیں لا سکتا اور امید لگائے بیٹھا ہے کہ ناٹو فورسز وہ اضافی نفری بھیجیں گے جس کی یہاں شدید ضرورت ہے۔۔۔ یہ شدید ضرورت اس لئے ہے کہ طالبان کی مزاحمت شدید ہے!


جنرل نکولسن نے برسلز جا کر یہ فریاد بھی کی ہے کہ : ’’میں نے فروری میں مزید ٹروپس کی درخواست کی تھی لیکن وزارت دفاع نے صرف 3000ٹروپس کابل بھجوائے۔

اور ناٹو کی طرف سے تو ابھی تک کوئی جواب ہی نہیں ملا‘‘۔۔۔ ان کے علاوہ آج کل امریکی یورپی کمانڈ اور (یورپ میں) ناٹو کا سپریم الائیڈ کمانڈر بھی ایک امریکی جنرل ہے جس کا نام جنرل کرٹس سکاپاروٹی (Scaparrotti) ہے، اس کا رونا دھونا بھی یہی ہے۔

وہ کہتا ہے: ’’اضافی دستے افغانستان میں بھیجنا اگرچہ مشکل ہے لیکن ناٹو اقوام کو یہ کڑوی گولی نگلنی پڑے گی‘‘۔۔۔۔ اور جنرل نکولسن کے بیان کی یہ سطور بھی ’’آبِ زر‘‘ سے لکھی جانی چاہئیں: ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اتحادی جلد سے جلد کابل پہنچیں اور ان فرائض کو سنبھالیں جو ہم وہاں ادا کررہے ہیں تاکہ ہم امریکی وہ فرائض انجام دے سکیں جو صرف امریکی ہی ادا کر سکتے ہیں، ہمارے اتحادی نہیں!‘‘۔۔۔ بندہ پوچھے وہ کون سے ’’فرائض‘‘ ہیں جو صرف امریکی ٹروپس ہی ادا کر سکتے ہیں، ناٹو ٹروپس نہیں۔۔۔ جنرل نکولسن کا اشارہ شائد اس طرف ہے کہ امریکہ، افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کو جو ٹریننگ دے رہا ہے، وہ ڈیوٹی صرف امریکہ ہی ادا کر سکتا ہے، دوسرے اتحادی انسٹرکٹر نہیں۔ دوسرے لفظوں میں جنرل نکولسن اتحادی ٹروپس کو اگلے مورچوں میں طالبان کے خلاف بھیجنا چاہتے ہیں اور قارئین کرام! یہی وہ فرائض ہیں جو ناٹو فورسز ادا کرنے سے گریزاں ہیں۔۔۔ ان کو وہ حشر نہیں بھول سکتا جو ماضیء قریب میں (2006ء سے 2014ء تک) طالبان نے ان کا کر دیا تھا۔


ویسے تو جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد سے لے کر آج تک (1945ء تاحال) امریکہ کو کوریا، ویت نام، عراق اور لیبیا میں اپنے لاکھوں ٹروپس مروانے اور مزید لاکھوں زخمی کروانے کا’’لازوال تجربہ‘‘ حاصل ہے لیکن افغان وار کا 16سالہ تجربہ اس سے بھی زیادہ لازوال اور بے مثال ثابت ہوا ہے۔

افغانستان میں امریکہ اگرچہ اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ لڑ رہا ہے مگر افغانوں نے امریکی اور ناٹو ٹروپس کو گزشتہ 16،17برسوں میں ایسا سبق سکھایا ہے جو اس کے گزشتہ تجرباتِ جنگ سے کہیں زیادہ لرزہ خیز اور سبق آموز ہے۔ افغانستان سے زخمی ہو کر واپس امریکہ جانے والے ’’پرانے فوجیوں‘‘ (Vetrans) کی شرحِ خودکشی 365نفر سالانہ ہے۔ یعنی ہر روز ایک اپاہج فوجی، افغانستان کے کوہ و دمن سے واپس امریکہ اور یورپ جانے کے بعد زندہ نہیں رہنا چاہتا اور خودکشی کر رہا ہے۔۔۔ یہی وہ عبرتناک انجام ہے جو ناٹو ممالک کے زخمی اور اپاہج ہو جانے والے سابق زندہ فوجیوں کو یاد ہے اور یہی سبب ہے کہ ناٹو اتحادیوں میں سے کوئی بھی ملک اپنے فوجی دستے کابل بھیجنا نہیں چاہتا۔


پاکستان بھی اس افغان جنگ کے دوران اپنے 74000فوجی اور سویلین افراد کی قربانی دے چکا ہے۔ لیکن آفرین ہے پاکستانی فوج اور پاکستانی قوم پر کہ ان کے حوصلے پست نہیں ہو سکے۔ وہ دن دور نہیں جب پاک افغان سرحد پر اس باڑ کی تکمیل کے بعد افغانستان کے شرپسندوں اور اس کے محفوظ ٹھکانوں (Safe Havens) میں بیٹھے دہشت گردوں کو یا تو اپنے صدیوں کے اپنائے ہوئے پروفیشن کو ترک کرنا پڑے گا یا اپنے نیست و نابود ہونے کی داستان خود اپنے قلم سے لکھنا پڑے گی!